سورۃ الأعلى — حصہ ١

آیات ١–١٠ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ الأعلى — حصہ ١ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ الأعلى، آیت ١

سَبِّحِ ٱسْمَ رَبِّكَ ٱلْأَعْلَى جملے کی ترکیب سَبِّحِ فعلِ امر ہے جس کا فاعل أَنْتَ مستتر ہے۔ ٱسْمَ اس کا مفعول بہ، رَبِّكَ مضاف الیہ اور ٱلْأَعْلَى یہاں رَبِّ کی صفتِ مجرور پڑھا گیا ہے۔ آیت کا خلاصہ اپنے سب سے بلند رب کے نام کی پاکی بیان کیجیے۔ سَبِّحِ — تسبیح کیجئے گرامر: بابِ تفعیل کا واحد مذکر مخاطب فعلِ امر ہے جس کا فاعل أَنْتَ وجوباً مستتر ہے؛ آخری کسرہ اجتماعِ ساکنین سے بچنے کے لیے ہے۔ ٱسْمَ — نام کی گرامر: واحد مذکر اسمِ منصوب ہے جو سَبِّحِ کا مفعول بہ اور رَبِّكَ کی طرف مضاف ہے۔ رَبِّكَ — اپنے رب کے گرامر: رَبِّ، ٱسْمَ کا مضاف الیہ مجرور ہے؛ متصل كَ واحد مذکر مخاطب مضاف الیہ ہے۔ ٱلْأَعْلَى — جو سب سے بلند ہے گرامر: ٱل حرفِ تعریف ہے۔ منتخب ترکیب میں أَعْلَى، رَبِّ کی واحد مذکر صفتِ مجرور ہے اور آخری الف پر کسرہ مقدر ہے۔

2. سورۃ الأعلى، آیت ٢

ٱلَّذِى خَلَقَ فَسَوَّىٰ جملے کی ترکیب ٱلَّذِى پچھلے لفظِ رب کی وضاحت کرتا ہے اور خَلَقَ اس کا صلۂ موصول ہے۔ فَسَوَّىٰ پہلے فعل پر معطوف ہے؛ دونوں کے فاعل مستتر اور مفعول محذوف ہیں۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور حکمت کے مطابق درست بنایا۔ ٱلَّذِى — وہ جس نے گرامر: واحد مذکر اسمِ موصول ہے جو یہاں پچھلے رَبِّكَ کی صفتِ مجرور پڑھا گیا ہے؛ اگلا جملہ اس کا صلۂ موصول ہے۔ خَلَقَ — پیدا کیا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل هُوَ مستتر اور مفعول محذوف ہے۔ فَسَوَّىٰ — پھر درست بنایا گرامر: فَ حرفِ عطف اور سَوَّىٰ بابِ تفعیل کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ فاعل هُوَ مستتر اور مفعول محذوف ہے۔

3. سورۃ الأعلى، آیت ٣

وَٱلَّذِى قَدَّرَ فَهَدَىٰ جملے کی ترکیب وَٱلَّذِى پچھلے اسمِ موصول پر معطوف ہے۔ قَدَّرَ اس کا صلۂ موصول اور فَهَدَىٰ اس فعل پر معطوف ہے؛ دونوں کے فاعل مستتر اور مفعول محذوف ہیں۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کیا اور اسے مناسب راہ دکھائی۔ وَٱلَّذِى — اور وہ ذات گرامر: وَ حرفِ عطف اور ٱلَّذِى واحد مذکر اسمِ موصول ہے جو پچھلے اسمِ موصول پر معطوف ہے۔ قَدَّرَ — جس نے انداز کیا گرامر: بابِ تفعیل کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل هُوَ مستتر اور مفعول محذوف ہے۔ فَهَدَىٰ — پھر ہدایت بخشی گرامر: فَ حرفِ عطف اور هَدَىٰ واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ فاعل هُوَ مستتر اور مفعول محذوف ہے۔

