سورۃ الضحیٰ — حصہ ٢

آیات ٧–١١ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ الضحیٰ — حصہ ٢ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ الضحیٰ، آیت ٧

وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدَىٰ جملے کی ترکیب وَوَجَدَكَ کا فاعل مستتر، كَ پہلا اور ضَآلًّا دوسرا مفعول ہے۔ فَهَدَىٰ نتیجے کے طور پر معطوف ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے آپ ﷺ کو واضح راہ کا طالب پایا تو کامل ہدایت عطا فرمائی۔ وَوَجَدَكَ — اور اس نے آپ کو پایا گرامر: وَ عطف؛ فعلِ ماضی کا فاعل مستتر اور كَ پہلا مفعول ہے۔ ضَآلًّۭا — راہ سے ناواقف گرامر: نکرہ مذکر دوسرا مفعول بہ منصوب ہے۔ فَهَدَىٰ — پھر رہنمائی کی گرامر: فَ نتیجہ اور فعلِ ماضی کا فاعل هُوَ مستتر ہے۔

2. سورۃ الضحیٰ، آیت ٨

وَوَجَدَكَ عَآئِلًا فَأَغْنَىٰ جملے کی ترکیب وَوَجَدَكَ کا فاعل مستتر، كَ پہلا اور عَآئِلًا دوسرا مفعول ہے۔ فَأَغْنَىٰ بابِ افعال کا معطوف نتیجہ ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے آپ ﷺ کو نادار پایا تو غنی اور بے نیاز کردیا۔ وَوَجَدَكَ — اور اس نے آپ کو پایا گرامر: وَ عطف؛ فعلِ ماضی کا فاعل مستتر اور كَ پہلا مفعول ہے۔ عَآئِلًۭا — حاجت مند گرامر: نکرہ مذکر دوسرا مفعول بہ منصوب ہے۔ فَأَغْنَىٰ — پھر غنی کیا گرامر: فَ نتیجہ اور أَغْنَىٰ بابِ افعال کا فعلِ ماضی، فاعل مستتر ہے۔

3. سورۃ الضحیٰ، آیت ٩

فَأَمَّا ٱلْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ جملے کی ترکیب فَأَمَّا پہلی تفصیلی شاخ شروع کرتا ہے اور ٱلْيَتِيمَ مقدم مفعول ہے۔ فَلَا تَقْهَرْ منفی مجزوم جواب ہے جس کا فاعل أَنْتَ مستتر ہے۔ آیت کا خلاصہ لہٰذا یتیم پر سختی نہ کیجیے بلکہ اس کی دل جوئی کیجیے۔ فَأَمَّا — پس رہا گرامر: فَ استئناف اور أَمَّا حرفِ تفصیل ہے۔ ٱلْيَتِيمَ — یتیم گرامر: معرفہ مذکر مقدم مفعول بہ منصوب ہے جو تَقْهَرْ کا مفعول ہے۔ فَلَا — تو نہ گرامر: فَ جواب اور لَا نہی کے لیے ہے جو فعل کو مجزوم کرتا ہے۔ تَقْهَرْ — سختی کریں گرامر: واحد مذکر حاضر فعلِ مضارع مجزوم ہے؛ فاعل أَنْتَ مستتر ہے۔

4. سورۃ الضحیٰ، آیت ١٠

وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ جملے کی ترکیب وَأَمَّا معطوف تفصیلی شاخ شروع کرتا ہے اور ٱلسَّآئِلَ مقدم مفعول ہے۔ فَلَا تَنْهَرْ منفی مجزوم جواب ہے۔ آیت کا خلاصہ اور سوال کرنے والے کو نہ جھڑکیے بلکہ نرمی سے پیش آئیے۔ وَأَمَّا — اور رہا گرامر: وَ عطف اور أَمَّا اگلی تفصیلی شاخ شروع کرتا ہے۔ ٱلسَّآئِلَ — سوال کرنے والا گرامر: معرفہ مذکر اسمِ فاعل منصوب ہے جو مقدم مفعول ہے۔ فَلَا — تو نہ گرامر: فَ جواب اور لَا نہی کے لیے ہے جو فعل کو مجزوم کرتا ہے۔ تَنْهَرْ — جھڑکیں گرامر: واحد مذکر حاضر فعلِ مضارع مجزوم ہے؛ فاعل أَنْتَ مستتر ہے۔

5. سورۃ الضحیٰ، آیت ١١

وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ جملے کی ترکیب وَأَمَّا آخری تفصیلی شاخ شروع کرتا ہے۔ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ مقدم جار و مجرور اور فَحَدِّثْ جوابیہ فعلِ امر ہے جس کا فاعل أَنْتَ مستتر ہے۔ آیت کا خلاصہ اور اپنے رب کی نعمتوں کو شکر کے ساتھ بیان کیجیے۔ وَأَمَّا — اور رہی گرامر: وَ عطف اور أَمَّا آخری تفصیلی شاخ شروع کرتا ہے۔ بِنِعْمَةِ — نعمت گرامر: بِ حرفِ جر اور نِعْمَةِ مؤنث اسمِ مجرور ہے جو آگے مضاف ہے۔ یہ ترکیب «حَدِّثْ» سے متعلق ہے۔ رَبِّكَ — آپ کے رب کی گرامر: مذکر مضاف الیہ مجرور ہے؛ متصل كَ مضاف الیہ ہے۔ فَحَدِّثْ — تو بیان کریں گرامر: فَ جواب اور حَدِّثْ بابِ تفعیل کا فعلِ امر ہے؛ فاعل أَنْتَ مستتر ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدَىٰ ۝٧ ضَآلًّا کس حالت میں ہے؟

  • مرفوع
  • مجرور
  • منصوب
  • مجزوم

سوال 2

وَوَجَدَكَ عَآئِلًا فَأَغْنَىٰ ۝٨ أَغْنَىٰ کس باب سے ہے؟

  • بابِ تفعیل
  • بابِ تفعّل
  • بابِ استفعال
  • بابِ افعال

سوال 3

فَأَمَّا ٱلْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ ۝٩ فَلَا تَقْهَرْ میں لَا کیا کرتا ہے؟

  • نہی اور جزم دیتا ہے
  • نصب دیتا ہے
  • تاکید کرتا ہے
  • قسم شروع کرتا ہے

سوال 4

وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ ۝١٠ یہاں ٱلسَّآئِلَ کیا ہے؟

  • فاعل
  • مقدم مفعول
  • خبر
  • اسمِ مجرور

سوال 5

وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ۝١١ حَدِّثْ کیا ہے؟

  • مضارع مجہول
  • فعلِ ماضی
  • بابِ تفعیل کا امر
  • اسمِ فاعل

تعاملی کوئز کھولیں