سورۃ العلق — حصہ ٢

آیات ١١–١٩ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ العلق — حصہ ٢ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ العلق، آیت ١١

أَرَءَيْتَ إِن كَانَ عَلَى ٱلْهُدَىٰٓ ۝١١ جملے کی ترکیب أَرَءَيْتَ دوسرا استفہام شروع کرتا ہے۔ إِن كَانَ شرط ہے اور عَلَى ٱلْهُدَىٰٓ كَانَ کی خبر ہے۔ آیت کا خلاصہ غور کیجیے، اگر روکنے والا خود ہدایت پر ہوتا تو یہ اس کے لیے بہتر تھا۔ أَرَءَيْتَ — کیا آپ نے غور کیا گرامر: أَ استفہام اور فعلِ ماضی کے ساتھ تَ فاعل ہے۔ إِن — اگر گرامر: حرفِ شرط ہے۔ كَانَ — وہ ہو گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ناقص ہے؛ اسم مستتر ہے۔ عَلَى — پر گرامر: حرفِ جر ہے جو كَانَ کی خبر شروع کرتا ہے۔ ٱلْهُدَىٰٓ — ہدایت گرامر: عَلَى کے بعد معرفہ مذکر اسم مجرور ہے۔

2. سورۃ العلق، آیت ١٢

أَوْ أَمَرَ بِٱلتَّقْوَىٰٓ ۝١٢ جملے کی ترکیب أَوْ عطف و تخییر کے لیے ہے۔ أَمَرَ فعلِ ماضی، فاعل مستتر اور بِٱلتَّقْوَىٰٓ اس سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ یا اگر وہ تقویٰ کا حکم دیتا تو یہ بھی اس کے لیے بہتر تھا۔ أَوْ — یا گرامر: حرفِ عطف ہے جو متبادل صورت ملاتا ہے۔ أَمَرَ — وہ حکم دیتا ہے گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ فاعل مستتر ہے۔ بِٱلتَّقْوَىٰٓ — تقویٰ کا گرامر: بِ حرفِ جر اور معرفہ مؤنث اسم مجرور ہے۔ یہ ترکیب «أَمَرَ» سے متعلق ہے۔

3. سورۃ العلق، آیت ١٣

أَرَءَيْتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰٓ ۝١٣ جملے کی ترکیب أَرَءَيْتَ استفہام ہے؛ إِن كَذَّبَ شرط اور وَتَوَلَّىٰٓ اس پر معطوف ہے۔ آیت کا خلاصہ مگر روکنے والا حق کو جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہے۔ أَرَءَيْتَ — کیا آپ نے دیکھا گرامر: أَ استفہام اور تَ متصل فاعل ہے۔ إِن — اگر گرامر: حرفِ شرط ہے۔ كَذَّبَ — وہ جھٹلاتا ہے گرامر: بابِ تفعیل کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ فاعل مستتر ہے۔ وَتَوَلَّىٰٓ — اور منہ موڑتا ہے گرامر: وَ عطف؛ بابِ تفعل کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی اور فاعل مستتر ہے۔

4. سورۃ العلق، آیت ١٤

أَلَمْ يَعْلَم بِأَنَّ ٱللَّهَ يَرَىٰ ۝١٤ جملے کی ترکیب أَ استفہام اور لَمْ نفی و جزم کے لیے ہے۔ يَعْلَمْ مجزوم ہے؛ بِأَنَّ ٱللَّهَ يَرَىٰ اس کا مفعولی جملہ اور ٱللَّهَ اسمِ أن منصوب ہے۔ آیت کا خلاصہ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے؟ أَلَمْ — کیا وہ نہیں گرامر: أَ استفہام اور لَمْ نفی و جزم کے لیے ہے۔ يَعْلَم — جانتا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ مضارع، لَمْ سے مجزوم اور فاعل مستتر ہے۔ بِأَنَّ — کہ گرامر: بِ حرفِ جر اور أَنَّ حرفِ تاکید و نصب ہے۔ ٱللَّهَ — اللہ گرامر: اسمِ علم أَنَّ کا اسم منصوب ہے۔ يَرَىٰ — دیکھتا ہے گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ مضارع، فاعل مستتر؛ جملۂ فعلیہ أَنَّ کی خبر ہے۔

