سورۃ البلد — حصہ ١
آیات ١–١٠ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ البلد — حصہ ١ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ البلد، آیت ١
لَآ أُقْسِمُ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ جملے کی ترکیب منتخب نحوی ترکیب میں لَآ، أُقْسِمُ کی نفی کرتا ہے؛ یہ بابِ افعال کا مضارع ہے جس کا فاعل أَنَا مستتر ہے۔ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ فعل سے متعلق اور ٱلْبَلَدِ اسمِ اشارہ کی وضاحت ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے مکہ کے اس شہر کی قسم کھائی ہے۔ لَآ — نہیں گرامر: منتخب نحوی ترکیب میں غیر عامل حرفِ نفی ہے جو أُقْسِمُ سے متعلق ہے۔ أُقْسِمُ — میں قسم کھاتا ہوں گرامر: بابِ افعال کا واحد متکلم فعلِ مضارع مرفوع ہے اور فاعل أَنَا مستتر ہے۔ بِهَـٰذَا — اس گرامر: بِ حرفِ جر اور هَـٰذَا واحد مذکر اسمِ اشارہ ہے جو محلِ جر میں ہے۔ یہ ترکیب «أُقْسِمُ» سے متعلق ہے۔ ٱلْبَلَدِ — شہر کی گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور بَلَدِ مذکر اسمِ مجرور ہے جو هَـٰذَا کی وضاحت کرتا ہے۔
2. سورۃ البلد، آیت ٢
وَأَنتَ حِلٌّۢ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ جملے کی ترکیب وَ نیا اسمیہ جملہ شروع کرتا ہے۔ أَنتَ مبتدا اور حِلٌّ اس کی خبر ہے؛ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ خبر سے متعلق اور ٱلْبَلَدِ اسمِ اشارہ کی وضاحت ہے۔ آیت کا خلاصہ اور آپ ﷺ پر اس شہر میں پابندی باقی نہ رہے گی۔ وَأَنتَ — اور تو گرامر: وَ استئناف و عطف اور أَنتَ واحد مذکر مخاطب ضمیر ہے جو مبتدا ہے۔ حِلٌّۢ — حلال ہے گرامر: نکرہ واحد مذکر اسمِ مرفوع ہے جو أَنتَ کی خبر ہے۔ بِهَـٰذَا — اس گرامر: بِ حرفِ جر اور هَـٰذَا مذکر اسمِ اشارہ ہے جو محلِ جر میں ہے۔ یہ ترکیب «حِلٌّۢ» سے متعلق ہے۔ ٱلْبَلَدِ — شہر میں گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور بَلَدِ مذکر اسمِ مجرور ہے جو اسمِ اشارہ کی وضاحت ہے۔
3. سورۃ البلد، آیت ٣
وَوَالِدٍۢ وَمَا وَلَدَ جملے کی ترکیب وَوَالِدٍ مجرور اسمِ قسم کے طور پر معطوف ہے۔ وَمَا اسمِ موصول کو معطوف کرتا ہے اور وَلَدَ اس کا صلۂ موصول ہے جس کا فاعل هُوَ مستتر ہے۔ آیت کا خلاصہ اور والد اور اس کی اولاد کی قسم ہے۔ وَوَالِدٍۢ — اور قسم ہے والد کی گرامر: وَ قسم کے سلسلے میں عطف کرتا ہے اور وَالِدٍ نکرہ اسمِ فاعل/اسمِ مجرور ہے۔ وَمَا — اس کی جو گرامر: وَ حرفِ عطف اور مَا اسمِ موصول ہے جس کا صلۂ موصول آگے ہے۔ وَلَدَ — اس نے جنم دیا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے، فاعل هُوَ مستتر اور یہ مَا کا صلۂ موصول ہے۔
4. سورۃ البلد، آیت ٤
لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ فِى كَبَدٍ جملے کی ترکیب لَ تاکید اور قَدْ تحقیق کے لیے ہے؛ خَلَقْنَا فعلِ ماضی اور متصل نَا فاعل ہے۔ ٱلْإِنسَـٰنَ مفعول بہ اور فِى كَبَدٍ اس کی حالت بیان کرتا ہے۔ آیت کا خلاصہ انسان کو مشقت بھری زندگی میں پیدا کیا گیا ہے۔ لَقَدْ — البتہ تحقیق گرامر: لَ لامِ تاکید اور قَدْ فعلِ ماضی سے پہلے حرفِ تحقیق ہے۔ خَلَقْنَا — پیدا کیا ہم نے گرامر: جمع متکلم فعلِ ماضی ہے اور متصل نَا اس کا فاعل ہے۔ ٱلْإِنسَـٰنَ — انسان کو گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور إِنسَـٰنَ واحد مذکر مفعول بہ منصوب ہے۔ «ٱلْإِنسَـٰنَ» کے ساتھ حالیہ جزِ محذوف مانا گیا ہے۔ فِى — میں گرامر: حرفِ جر ہے جو اگلے اسم کو مجرور اور حالیہ ترکیب شروع کرتا ہے۔ یہ ترکیب ایک جزِ محذوف کے ذریعے متعلق ہے۔ كَبَدٍ — محنت میں گرامر: نکرہ مذکر اسمِ مجرور ہے جسے فِى نے جر دیا ہے۔
