سورۃ البینہ — حصہ ١

آیات ١–٥ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ البینہ — حصہ ١ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ البینہ، آیت ١ — حصہ ١/٢

لَمْ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ … جملے کی ترکیب لَمْ نفی و جزم کے لیے اور يَكُنِ فعلِ ناقص مجزوم ہے۔ ٱلَّذِينَ اس کا اسم، كَفَرُوا۟ صلہ، مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ وصفی ترکیب اور مُنفَكِّينَ خبر منصوب ہے۔ آیت کا خلاصہ اہلِ کتاب اور مشرک منکرین واضح دلیل آنے تک اپنے انکار سے باز نہ آئے۔ لَمْ — نہیں گرامر: حرفِ نفی و جزم ہے۔ يَكُنِ — تھے گرامر: لَمْ سے مجزوم واحد مذکر غائب فعلِ مضارع ناقص ہے۔ ٱلَّذِينَ — وہ لوگ جو گرامر: جمع مذکر اسمِ موصول، يَكُنِ کا اسم ہے۔ كَفَرُوا۟ — منکر ہوئے گرامر: جمع مذکر فعلِ ماضی؛ وا فاعل اور جملہ صلۂ موصول ہے۔ «كَفَرُوا۟» کے ساتھ حالیہ جزِ محذوف مانا گیا ہے۔ مِنْ — میں سے گرامر: حرفِ جر ہے۔ یہ ترکیب ایک جزِ محذوف کے ذریعے متعلق ہے۔ أَهْلِ — اہل گرامر: مِنْ کے بعد اسم مجرور اور آگے مضاف ہے۔ ٱلْكِتَـٰبِ — کتاب کے گرامر: معرفہ مذکر مضاف الیہ مجرور ہے۔ وَٱلْمُشْرِكِينَ — اور مشرکین گرامر: وَ عطف؛ معرفہ جمع مذکر اسمِ فاعل معطوف مجرور ہے۔ مُنفَكِّينَ — باز آنے والے گرامر: بابِ انفعال کا جمع مذکر اسمِ فاعل، يَكُنِ کی خبر منصوب ہے۔

2. سورۃ البینہ، آیت ١ — حصہ ٢/٢

حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ ۝١ جملے کی ترکیب حَتَّىٰ انتہا کا جملہ شروع کرتا ہے۔ تَأْتِيَ مضارع منصوب، هُم مفعول اور ٱلْبَيِّنَةُ فاعل مرفوع ہے۔ آیت کا خلاصہ اہلِ کتاب اور مشرک منکرین واضح دلیل آنے تک اپنے انکار سے باز نہ آئے۔ حَتَّىٰ — یہاں تک کہ گرامر: حرفِ غایت و نصب ہے۔ تَأْتِيَهُمُ — ان کے پاس آئے گرامر: واحد مؤنث غائب مضارع منصوب ہے؛ هُم مفعول ہے۔ ٱلْبَيِّنَةُ — روشن دلیل گرامر: معرفہ مؤنث فاعل مرفوع ہے۔

3. سورۃ البینہ، آیت ٢

رَسُولٌ مِّنَ ٱللَّهِ يَتْلُوا۟ صُحُفًا مُّطَهَّرَةً ۝٢ جملے کی ترکیب رَسُولٌ البینہ کی وضاحت کرنے والا بدل مرفوع ہے۔ مِّنَ ٱللَّهِ اس کا وصف، يَتْلُوا۟ وصفی جملہ، صُحُفًا مفعول اور مُّطَهَّرَةً اس کی صفت ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ واضح دلیل اللہ کے رسول ﷺ ہیں جو پاک صحیفے پڑھتے ہیں۔ رَسُولٌۭ — ایک رسول گرامر: نکرہ مذکر بدل مرفوع ہے جو ٱلْبَيِّنَةُ کی وضاحت کرتا ہے۔ «رَسُولٌۭ» کے ساتھ صفتِ محذوف مانی گئی ہے۔ مِّنَ — کی طرف سے گرامر: حرفِ جر ہے۔ یہ ترکیب ایک جزِ محذوف کے ذریعے متعلق ہے۔ ٱللَّهِ — اللہ گرامر: اسمِ علم مِنَ کے بعد مجرور ہے۔ يَتْلُوا۟ — پڑھتا ہے گرامر: واحد مذکر غائب مضارع، فاعل مستتر اور وصفی جملہ ہے۔ صُحُفًۭا — صحیفے گرامر: نکرہ جمع مفعول بہ منصوب ہے۔ مُّطَهَّرَةًۭ — پاک گرامر: واحد مؤنث اسمِ مفعول صفت منصوب ہے جو غیر عاقل جمع صُحُفًا کی صفت ہے۔

