سورۃ عبس — حصہ ٣

آیات ١٩–٢٧ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ عبس — حصہ ٣ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ عبس، آیت ١٩

مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ جملے کی ترکیب مِن نُّطْفَةٍ، خَلَقَهُۥ سے متعلق ہے۔ فَقَدَّرَهُۥ اس پر معطوف ہے؛ دونوں کا فاعل مستتر اور ضمیر مفعول بہ ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے اسے ایک حقیر نطفے سے پیدا کر کے مناسب اندازہ اور ساخت عطا کی۔ مِن — سے گرامر: مِن حرفِ جر؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ نُّطْفَةٍ — ایک نطفے (سے) گرامر: مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت اسمِ مجرور۔ خَلَقَهُۥ — اس نے پیدا کیا اس کو گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب۔ ساتھ لگا هُۥ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر غائب، نحوی حیثیت مفعول بہ۔ فَقَدَّرَهُۥ — پھر تقدیر مقرر کی اس کی گرامر: فَ حرفِ عطف ہے۔ بابِ تفعیل، فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت معطوف۔ ساتھ لگا هُۥ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر غائب، نحوی حیثیت مفعول بہ۔

2. سورۃ عبس، آیت ٢٠

ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ جملے کی ترکیب بنیادی ترکیب میں ٱلسَّبِيلَ منصوب علی الاشتغال ہے؛ ایک محذوف فعل اسے نصب دیتا ہے جس کی تفسیر يَسَّرَهُۥ کرتا ہے۔ مذکور فعل کا فاعل مستتر اور هُ مفعول بہ ہے۔ آیت کا خلاصہ پھر اللہ نے اس کے لیے راہ آسان کر دی۔ ثُمَّ — پھر گرامر: ثُمَّ حرفِ عطف ہے۔ ٱلسَّبِيلَ — راستہ گرامر: بنیادی ترکیب میں ایک محذوف فعل کا مفعول بہ اور منصوب علی الاشتغال ہے؛ يَسَّرَهُۥ اس محذوف فعل کی تفسیر کرتا ہے۔ يَسَّرَهُۥ — اس نے آسان کیا اس کا گرامر: بابِ تفعیل، فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب۔ ساتھ لگا هُۥ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر غائب، نحوی حیثیت مفعول بہ۔

3. سورۃ عبس، آیت ٢١

ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقْبَرَهُۥ جملے کی ترکیب دو معطوف افعالِ ماضی کا فاعل مستتر هُوَ ہے، اور دونوں کے ساتھ لگی ضمیریں انسان کی طرف بطور مفعول بہ لوٹتی ہیں۔ آیت کا خلاصہ پھر اللہ نے اسے موت دی اور عزت کے ساتھ قبر میں رکھوانے کا سامان کیا۔ ثُمَّ — پھر گرامر: ثُمَّ حرفِ عطف ہے۔ أَمَاتَهُۥ — موت دی اس کو گرامر: بابِ افعال، فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب۔ ساتھ لگا هُۥ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر غائب، نحوی حیثیت مفعول بہ۔ فَأَقْبَرَهُۥ — پھر قبر دی اس کو گرامر: فَ حرفِ عطف ہے۔ بابِ افعال، فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت معطوف۔ ساتھ لگا هُۥ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر غائب، نحوی حیثیت مفعول بہ۔

4. سورۃ عبس، آیت ٢٢

ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ جملے کی ترکیب إِذَا مستقبل کا غیر جازم شرطیہ ظرف ہے۔ شَآءَ اس کے مضاف الیہ جملے میں اور أَنشَرَهُۥ غیر مجزوم جواب میں آیا ہے۔ آیت کا خلاصہ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر کے اٹھا دے گا۔ ثُمَّ — پھر گرامر: ثُمَّ حرفِ عطف ہے۔ إِذَا — جب گرامر: إِذَا ظرفِ زمان ہے۔ شَآءَ — وہ چاہے گا گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت فعلِ شرط۔ أَنشَرَهُۥ — اٹھا کھڑا کرے گا اس کو گرامر: بابِ افعال، فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت جوابِ شرط۔ ساتھ لگا هُۥ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر غائب، نحوی حیثیت مفعول بہ۔