4. سورۃ الأعلى، آیت ٤

وَٱلَّذِىٓ أَخْرَجَ ٱلْمَرْعَىٰ جملے کی ترکیب وَٱلَّذِىٓ پچھلے اسمائے موصول پر معطوف ہے۔ أَخْرَجَ صلۂ موصول کا فعل ہے جس کا فاعل مستتر ہے اور ٱلْمَرْعَىٰ اس کا مفعول بہ ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ زمین سے سرسبز چارا نکالتا ہے۔ وَٱلَّذِىٓ — اور وہ ذات گرامر: وَ حرفِ عطف اور ٱلَّذِىٓ واحد مذکر اسمِ موصول ہے جو پچھلے اسمِ موصول پر معطوف ہے۔ أَخْرَجَ — جس نے نکالا گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل هُوَ مستتر ہے۔ ٱلْمَرْعَىٰ — چارہ گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور مَرْعَىٰ واحد مذکر مفعول بہ منصوب ہے؛ آخری الف پر فتحہ مقدر ہے۔

5. سورۃ الأعلى، آیت ٥

فَجَعَلَهُۥ غُثَآءً أَحْوَىٰ جملے کی ترکیب فَجَعَلَهُۥ پچھلے فعل پر معطوف ہے؛ اس کا فاعل هُوَ مستتر اور متصل هُۥ پہلا مفعول ہے۔ غُثَآءً دوسرا مفعول اور أَحْوَىٰ یہاں اس کی صفتِ منصوب پڑھا گیا ہے۔ آیت کا خلاصہ پھر وہی چارا خشک اور سیاہ کر دیتا ہے۔ فَجَعَلَهُۥ — پھر بنادیا اس کو گرامر: فَ حرفِ عطف اور جَعَلَ واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل هُوَ مستتر ہے؛ متصل هُۥ اس کا پہلا مفعول بہ ہے۔ غُثَآءً — خشک گھاس گرامر: نکرہ واحد مذکر اسمِ منصوب ہے جو جَعَلَ کا دوسرا مفعول بہ ہے۔ أَحْوَىٰ — سیاہ کیا گرامر: منتخب ترکیب میں نکرہ واحد مذکر صفتِ منصوب ہے جو غُثَآءً کو بیان کرتی ہے؛ آخری الف پر فتحہ مقدر ہے۔

6. سورۃ الأعلى، آیت ٦

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰٓ جملے کی ترکیب سَنُقْرِئُكَ میں سَ قریب مستقبل کے لیے، فعل جمع متکلم، فاعل نَحْنُ مستتر اور كَ مفعول بہ ہے۔ فَلَا استئناف و نفی اور تَنسَىٰٓ یہاں فعلِ مضارع مرفوع ہے جس کا فاعل أَنْتَ مستتر ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نبی ﷺ کو قرآن پڑھانے اور یاد رکھنے کی ضمانت دیتا ہے۔ سَنُقْرِئُكَ — عنقریب ہم پڑھوا دیں گے تجھ کو گرامر: سَ قریب مستقبل کے لیے ہے؛ نُقْرِئُ بابِ افعال کا جمع متکلم فعلِ مضارع مرفوع ہے جس کا فاعل نَحْنُ مستتر اور متصل كَ پہلا مفعول بہ ہے؛ دوسرا مفعول محذوف ہے۔ فَلَا — تو نہ گرامر: فَ استئناف کے لیے اور لَا یہاں غیر عامل حرفِ نفی پڑھا گیا ہے۔ تَنسَىٰٓ — تم بھولو گے گرامر: منتخب قراءتِ اعراب میں واحد مذکر مخاطب فعلِ مضارع مرفوع ہے جس کا فاعل أَنْتَ مستتر اور مفعول محذوف ہے؛ آخری الف پر ضمہ مقدر ہے۔