5. سورۃ العلق، آیت ١٥

كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًۢا بِٱلنَّاصِيَةِ ۝١٥ جملے کی ترکیب كَلَّا ردع ہے؛ لَئِن لَّمْ يَنتَهِ مؤکد شرط ہے۔ لَنَسْفَعًۢا مؤکد جوابِ شرط اور بِٱلنَّاصِيَةِ فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ اگر وہ باز نہ آیا تو اسے پیشانی کے بالوں سے پکڑا جائے گا۔ كَلَّا — ہرگز نہیں گرامر: حرفِ ردع و زجر ہے۔ لَئِن — یقیناً اگر گرامر: لَ تاکیدِ قسم اور إِنْ حرفِ شرط ہے۔ لَّمْ — نہیں گرامر: حرفِ نفی و جزم ہے۔ يَنتَهِ — وہ باز آتا گرامر: بابِ افتعال کا واحد مذکر غائب مضارع، لَمْ سے مجزوم اور فاعل مستتر ہے۔ لَنَسْفَعًۢا — ہم ضرور گھسیٹیں گے گرامر: لَ تاکید؛ جمع متکلم فعلِ مضارع کے آخر میں نونِ تاکید خفیفہ ہے اور فاعل نَحْنُ مستتر ہے۔ بِٱلنَّاصِيَةِ — پیشانی کے بالوں سے گرامر: بِ حرفِ جر اور معرفہ مؤنث اسم مجرور ہے۔ یہ ترکیب «نَسْفَعًۢ» سے متعلق ہے۔

6. سورۃ العلق، آیت ١٦

نَاصِيَةٍ كَـٰذِبَةٍ خَاطِئَةٍ ۝١٦ جملے کی ترکیب نَاصِيَةٍۢ پچھلے اسم کا بدل مجرور ہے اور كَـٰذِبَةٍ خَاطِئَةٍۢ اس کی دو صفتیں مجرور ہیں۔ آیت کا خلاصہ وہ پیشانی جھوٹی اور گناہ گار ہے۔ نَاصِيَةٍۢ — ایسی پیشانی گرامر: نکرہ مؤنث بدل مجرور ہے جو پچھلے اسم کی وضاحت کرتا ہے۔ كَـٰذِبَةٍ — جھوٹی گرامر: نکرہ مؤنث اسمِ فاعل، نَاصِيَةٍۢ کی صفت مجرور ہے۔ خَاطِئَةٍۢ — خطاکار گرامر: دوسری نکرہ مؤنث اسمِ فاعل صفت مجرور ہے۔

7. سورۃ العلق، آیت ١٧

فَلْيَدْعُ نَادِيَهُۥ ۝١٧ جملے کی ترکیب فَ ربط اور لامِ امر يَدْعُ کو مجزوم کرتی ہے۔ فاعل مستتر اور نَادِيَهُۥ مفعول ہے جس میں هُ مضاف الیہ ہے۔ آیت کا خلاصہ پس وہ اپنے مجلس والوں کو مدد کے لیے بلا لے۔ فَلْيَدْعُ — پھر اسے بلانے دو گرامر: فَ ربط؛ لامِ امر واحد مذکر غائب مضارع کو مجزوم کرتی ہے؛ فاعل مستتر ہے۔ نَادِيَهُۥ — اپنی مجلس کو گرامر: مذکر مفعول بہ منصوب ہے؛ هُ ضمیر مضاف الیہ ہے۔

8. سورۃ العلق، آیت ١٨

سَنَدْعُ ٱلزَّبَانِيَةَ ۝١٨ جملے کی ترکیب سَ حرفِ استقبال ہے؛ نَدْعُ جمع متکلم فعلِ مضارع، فاعل نَحْنُ مستتر اور ٱلزَّبَانِيَةَ مفعول منصوب ہے۔ آیت کا خلاصہ ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔ سَنَدْعُ — ہم بلائیں گے گرامر: سَ حرفِ استقبال؛ جمع متکلم مضارع کا فاعل نَحْنُ مستتر ہے۔ ٱلزَّبَانِيَةَ — سخت گیر فرشتوں کو گرامر: معرفہ جمع مذکر مفعول بہ منصوب ہے جو نَدْعُ کا مفعول ہے۔