5. سورۃ عبس، آیت ٢٣

كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ أَمَرَهُۥ جملے کی ترکیب لَمَّا نفی و جزم کے لیے ہے، اس لیے يَقْضِ مجزوم ہے۔ مَآ مفعول بہ اور أَمَرَهُۥ اس کا صلۂ موصول ہے۔ آیت کا خلاصہ انسان نے ابھی تک اپنے رب کا حکم پورا ادا نہیں کیا۔ كَلَّا — ہرگز نہیں گرامر: كَلَّا حرفِ ردع ہے۔ لَمَّا — نہیں گرامر: لَمَّا حرفِ نفی، جزم و قلب ہے؛ اس کی نفی زمانۂ حال تک جاری رہتی ہے۔ يَقْضِ — پورا کیا گرامر: فعلِ مضارع، واحد مذکر غائب، لَمَّا کی وجہ سے مجزوم ہے؛ علامتِ جزم آخری حرفِ علت یاء کا حذف ہے اور فاعل مستتر هُوَ ہے۔ مَآ — جو گرامر: مَآ اسمِ موصول؛ نحوی حیثیت مفعول بہ ہے۔ أَمَرَهُۥ — اس نے حکم دیا اس کو گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت صلۂ موصول۔ ساتھ لگا هُۥ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر غائب، نحوی حیثیت مفعول بہ۔

6. سورۃ عبس، آیت ٢٤

فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَـٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ جملے کی ترکیب لامِ امر کی وجہ سے يَنظُرِ فعلِ مضارع مجزوم ہے۔ ٱلْإِنسَـٰنُ فاعل اور إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ انسان کو اپنے کھانے اور اس کے اسباب میں اللہ کی قدرت پر غور کرنا چاہیے۔ فَلْيَنظُرِ — پس چاہیے کہ دیکھے گرامر: فَ حرفِ استئناف اور لْ لامِ امر ہے۔ يَنظُرِ فعلِ مضارع، واحد مذکر غائب اور مجزوم ہے؛ آخری کسرہ صرف اجتماعِ ساکنین سے بچنے کے لیے ہے۔ ٱلْإِنسَـٰنُ — انسان گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ مرفوع، اسم؛ نحوی حیثیت فاعل۔ إِلَىٰ — طرف گرامر: إِلَىٰ حرفِ جر؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ طَعَامِهِۦٓ — اپنے کھانے کی گرامر: مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت اسمِ مجرور۔ ساتھ لگا هِۦٓ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر غائب، نحوی حیثیت مضاف الیہ۔

7. سورۃ عبس، آیت ٢٥

أَنَّا صَبَبْنَا ٱلْمَآءَ صَبًّا جملے کی ترکیب أَنَّا تاکید کا جملہ شروع کرتا ہے جس کے تعلق میں دو معتبر ترکیبیں منقول ہیں۔ صَبَبْنَا خبر، ٱلْمَآءَ مفعول بہ اور صَبًّا تاکیدی مفعولِ مطلق ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے آسمان سے خوب پانی برسایا۔ أَنَّا — بیشک ہم نے گرامر: أَنَّ حرفِ نصب و تاکید ہے؛ اس کے ساتھ لگی نَا جمع متکلم کی ضمیر اور اسمِ أَنَّ ہے۔ صَبَبْنَا — ڈالا ہم نے گرامر: فعلِ ماضی، جمع متکلم؛ نحوی حیثیت خبر أن۔ ساتھ لگا نَا، ”ضمیرِ متصل“ ہے: جمع متکلم، نحوی حیثیت فاعل۔ ٱلْمَآءَ — پانی گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ منصوب، اسم؛ نحوی حیثیت مفعول بہ۔ صَبًّۭا — ڈالنا گرامر: منصوب، اسم؛ نحوی حیثیت مفعولِ مطلق۔