7. سورۃ الأعلى، آیت ٧

إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ إِنَّهُۥ يَعْلَمُ ٱلْجَهْرَ وَمَا يَخْفَىٰ جملے کی ترکیب إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ استثنا کی ترکیب ہے؛ مَا مستثنیٰ اسمِ موصول، شَآءَ صلۂ موصول کا فعل اور ٱللَّهُ فاعل ہے۔ إِنَّهُۥ نیا مؤکد جملہ شروع کرتا ہے اور يَعْلَمُ اپنے مفعولوں سمیت اس کی خبر ہے۔ آیت کا خلاصہ صرف وہی بھلایا جا سکتا ہے جو اللہ چاہے، اور وہ ہر ظاہر و پوشیدہ بات جانتا ہے۔ إِلَّا — مگر گرامر: حرفِ استثنا ہے جو پچھلے بیان سے استثنا شروع کرتا ہے۔ مَا — جو گرامر: بمعنی 'جو' اسمِ موصول ہے جو إِلَّا کے بعد محلِ نصب میں مستثنیٰ ہے۔ شَآءَ — چاہا گرامر: صلۂ موصول میں واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ اس کا مفعول محذوف ہے۔ ٱللَّهُ ۚ — اللہ نے گرامر: اسمِ علم ہے جو شَآءَ کا فاعلِ مرفوع ہے۔ وقف کی علامت تلاوت سے متعلق ہے، نحوی لفظ کا حصہ نہیں۔ إِنَّهُۥ — بیشک وہ گرامر: إِنَّ حرفِ نصب و تاکید اور متصل هُۥ واحد مذکر غائب اس کا اسم ہے۔ يَعْلَمُ — وہ جانتا ہے گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مرفوع ہے جس کا فاعل هُوَ مستتر ہے؛ اس کا فعلیہ جملہ خبرِ إِنَّ ہے۔ ٱلْجَهْرَ — ظاہر کو گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور جَهْرَ واحد مذکر اسمِ منصوب ہے جو يَعْلَمُ کا مفعول بہ ہے۔ وَمَا — اور جو گرامر: وَ حرفِ عطف اور مَا اسمِ موصول ہے جو ٱلْجَهْرَ پر محلِ نصب میں معطوف ہے۔ يَخْفَىٰ — پوشیدہ ہے گرامر: صلۂ موصول میں واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مرفوع ہے جس کا فاعل هُوَ مستتر ہے۔

8. سورۃ الأعلى، آیت ٨

وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَىٰ جملے کی ترکیب وَنُيَسِّرُكَ، سَنُقْرِئُكَ پر معطوف ہے؛ اس کا فاعل نَحْنُ مستتر اور متصل كَ مفعول بہ ہے۔ لِلْيُسْرَىٰ جار و مجرور ہے جو فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نبی ﷺ کے لیے آسانی کی راہ سہل فرما دے گا۔ وَنُيَسِّرُكَ — اور ہم آسان کر رہے ہیں تجھ کو گرامر: وَ حرفِ عطف اور نُيَسِّرُ بابِ تفعیل کا جمع متکلم فعلِ مضارع مرفوع ہے جس کا فاعل نَحْنُ مستتر اور متصل كَ مفعول بہ ہے۔ لِلْيُسْرَىٰ — واسطے آسانی کے گرامر: لِ حرفِ جر، ٱل حرفِ تعریف اور يُسْرَىٰ واحد مؤنث اسمِ مجرور ہے؛ جار و مجرور نُيَسِّرُكَ سے متعلق ہے۔

9. سورۃ الأعلى، آیت ٩

فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكْرَىٰ جملے کی ترکیب فَذَكِّرْ فعلِ امر ہے جس کا فاعل أَنْتَ مستتر اور مفعول محذوف ہے۔ منتخب شرطیہ ترکیب میں إِن حرفِ شرط، نَّفَعَتِ فعلِ شرط اور ٱلذِّكْرَىٰ فاعل ہے؛ جوابِ شرط پچھلے امر سے سمجھا جاتا ہے۔ آیت کا خلاصہ آپ نصیحت فرمائیں، کیونکہ اس سے فائدہ اٹھانے والے موجود ہیں۔ فَذَكِّرْ — پس نصیحت کیجئے گرامر: فَ استئناف یا شرطیہ معنی سے ربط کے لیے ہے؛ ذَكِّرْ بابِ تفعیل کا واحد مذکر مخاطب فعلِ امر ہے جس کا فاعل أَنْتَ مستتر اور مفعول محذوف ہے۔ إِن — اگر گرامر: منتخب ترکیب میں حرفِ شرط جازم ہے جو شرط شروع کرتا ہے۔ نَّفَعَتِ — فائدہ دے گرامر: واحد مؤنث غائب فعلِ ماضی ہے جو محلِ جزم میں فعلِ شرط ہے۔ آخری ت تاءِ تانیث ہے جسے اجتماعِ ساکنین سے بچانے کے لیے کسرہ دیا گیا ہے۔ ٱلذِّكْرَىٰ — نصیحت کرنا گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور ذِّكْرَىٰ واحد مؤنث فاعلِ مرفوع ہے؛ آخری الف پر ضمہ مقدر ہے۔