9. سورۃ العلق، آیت ١٩

كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَٱسْجُدْ وَٱقْتَرِب ۩ ۝١٩ جملے کی ترکیب كَلَّا ردع ہے؛ لَا ناہیہ تُطِعْهُ کو مجزوم کرتی ہے۔ وَٱسْجُدْ وَٱقْتَرِب دو معطوف فعلِ امر ہیں اور فاعل أَنْتَ مستتر ہے۔ آیت کا خلاصہ اس کی بات نہ مانیے، سجدہ کیجیے اور اپنے رب کے قریب ہوجائیے۔ كَلَّا — ہرگز نہیں گرامر: حرفِ ردع و زجر ہے۔ لَا — نہ گرامر: لا ناہیہ ہے جو اگلے مضارع کو مجزوم کرتا ہے۔ تُطِعْهُ — اس کی اطاعت کریں گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر حاضر مضارع، لَا سے مجزوم؛ فاعل مستتر اور هُ مفعول ہے۔ وَٱسْجُدْ — اور سجدہ کریں گرامر: وَ عطف؛ واحد مذکر فعلِ امر اور فاعل مستتر ہے۔ وَٱقْتَرِب ۩ — اور قریب ہوں گرامر: وَ عطف؛ بابِ افتعال کا واحد مذکر فعلِ امر اور فاعل مستتر ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

أَرَءَيْتَ إِن كَانَ عَلَى ٱلْهُدَىٰٓ ۝١١ كَانَ کے ساتھ عَلَى ٱلْهُدَىٰٓ کیا ہے؟

  • فاعل
  • مفعول
  • خبر کی ترکیب
  • صفت

سوال 2

أَوْ أَمَرَ بِٱلتَّقْوَىٰٓ ۝١٢ بِٱلتَّقْوَىٰٓ کیا ہے؟

  • فاعل
  • مفعول
  • خبر
  • جار و مجرور

سوال 3

أَرَءَيْتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰٓ ۝١٣ وَتَوَلَّىٰٓ کیا ہے؟

  • بابِ تفعّل کا معطوف فعلِ ماضی
  • فعلِ مضارع مجہول
  • فعلِ امر
  • اسمِ مجرور

سوال 4

أَلَمْ يَعْلَم بِأَنَّ ٱللَّهَ يَرَىٰ ۝١٤ أَنَّ کے بعد ٱللَّهَ کیا ہے؟

  • خبر
  • أَنَّ کا اسمِ منصوب
  • فاعل
  • اسمِ مجرور

سوال 5

كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًۢا بِٱلنَّاصِيَةِ ۝١٥ لَمْ، يَنتَهِ پر کیا عمل کرتا ہے؟

  • اسے مرفوع کرتا ہے
  • اسے منصوب کرتا ہے
  • اسے مجزوم کرتا ہے
  • اسے فعلِ امر بناتا ہے

سوال 6

نَاصِيَةٍ كَـٰذِبَةٍ خَاطِئَةٍ ۝١٦ كَـٰذِبَةٍ کیا ہے؟

  • مفعول بہ منصوب
  • فاعل مرفوع
  • فعلِ امر
  • صفتِ مجرور

سوال 7

فَلْيَدْعُ نَادِيَهُۥ ۝١٧ يَدْعُ کے ساتھ نَادِيَهُۥ کیا ہے؟

  • مفعول بہ
  • فاعل
  • خبر
  • صفت

سوال 8

سَنَدْعُ ٱلزَّبَانِيَةَ ۝١٨ نَدْعُ کے ساتھ ٱلزَّبَانِيَةَ کیا ہے؟

  • فاعل
  • مفعول بہ
  • خبر
  • مضاف الیہ

سوال 9

كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَٱسْجُدْ وَٱقْتَرِب ۩ ۝١٩ لائے نہی لَا، تُطِعْهُ پر کیا عمل کرتا ہے؟

  • اسے مرفوع کرتا ہے
  • اسے منصوب کرتا ہے
  • اسے مجزوم کرتا ہے
  • اسے ماضی بناتا ہے

تعاملی کوئز کھولیں