4. سورۃ البینہ، آیت ٣

فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ ۝٣ جملے کی ترکیب فِيهَا خبر مقدم، كُتُبٌ مبتدا مؤخر مرفوع اور قَيِّمَةٌ اس کی صفت مرفوع ہے۔ آیت کا خلاصہ ان صحیفوں میں درست اور مضبوط تعلیمات ہیں۔ فِيهَا — ان میں گرامر: حرفِ جر اور واحد مؤنث ضمیر کی خبر مقدم ترکیب ہے۔ كُتُبٌۭ — مضامین گرامر: نکرہ جمع مبتدا مؤخر مرفوع ہے۔ قَيِّمَةٌۭ — درست گرامر: غیر عاقل جمع كُتُبٌ کی واحد مؤنث صفت مرفوع ہے۔

5. سورۃ البینہ، آیت ٤ — حصہ ١/٢

وَمَا تَفَرَّقَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ … جملے کی ترکیب مَا نفی کرتا ہے۔ تَفَرَّقَ بابِ تفعل، ٱلَّذِينَ فاعل، أُوتُوا۟ صلۂ موصول مجہول اور ٱلْكِتَـٰبَ اس کا مفعول ہے۔ آیت کا خلاصہ اہلِ کتاب واضح دلیل آنے کے بعد اختلاف میں پڑے۔ وَمَا — اور نہیں گرامر: وَ استئناف اور مَا حرفِ نفی ہے۔ تَفَرَّقَ — اختلاف کیا گرامر: بابِ تفعل کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے۔ ٱلَّذِينَ — وہ لوگ جنہیں گرامر: جمع مذکر اسمِ موصول، فاعل ہے۔ أُوتُوا۟ — دی گئی گرامر: بابِ افعال کا جمع مذکر فعلِ ماضی مجہول؛ وا نائب فاعل ہے۔ ٱلْكِتَـٰبَ — کتاب گرامر: معرفہ مذکر اسم منصوب ہے؛ فعلِ مجہول أُوتُوا۟ کے ساتھ دوسرا مفعول ہے۔

6. سورۃ البینہ، آیت ٤ — حصہ ٢/٢

إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ ۝٤ جملے کی ترکیب إِلَّا مِنۢ بَعْدِ وقت کی حصر والی ترکیب ہے۔ مَا مضاف الیہ، جَآءَتْهُمُ اس کا صلہ، هُم مفعول اور ٱلْبَيِّنَةُ فاعل ہے۔ آیت کا خلاصہ اہلِ کتاب واضح دلیل آنے کے بعد اختلاف میں پڑے۔ إِلَّا — مگر گرامر: نفی کے بعد حرفِ حصر ہے۔ مِنۢ — کے بعد سے گرامر: حرفِ جر ہے۔ بَعْدِ — بعد گرامر: مِن کے بعد ظرف مجرور اور آگے مضاف ہے۔ مَا — اس کے کہ گرامر: اسمِ موصول، بَعْدِ کا مضاف الیہ ہے۔ جَآءَتْهُمُ — ان کے پاس آئی گرامر: واحد مؤنث فعلِ ماضی ہے؛ هُم مفعول ہے۔ ٱلْبَيِّنَةُ — روشن دلیل گرامر: معرفہ مؤنث فاعل مرفوع ہے۔

7. سورۃ البینہ، آیت ٥ — حصہ ١/٢

وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ … جملے کی ترکیب مَا أُمِرُوٓا۟ إِلَّا نفی و حصر ہے۔ لِيَعْبُدُوا۟ لامِ تعلیل سے منصوب، ٱللَّهَ مفعول ہے۔ مُخْلِصِينَ اور حُنَفَآءَ حال منصوب، جبکہ ٱلدِّينَ اسمِ فاعل کا مفعول ہے۔ آیت کا خلاصہ انہیں خالص اللہ کی عبادت، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا۔ وَمَآ — اور نہیں گرامر: وَ استئناف اور مَآ حرفِ نفی ہے۔ أُمِرُوٓا۟ — انہیں حکم دیا گیا گرامر: جمع مذکر فعلِ ماضی مجہول؛ وا نائب فاعل ہے۔ إِلَّا — مگر گرامر: نفی کے بعد حرفِ حصر ہے۔ یہ ترکیب «أُمِرُوا۟» سے متعلق ہے۔ لِيَعْبُدُوا۟ — کہ عبادت کریں گرامر: لِ لامِ تعلیل؛ جمع مذکر مضارع منصوب اور وا فاعل ہے۔ ٱللَّهَ — اللہ کی گرامر: اسمِ علم يَعْبُدُوا۟ کا مفعول بہ منصوب ہے۔ مُخْلِصِينَ — خالص کرتے ہوئے گرامر: بابِ افعال کا جمع مذکر اسمِ فاعل، حال منصوب ہے۔ لَهُ — اسی کے لیے گرامر: حرفِ جر اور واحد مذکر ضمیر مجرور، مُخْلِصِينَ سے متعلق ہے۔ ٱلدِّينَ — دین کو گرامر: معرفہ مذکر اسمِ فاعل کا مفعول بہ منصوب ہے۔ حُنَفَآءَ — یکسو ہو کر گرامر: جمع مذکر حال منصوب ہے۔

