سورۃ عبس — حصہ ٢
آیات ١٠–١٨ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ عبس — حصہ ٢ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ عبس، آیت ١٠
فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ جملے کی ترکیب یہ دوسری قسم کا جواب ہے۔ أَنتَ مبتدا، تَلَهَّىٰ کا جملہ خبر اور عَنْهُ فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ پھر بھی اس وقت اس سے بے التفاتی ہوگئی۔ فَأَنتَ — تو آپ گرامر: فَ فاءِ جوابِ أَمَّا ہے۔ أَنتَ ضمیرِ منفصل اور مبتدا ہے۔ عَنْهُ — اس سے گرامر: عَنْ حرفِ جر؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ ساتھ لگا هُ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر غائب، نحوی حیثیت اسمِ مجرور۔ تَلَهَّىٰ — بےرخی برتتے ہیں گرامر: بابِ تفعّل کا فعلِ مضارع، واحد مذکر حاضر اور مرفوع ہے؛ اصل تَتَلَهَّىٰ تھا جس کی ایک ابتدائی تاء حذف ہوئی، اور فاعل مستتر أَنتَ ہے۔
2. سورۃ عبس، آیت ١١
كَلَّآ إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ جملے کی ترکیب كَلَّآ حرفِ ردع ہے۔ إِنَّهَا میں ضمیر اسمِ إن اور تَذْكِرَةٌ خبرِ إن ہے۔ آیت کا خلاصہ قرآن ایک عام نصیحت ہے اور کسی متکبر کی قبولیت کا محتاج نہیں۔ كَلَّآ — ہرگز نہیں گرامر: كَلَّآ حرفِ ردع ہے۔ إِنَّهَا — بیشک وہ گرامر: إِنَّ حرفِ نصب و تاکید ہے، اور ساتھ لگی هَا اس کا اسم ہے۔ تَذْكِرَةٌۭ — ایک نصیحت ہے گرامر: مرفوع، اسم؛ نحوی حیثیت خبرِ إن۔
3. سورۃ عبس، آیت ١٢
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ جملے کی ترکیب مَن اسمِ شرط، شَآءَ فعلِ شرط اور ذَكَرَهُۥ جوابِ شرط ہے؛ آخری ضمیر مفعول بہ ہے۔ آیت کا خلاصہ جو شخص اپنا فائدہ چاہے وہ اس نصیحت کو یاد رکھے۔ فَمَن — تو جو گرامر: فَ حرفِ استئناف ہے۔ مَن اسمِ شرط ہے۔ شَآءَ — کوئی چاہے گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت فعلِ شرط۔ ذَكَرَهُۥ — یاد کرے اس کو گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت جوابِ شرط۔ ساتھ لگا هُۥ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر غائب، نحوی حیثیت مفعول بہ۔
4. سورۃ عبس، آیت ١٣
فِى صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ جملے کی ترکیب فِى صُحُفٍ نصیحت کی مزید وضاحت کرنے والا جار و مجرور ہے، اگرچہ اس کے ٹھیک نحوی تعلق میں معتبر اختلاف ہے۔ مُّكَرَّمَةٍ، صُحُفٍ کی مجرور صفت ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ نصیحت معزز صحیفوں میں درج ہے۔ فِى — میں گرامر: فِى حرفِ جر؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ صُحُفٍۢ — صحیفوں گرامر: مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت اسمِ مجرور۔ مُّكَرَّمَةٍۢ — جو عزت دیئے گئے ہیں گرامر: مجرور، صفت؛ نحوی حیثیت صفت۔
5. سورۃ عبس، آیت ١٤
مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ جملے کی ترکیب دونوں الفاظ صُحُفٍ کی مزید مجرور اسمِ مفعول صفات ہیں؛ غیر عاقل جمع مکسر کے ساتھ واحد مؤنث کی مطابقت آئی ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ صحیفے بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں۔ مَّرْفُوعَةٍۢ — بلند ہیں گرامر: مجرور، صفت؛ نحوی حیثیت صفت۔ مُّطَهَّرَةٍۭ — پاکیزہ ہیں گرامر: مجرور، صفت؛ نحوی حیثیت صفت۔
6. سورۃ عبس، آیت ١٥
بِأَيْدِى سَفَرَةٍ جملے کی ترکیب بِأَيْدِى، صُحُفٍ کی وضاحت جاری رکھنے والا جار و مجرور ہے، اور سَفَرَةٍ، أَيْدِى کا مضاف الیہ ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ معزز لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ بِأَيْدِى — ہاتھوں میں ہیں گرامر: بِ حرفِ جر ہے؛ أَيْدِى اسمِ مجرور اور سَفَرَةٍ کی طرف مضاف ہے۔ سَفَرَةٍۢ — لکھنے والوں کے گرامر: مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت مضاف الیہ۔