8. سورۃ عبس، آیت ٢٦

ثُمَّ شَقَقْنَا ٱلْأَرْضَ شَقًّا جملے کی ترکیب شَقَقْنَا فعلِ ماضی ہے اور نَا فاعل۔ ٱلْأَرْضَ مفعول بہ اور شَقًّا مفعولِ مطلق ہے۔ آیت کا خلاصہ پھر اللہ نے زمین کو پھاڑ کر نباتات کے نکلنے کی راہ بنائی۔ ثُمَّ — پھر گرامر: ثُمَّ حرفِ عطف ہے۔ شَقَقْنَا — پھاڑی ہم نے گرامر: فعلِ ماضی، جمع متکلم۔ ساتھ لگا نَا، ”ضمیرِ متصل“ ہے: جمع متکلم، نحوی حیثیت فاعل۔ ٱلْأَرْضَ — زمین گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ منصوب، اسم؛ نحوی حیثیت مفعول بہ۔ شَقًّۭا — پھاڑنا گرامر: منصوب، اسم؛ نحوی حیثیت مفعولِ مطلق۔

9. سورۃ عبس، آیت ٢٧

فَأَنۢبَتْنَا فِيهَا حَبًّا جملے کی ترکیب فَأَنۢبَتْنَا پچھلے افعال پر معطوف ہے، نَا فاعل، فِيهَا متعلق اور حَبًّا مفعول بہ ہے۔ آیت کا خلاصہ پھر اس زمین میں اناج اگایا۔ فَأَنۢبَتْنَا — پھر اگایا ہم نے گرامر: فَ حرفِ عطف ہے۔ بابِ افعال، فعلِ ماضی، جمع متکلم؛ نحوی حیثیت معطوف۔ ساتھ لگا نَا، ”ضمیرِ متصل“ ہے: جمع متکلم، نحوی حیثیت فاعل۔ فِيهَا — اس میں گرامر: فِي حرفِ جر؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ ساتھ لگا هَا، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مؤنث غائب، نحوی حیثیت اسمِ مجرور۔ حَبًّۭا — غلہ گرامر: منصوب، اسم؛ نحوی حیثیت مفعول بہ۔

مشق کے سوالات

سوال 1

مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ ۝١٩ فَقَدَّرَهُۥ کس باب سے ہے؟

  • بابِ افعال
  • بابِ تفعّل
  • بابِ تفعیل
  • بابِ استفعال

سوال 2

ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ ۝٢٠ يَسَّرَهُۥ کس باب سے ہے؟

  • بابِ افعال
  • بابِ تفعّل
  • بابِ استفعال
  • بابِ تفعیل

سوال 3

ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقْبَرَهُۥ ۝٢١ أَمَاتَهُۥ اور أَقْبَرَهُۥ کس باب سے ہیں؟

  • بابِ افعال
  • بابِ تفعیل
  • بابِ تفعّل
  • بابِ استفعال

سوال 4

ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ ۝٢٢ یہاں إِذَا کس قسم کا لفظ ہے؟

  • حرفِ شرط جازم
  • آئندہ زمانے کا غیر جازم ظرف
  • حرفِ جر
  • حرفِ نفی

سوال 5

كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ أَمَرَهُۥ ۝٢٣ يَقْضِ میں جزم کی علامت کیا ہے؟

  • آخر کا فتحہ
  • نون کا حذف
  • آخری حرفِ علت یاء کا حذف
  • جر کی وجہ سے کسرہ

سوال 6

فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَـٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ ۝٢٤ يَنظُرِ کے آخر میں کسرہ کیوں ہے؟

  • فعل مجرور ہے
  • فعل منصوب ہے
  • فعل مجہول ہے
  • اجتماعِ ساکنین سے بچنے کے لیے

سوال 7

أَنَّا صَبَبْنَا ٱلْمَآءَ صَبًّا ۝٢٥ صَبَبْنَا کے بعد صَبًّا کیا ہے؟

  • مفعولِ مطلق
  • فاعل
  • مفعول بہ
  • حال

سوال 8

ثُمَّ شَقَقْنَا ٱلْأَرْضَ شَقًّا ۝٢٦ شَقَقْنَا کے بعد شَقًّا کیا ہے؟

  • فاعل
  • مفعولِ مطلق
  • مفعول بہ
  • حال

سوال 9

فَأَنۢبَتْنَا فِيهَا حَبًّا ۝٢٧ أَنۢبَتْنَا کے ساتھ حَبًّا کیا ہے؟

  • فاعل
  • خبر
  • مفعول بہ
  • صفت

تعاملی کوئز کھولیں