8. سورۃ البینہ، آیت ٥ — حصہ ٢/٢

وَيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلْقَيِّمَةِ ۝٥ جملے کی ترکیب وَيُقِيمُوا۟ اور وَيُؤْتُوا۟ دو معطوف منصوب فعل ہیں، واو فاعل ہے اور ہر فعل کا مفعول آگے ہے۔ ذَٰلِكَ مبتدا، دِينُ خبر اور ٱلْقَيِّمَةِ مضاف الیہ ہے۔ آیت کا خلاصہ انہیں خالص اللہ کی عبادت، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا۔ وَيُقِيمُوا۟ — اور قائم کریں گرامر: وَ عطف؛ بابِ افعال کا جمع مذکر مضارع منصوب اور وا فاعل ہے۔ ٱلصَّلَوٰةَ — نماز گرامر: معرفہ مؤنث مفعول بہ منصوب ہے۔ وَيُؤْتُوا۟ — اور دیں گرامر: وَ عطف؛ بابِ افعال کا جمع مذکر مضارع منصوب اور وا فاعل ہے۔ ٱلزَّكَوٰةَ ۚ — زکوٰۃ گرامر: معرفہ مؤنث مفعول بہ منصوب ہے؛ علامتِ وقف نحوی جز نہیں۔ وَذَٰلِكَ — اور یہی گرامر: وَ استئناف؛ واحد مذکر اسمِ اشارہ ذَٰلِكَ مبتدا ہے۔ دِينُ — دین گرامر: مذکر خبر مرفوع اور آگے مضاف ہے۔ ٱلْقَيِّمَةِ — سیدھی ملت کا گرامر: معرفہ مؤنث مضاف الیہ مجرور ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

لَمْ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ … مُنفَكِّينَ کا نحوی محل کیا ہے؟

  • يَكُنِ کی خبر منصوب
  • كَفَرُوا۟ کا فاعل
  • مضاف الیہ مجرور
  • مفعول بہ

سوال 2

حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ ۝١ تَأْتِيَ کے بعد ٱلْبَيِّنَةُ کا محل کیا ہے؟

  • مفعول
  • فاعل مرفوع
  • حال منصوب
  • اسم مجرور

سوال 3

رَسُولٌ مِّنَ ٱللَّهِ يَتْلُوا۟ صُحُفًا مُّطَهَّرَةً ۝٢ يَتْلُوا۟ کے ساتھ صُحُفًا کا محل کیا ہے؟

  • فاعل
  • صفت
  • مفعول بہ منصوب
  • خبر

سوال 4

فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ ۝٣ اس جملۂ اسمیہ میں فِيهَا کا محل کیا ہے؟

  • مبتدا مؤخر
  • صفت
  • مفعول
  • خبر مقدم

سوال 5

وَمَا تَفَرَّقَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ … تَفَرَّقَ کا فاعل کون ہے؟

  • ٱلَّذِينَ
  • ٱلْكِتَـٰبَ
  • مَا
  • ضمیر مستتر

سوال 6

إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ ۝٤ جَآءَتْهُمُ میں متصل هُم کیا ہے؟

  • فاعل
  • ضمیر مفعول
  • ضمیر مجرور
  • ضمیرِ تاکید

سوال 7

وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ … يَعْبُدُوا۟ کے ساتھ ٱللَّهَ کا محل کیا ہے؟

  • فاعل
  • خبر
  • مفعول بہ منصوب
  • حال

سوال 8

وَيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلْقَيِّمَةِ ۝٥ يُقِيمُوا۟ کے بعد ٱلصَّلَوٰةَ کیا ہے؟

  • فاعل
  • مضاف الیہ
  • خبر
  • مفعول بہ منصوب

تعاملی کوئز کھولیں