5. سورۃ البلد، آیت ٥
أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌۭ جملے کی ترکیب أَ استفہام شروع کرتا ہے اور يَحْسَبُ کا فاعل هُوَ مستتر ہے۔ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ اس کا مفعول ہے؛ لَّن، يَقْدِرَ کو منصوب اور أَحَدٌ اس کا فاعل ہے۔ آیت کا خلاصہ کیا وہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر قابو نہ پاسکے گا؟ أَيَحْسَبُ — کیا وہ سمجھتا ہے گرامر: أَ ہمزۂ استفہام؛ يَحْسَبُ واحد مذکر غائب مضارع مرفوع اور فاعل هُوَ مستتر ہے۔ أَن — کہ ہرگز گرامر: حرفِ مصدری و نصب ہے جو يَحْسَبُ کے مفعول والا جملہ شروع کرتا ہے۔ لَّن — نہیں گرامر: حرفِ نفی و نصبِ استقبال ہے جو يَقْدِرَ کو منصوب کرتا ہے۔ يَقْدِرَ — قادر ہوسکے گا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ مضارع ہے جو لَّن کی وجہ سے منصوب ہے۔ عَلَيْهِ — اس پر گرامر: عَلَىٰ حرفِ جر اور متصل هِ واحد مذکر ضمیرِ مجرور ہے۔ یہ ترکیب «يَقْدِرَ» سے متعلق ہے۔ أَحَدٌۭ — کوئی ایک گرامر: نکرہ واحد مذکر اسمِ مرفوع ہے جو يَقْدِرَ کا فاعل ہے۔
6. سورۃ البلد، آیت ٦
يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًۭا لُّبَدًا جملے کی ترکیب يَقُولُ کا فاعل هُوَ مستتر ہے۔ أَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا مقولۂ قول ہے؛ متصل تُ فاعل، مَالًا مفعول بہ اور لُّبَدًا اس کی صفت ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ فخر سے کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال خرچ کردیا۔ يَقُولُ — وہ کہتا ہے گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مرفوع ہے، فاعل هُوَ مستتر اور اگلا جملہ مقولۂ قول ہے۔ أَهْلَكْتُ — میں نے ہلاک کیا گرامر: بابِ افعال کا واحد متکلم فعلِ ماضی ہے اور متصل تُ فاعل ہے۔ مَالًۭا — مال گرامر: نکرہ مذکر مفعول بہ منصوب ہے جو أَهْلَكْتُ کا مفعول ہے۔ لُّبَدًا — ڈھیروں گرامر: نکرہ مذکر صفتِ منصوب ہے جو مَالًا کی صفت ہے۔
7. سورۃ البلد، آیت ٧
أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَهُۥٓ أَحَدٌ جملے کی ترکیب أَ استفہام اور يَحْسَبُ کا فاعل مستتر ہے۔ أَن کے بعد جملہ اس کا مفعول ہے؛ لَّمْ، يَرَ کو مجزوم، متصل هُۥٓ مفعول اور أَحَدٌ فاعل ہے۔ آیت کا خلاصہ کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اسے نہیں دیکھا؟ أَيَحْسَبُ — کیا وہ سمجھتا ہے گرامر: أَ ہمزۂ استفہام اور يَحْسَبُ واحد مذکر غائب مضارع مرفوع ہے جس کا فاعل مستتر ہے۔ أَن — کہ گرامر: حرفِ مصدری و نصب ہے جو يَحْسَبُ کے مفعول والا جملہ شروع کرتا ہے۔ لَّمْ — نہیں گرامر: حرفِ نفی و جزم ہے جو اگلے مضارع کو مجزوم کرتا ہے۔ يَرَهُۥٓ — دیکھا اس کو گرامر: واحد مذکر غائب مضارع مجزوم ہے؛ متصل هُۥٓ مفعول بہ اور جزم کی وجہ سے آخری یاء حذف ہے۔ أَحَدٌ — کسی ایک نے گرامر: نکرہ واحد مذکر فاعلِ مرفوع ہے جو يَرَ کا فاعل ہے۔
8. سورۃ البلد، آیت ٨