10. سورۃ الأعلى، آیت ١٠

سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَىٰ جملے کی ترکیب سَيَذَّكَّرُ فعلِ مضارع مرفوع ہے جس سے پہلے مستقبل کا سَ ہے۔ مَن اس کا فاعل اور يَخْشَىٰ صلۂ موصول ہے جس کا فاعل مستتر اور مفعول محذوف ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ سے ڈرنے والا نصیحت قبول کرے گا۔ سَيَذَّكَّرُ — عنقریب نصیحت پکڑے گا گرامر: سَ مستقبل کے لیے اور يَذَّكَّرُ بابِ تفعل کا واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مرفوع ہے۔ مَن — وہ جو گرامر: اسمِ موصول ہے جو سَيَذَّكَّرُ کا فاعلِ مرفوع ہے۔ يَخْشَىٰ — ڈرتا ہوگا گرامر: صلۂ موصول میں واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مرفوع ہے جس کا فاعل هُوَ مستتر اور مفعول محذوف ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

سَبِّحِ ٱسْمَ رَبِّكَ ٱلْأَعْلَى ۝١ سَبِّحِ کے ساتھ ٱسْمَ کیا ہے؟

  • مفعول بہ منصوب
  • فاعل
  • خبر
  • مضاف الیہ

سوال 2

ٱلَّذِى خَلَقَ فَسَوَّىٰ ۝٢ سَوَّىٰ کس باب سے ہے؟

  • بابِ افعال
  • بابِ تفعیل
  • بابِ تفعل
  • ثلاثی مجرد

سوال 3

وَٱلَّذِى قَدَّرَ فَهَدَىٰ ۝٣ فَهَدَىٰ میں فَ کیا ہے؟

  • نفی کرتا ہے
  • جزم دیتا ہے
  • عطف کرتا ہے
  • قسم شروع کرتا ہے

سوال 4

وَٱلَّذِىٓ أَخْرَجَ ٱلْمَرْعَىٰ ۝٤ أَخْرَجَ کے ساتھ ٱلْمَرْعَىٰ کیا ہے؟

  • فاعل
  • خبر
  • صفتِ مجرور
  • مفعول بہ منصوب

سوال 5

فَجَعَلَهُۥ غُثَآءً أَحْوَىٰ ۝٥ فَجَعَلَهُۥ میں متصل هُۥ کیا ہے؟

  • پہلا مفعول بہ
  • فاعل
  • دوسرا مفعول بہ
  • مضاف الیہ

سوال 6

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰٓ ۝٦ سَنُقْرِئُكَ میں سَ کس کی علامت ہے؟

  • نفی
  • قریب مستقبل
  • استفہام
  • قسم

سوال 7

إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ إِنَّهُۥ يَعْلَمُ ٱلْجَهْرَ وَمَا يَخْفَىٰ ۝٧ شَآءَ کے ساتھ ٱللَّهُ کیا ہے؟

  • مفعول بہ
  • خبر
  • فاعلِ مرفوع
  • مضاف الیہ

سوال 8

وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَىٰ ۝٨ وَنُيَسِّرُكَ میں متصل كَ کیا ہے؟

  • فاعل
  • خبر
  • مضاف الیہ
  • مفعول بہ

سوال 9

فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكْرَىٰ ۝٩ نَّفَعَتِ کے ساتھ ٱلذِّكْرَىٰ کیا ہے؟

  • فاعلِ مرفوع
  • مفعول بہ
  • خبر
  • صفتِ مجرور

سوال 10

سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَىٰ ۝١٠ سَيَذَّكَّرُ کے ساتھ مَن کیا ہے؟

  • مفعول بہ
  • اسمِ موصول بطور فاعل
  • خبر
  • حرفِ جر

تعاملی کوئز کھولیں