7. سورۃ عبس، آیت ١٦
كِرَامٍۭ بَرَرَةٍ جملے کی ترکیب دونوں الفاظ پچھلی آیت کے سَفَرَةٍ کی مجرور صفات ہیں: معزز اور نیک۔ آیت کا خلاصہ وہ لکھنے والے بزرگ مرتبہ اور نیکوکار ہیں۔ كِرَامٍۭ — معزز ہیں گرامر: مجرور، صفت؛ نحوی حیثیت صفت۔ بَرَرَةٍۢ — جو نیک ہیں گرامر: مجرور، صفت؛ نحوی حیثیت صفت۔
8. سورۃ عبس، آیت ١٧
قُتِلَ ٱلْإِنسَـٰنُ مَآ أَكْفَرَهُۥ جملے کی ترکیب فعلِ مجہول قُتِلَ کا نائب فاعل ٱلْإِنسَـٰنُ ہے۔ ایک معتبر ترکیب میں مَآ أَكْفَرَهُۥ تعجب کا صیغہ ہے، جبکہ استفہامی ترکیب بھی منقول ہے۔ آیت کا خلاصہ ناشکرا انسان اللہ کی عظیم نعمت کی قدر نہ کرنے پر سخت ملامت کا مستحق ہے۔ قُتِلَ — مارا جائے گرامر: فعلِ ماضی، مجہول، واحد مذکر غائب۔ ٱلْإِنسَـٰنُ — انسان گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ مرفوع، اسم؛ نحوی حیثیت نائب فاعل۔ مَآ — کیا گرامر: ایک معتبر ترکیب میں تعجبیہ نکرہ تامہ اور مبتدا ہے؛ استفہامیہ ترکیب بھی منقول ہے۔ أَكْفَرَهُۥ — سخت منکر ہے گرامر: بابِ افعال، فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت خبر۔ ساتھ لگا هُۥ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر غائب، نحوی حیثیت مفعول بہ۔
9. سورۃ عبس، آیت ١٨
مِنْ أَىِّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ جملے کی ترکیب جار و مجرور استفہام کرتا ہے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ خَلَقَهُۥ کا فاعل مستتر اور ضمیر مفعول بہ ہے۔ آیت کا خلاصہ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا کیا۔ مِنْ — سے گرامر: مِنْ حرفِ جر؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ أَىِّ — کس گرامر: مِنْ کی وجہ سے مجرور اسمِ استفہام ہے اور شَىْءٍ کی طرف مضاف ہے۔ شَىْءٍ — چیز گرامر: اسمِ مجرور اور أَىِّ کا مضاف الیہ ہے۔ خَلَقَهُۥ — اس نے پیدا کیا اس کو گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب۔ ساتھ لگا هُۥ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر غائب، نحوی حیثیت مفعول بہ۔
مشق کے سوالات
سوال 1
فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ ١٠ یہاں تَلَهَّىٰ کی درست پہچان کیا ہے؟
- واحد مذکر غائب ماضی
- واحد مذکر حاضر مضارع؛ اصل تَتَلَهَّىٰ
- فعلِ امر مجہول
- مصدر
سوال 2
كَلَّآ إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ ١١ إِنَّهَا کے بعد تَذْكِرَةٌ کیا ہے؟
- اسمِ إن
- فاعل
- خبرِ إن
- مفعول بہ
سوال 3
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ ١٢ ذَكَرَهُۥ میں متصل هُ کیا ہے؟
- ضمیرِ فاعل
- ضمیرِ مجرور
- خبر
- ضمیرِ مفعول بہ
سوال 4
فِى صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ١٣ صُحُفٍ کے ساتھ مُّكَرَّمَةٍ کیا ہے؟
- صفتِ مجرور
- خبرِ مرفوع
- مفعول بہ
- مفعولِ مطلق
سوال 5
مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ ١٤ دونوں صفات واحد مؤنث کیوں ہیں؟
- یہ تثنیہ مفعول ہیں
- یہ غیر عاقل جمع مکسر صُحُف کی صفات ہیں
- یہ واحد مذکر اسم کی صفات ہیں
- یہ افعالِ امر ہیں
سوال 6
بِأَيْدِى سَفَرَةٍ ١٥ بِأَيْدِى کے بعد سَفَرَةٍ کیا ہے؟
- فاعل
- مفعول بہ
- مضاف الیہ مجرور
- خبر
سوال 7
كِرَامٍۭ بَرَرَةٍ ١٦ كِرَامٍ بَرَرَةٍ کا سَفَرَةٍ سے کیا تعلق ہے؟
- خبرِ مرفوع
- مفعول بہ
- مفعولِ مطلق
- صفتِ مجرور
سوال 8
قُتِلَ ٱلْإِنسَـٰنُ مَآ أَكْفَرَهُۥ ١٧ مجہول قُتِلَ کے بعد ٱلْإِنسَـٰنُ کیا ہے؟
- نائب فاعل
- مفعول بہ
- خبر
- مضاف الیہ
سوال 9
مِنْ أَىِّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ ١٨ أَىِّ کو جر کس نے دیا؟
- فاعل ہونا
- حرفِ جر مِنْ
- مفعول بہ ہونا
- حرف إِنَّ
تعاملی کوئز کھولیں