أَلَمْ نَجْعَل لَّهُۥ عَيْنَيْنِ جملے کی ترکیب أَلَمْ میں ہمزہ استفہام اور لَمْ نفی و جزم کے لیے ہے؛ نَجْعَل مجزوم اور فاعل نَحْنُ مستتر ہے۔ عَيْنَيْنِ تثنیہ مفعول بہ اور لَّهُۥ فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے اسے دو آنکھیں عطا کیں۔ أَلَمْ — کیا نہیں گرامر: أَ ہمزۂ استفہام اور لَمْ حرفِ نفی و جزم ہے۔ نَجْعَل — ہم نے بنائیں گرامر: جمع متکلم فعلِ مضارع مجزوم ہے جسے لَمْ نے جزم دیا اور فاعل نَحْنُ مستتر ہے۔ لَّهُۥ — اس کے لئے گرامر: لِ حرفِ جر اور متصل هُۥ واحد مذکر ضمیرِ مجرور ہے۔ یہ ترکیب «نَجْعَل» سے متعلق ہے۔ عَيْنَيْنِ — دو آنکھیں گرامر: تثنیہ مؤنث مفعول بہ منصوب ہے جس کی علامتِ نصب یاء ہے۔
9. سورۃ البلد، آیت ٩
وَلِسَانًۭا وَشَفَتَيْنِ جملے کی ترکیب یہ نَجْعَل کے مفعولوں کو جاری رکھتا ہے؛ وَلِسَانًا، عَيْنَيْنِ پر اور وَشَفَتَيْنِ، لِسَانًا پر معطوف ہے۔ دونوں منصوب ہیں۔ آیت کا خلاصہ اور زبان اور دو ہونٹ عطا کیے۔ وَلِسَانًۭا — اور ایک زبان گرامر: وَ حرفِ عطف اور لِسَانًا نکرہ مذکر اسمِ منصوب ہے جو پچھلے مفعول پر معطوف ہے۔ وَشَفَتَيْنِ — اور دو ہونٹ گرامر: وَ حرفِ عطف اور شَفَتَيْنِ تثنیہ مؤنث اسمِ منصوب ہے جس کی علامت یاء ہے۔
10. سورۃ البلد، آیت ١٠
وَهَدَيْنَـٰهُ ٱلنَّجْدَيْنِ جملے کی ترکیب وَهَدَيْنَـٰهُ فعلِ ماضی ہے؛ متصل نَا فاعل اور هُ پہلا مفعول ہے۔ ٱلنَّجْدَيْنِ معرفہ تثنیہ دوسرا مفعول بہ ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے اسے خیر و شر کی دونوں راہیں دکھا دیں۔ وَهَدَيْنَـٰهُ — اور راہ دکھائی ہم نے اس کو گرامر: وَ حرفِ عطف؛ هَدَيْ جمع متکلم فعلِ ماضی، متصل نَا فاعل اور هُ پہلا مفعول ہے۔ ٱلنَّجْدَيْنِ — دو راستوں کی گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور نَّجْدَيْنِ تثنیہ مذکر دوسرا مفعول بہ منصوب ہے جس کی علامت یاء ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
لَآ أُقْسِمُ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ ١ أُقْسِمُ کی درست صرفی پہچان کیا ہے؟
- فعلِ مضارع، واحد متکلم
- فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب
- فعلِ امر، واحد مذکر حاضر
- فعلِ مضارع، جمع مذکر غائب
سوال 2
وَأَنتَ حِلٌّۢ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ ٢ اسمیہ جملے میں حِلٌّ کیا ہے؟
- مبتدا
- خبر
- مفعول بہ
- مضاف الیہ
سوال 3
وَوَالِدٍۢ وَمَا وَلَدَ ٣ وَلَدَ کی درست صرفی پہچان کیا ہے؟
- فعلِ مضارع، واحد مذکر غائب
- فعلِ امر، واحد مذکر حاضر
- فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب
- مصدر
سوال 4
لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ فِى كَبَدٍ ٤ خَلَقْنَا میں متصل نَا کیا ہے؟
سوال 5
أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌۭ ٥ يَقْدِرَ کے ساتھ أَحَدٌ کیا ہے؟
- فاعلِ مرفوع
- مفعول بہ
- خبر
- صفت
سوال 6
يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًۭا لُّبَدًا ٦ أَهْلَكْتُ کے ساتھ مَالًا کیا ہے؟
- فاعل
- مفعول بہ منصوب
- خبر
- مضاف الیہ
سوال 7
أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَهُۥٓ أَحَدٌ ٧ يَرَهُۥٓ میں متصل هُۥٓ کیا ہے؟
سوال 8
أَلَمْ نَجْعَل لَّهُۥ عَيْنَيْنِ ٨ نَجْعَل کے ساتھ عَيْنَيْنِ کیا ہے؟
- تثنیہ فاعل
- تثنیہ خبر
- تثنیہ مجرور
- تثنیہ مفعول بہ منصوب
سوال 9
وَلِسَانًۭا وَشَفَتَيْنِ ٩ شَفَتَيْنِ نحوی طور پر کیا ہے؟
- معطوف تثنیہ اسمِ منصوب
- تثنیہ فاعل
- واحد صفت
- مضاف الیہ مجرور
سوال 10
وَهَدَيْنَـٰهُ ٱلنَّجْدَيْنِ ١٠ هَدَيْنَـٰهُ کے ساتھ ٱلنَّجْدَيْنِ کیا ہے؟
- پہلا مفعول
- دوسرا مفعول
- فاعل
- خبر
تعاملی کوئز کھولیں