سورۃ البروج — حصہ ٣
آیات ١٦–٢٢ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ البروج — حصہ ٣ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ البروج، آیت ١٦
فَعَّالٌۭ لِّمَا يُرِيدُ جملے کی ترکیب فَعَّالٌ ایک اور خبرِ مرفوع ہے، یا مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ لِّمَا اس سے متعلق ہے؛ يُرِيدُ، مَا کا صلۂ موصول ہے جس میں عائد مفعولی ضمیر محذوف ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ اپنی حکمت کے مطابق جو چاہتا ہے کر دیتا ہے اور کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ فَعَّالٌۭ — کہ ڈالنے والا ہے گرامر: صیغۂ مبالغہ/اسمِ فاعل مرفوع ہے؛ مزید خبر یا مبتدا محذوف کی خبر بنتا ہے۔ لِّمَا — واسطے اس کے جو گرامر: لِّ حرفِ جر اور مَا اسمِ موصول مجرور ہے؛ جار و مجرور فَعَّالٌ سے متعلق ہے۔ يُرِيدُ — وہ چاہتا ہے گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مرفوع ہے جس کا فاعل مستتر هُوَ ہے؛ یہ صلۂ موصول ہے اور عائد مفعولی ضمیر محذوف ہے۔
2. سورۃ البروج، آیت ١٧
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْجُنُودِ جملے کی ترکیب هَلْ سوال شروع کرتا ہے۔ أَتَىٰكَ میں متصل كَ مفعول بہ مقدم، جبکہ حَدِيثُ فاعلِ مرفوع مؤخر اور ٱلْجُنُودِ کی طرف مضاف ہے۔ آیت کا خلاصہ کیا تمہیں پچھلے لشکروں کی خبر پہنچی ہے؟ هَلْ — کیا گرامر: غیر عامل حرفِ استفہام ہے۔ أَتَىٰكَ — آئی تیرے پاس گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ متصل كَ اس کا مفعول بہ مقدم ہے۔ حَدِيثُ — خبر گرامر: أَتَىٰكَ کا فاعلِ مرفوع مؤخر ہے اور ٱلْجُنُودِ کی طرف مضاف ہے۔ ٱلْجُنُودِ — لشکروں کی گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور جُنُودِ، حَدِيثُ کا مضاف الیہ مجرور ہے۔
3. سورۃ البروج، آیت ١٨
فِرْعَوْنَ وَثَمُودَ جملے کی ترکیب فِرْعَوْنَ، ٱلْجُنُودِ کا بدلِ مجرور ہے اور ممنوع من الصرف ہونے کی وجہ سے فتحہ کے ساتھ مجرور ہے۔ وَثَمُودَ اس پر معطوف اور اسی علامت کے ساتھ مجرور ہے۔ آیت کا خلاصہ فرعون اور ثمود کو مہلت ملی، پھر ان کے کفر و سرکشی پر سخت پکڑ ہوئی۔ فِرْعَوْنَ — فرعون گرامر: اسمِ علم ہے جو ٱلْجُنُودِ کا بدلِ مجرور ہے؛ ممنوع من الصرف ہونے کی وجہ سے علامت فتحہ ہے۔ وَثَمُودَ — اور ثمود کی گرامر: وَ حرفِ عطف؛ ثَمُودَ اسمِ علم ہے جو فِرْعَوْنَ پر معطوف اور ممنوع من الصرف ہونے کی وجہ سے فتحہ کے ساتھ مجرور ہے۔
4. سورۃ البروج، آیت ١٩
بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى تَكْذِيبٍۢ جملے کی ترکیب بَلِ اضراب کے ساتھ نیا جملہ شروع کرتا ہے۔ ٱلَّذِينَ مبتدا مرفوع، كَفَرُوا۟ اس کا صلۂ موصول اور فِى تَكْذِيبٍ اس کی خبر ہے۔ آیت کا خلاصہ منکر پچھلے واقعات سے عبرت لینے کے بجائے حق کو جھٹلاتے رہتے ہیں۔ بَلِ — بلکہ گرامر: غیر عامل حرفِ اضراب و استئناف ہے؛ آخری کسرہ اجتماعِ ساکنین سے بچنے کے لیے ہے۔ ٱلَّذِينَ — وہ لوگ گرامر: جمع مذکر اسمِ موصول ہے جو مبتدا مرفوع ہے؛ اس کا صلۂ موصول بعد میں آتا ہے۔ كَفَرُوا۟ — جنہوں نے کفر کیا گرامر: جمع مذکر غائب فعلِ ماضی اور صلۂ موصول ہے۔ متصل و فاعل اور آخری الف کتابتی ہے۔ فِى — میں گرامر: حرفِ جر ہے؛ فِى تَكْذِيبٍۢ کا جار و مجرور ٱلَّذِينَ کی خبر ہے۔ تَكْذِيبٍۢ — جھٹلانے میں ہیں گرامر: بابِ تفعیل کا نکرہ مصدر ہے جو فِى کے بعد مجرور ہے۔
5. سورۃ البروج، آیت ٢٠
وَٱللَّهُ مِن وَرَآئِهِم مُّحِيطٌۢ جملے کی ترکیب ٱللَّهُ مبتدا مرفوع اور مُّحِيطٌۢ اس کی خبرِ مرفوع ہے۔ مِن وَرَآئِهِم خبر سے متعلق ہے؛ متصل هِم، وَرَآءِ کا مضاف الیہ ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے انہیں اپنی قدرت سے گھیر رکھا ہے، اس لیے وہ سزا سے بچ نہیں سکتے۔ وَٱللَّهُ — اور اللہ گرامر: وَ حرفِ عطف اور ٱللَّهُ مبتدا مرفوع ہے۔ مِن — سے گرامر: حرفِ جر ہے جو وَرَآئِهِم کو جر دیتا اور مُّحِيطٌۢ سے متعلق ہے۔ وَرَآئِهِم — ان کے آگے گرامر: وَرَآءِ، مِن کے بعد مجرور اور متصل هِم اس کا مضاف الیہ ہے۔ مُّحِيطٌۢ — گھیرے ہوئے ہے گرامر: بابِ افعال کا نکرہ واحد مذکر اسمِ فاعل مرفوع ہے جو ٱللَّهُ کی خبر ہے۔
6. سورۃ البروج، آیت ٢١
بَلْ هُوَ قُرْءَانٌۭ مَّجِيدٌۭ جملے کی ترکیب بَلْ اضراب کے ساتھ کلام آگے بڑھاتا ہے۔ هُوَ مبتدا، قُرْءَانٌۭ خبرِ مرفوع اور مَّجِيدٌۭ اس کی صفتِ مرفوع ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے اور منکروں کے جھٹلانے سے اس کی عظمت کم نہیں ہوتی۔ بَلْ — بلکہ گرامر: غیر عامل حرفِ اضراب و استئناف ہے۔ هُوَ — وہ گرامر: واحد مذکر غائب کی ضمیرِ منفصل ہے جو مبتدا مرفوع ہے۔ قُرْءَانٌۭ — قرآن گرامر: نکرہ اسمِ علم مرفوع ہے جو هُوَ کی خبر ہے۔ مَّجِيدٌۭ — مجید ہے گرامر: نکرہ واحد مذکر صفتِ مرفوع ہے جو قُرْءَانٌۭ کو بیان کرتی ہے۔
7. سورۃ البروج، آیت ٢٢
فِى لَوْحٍۢ مَّحْفُوظٍۭ جملے کی ترکیب فِى لَوْحٍ قرآن کی وصفی تکمیل ہے: فِى، لَوْحٍ کو جر دیتا ہے اور مَّحْفُوظٍۭ اس کی صفتِ مجرور ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا اور ہر تبدیلی سے محفوظ ہے۔ فِى — میں گرامر: حرفِ جر ہے جو لَوْحٍۢ کو جر دیتا ہے؛ جار و مجرور قرآن کی وصفی تکمیل ہے۔ لَوْحٍۢ — لوح گرامر: فِى کے بعد نکرہ واحد مذکر اسمِ مجرور ہے۔ مَّحْفُوظٍۭ — محفوظ گرامر: نکرہ واحد مذکر اسمِ مفعول مجرور ہے جو لَوْحٍۢ کی صفت ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
فَعَّالٌۭ لِّمَا يُرِيدُ ١٦ لِّمَا میں مَا کیا ہے؟
- حرفِ نفی
- اسمِ استفہام
- فاعل
- اسمِ موصول محلِ جر میں
سوال 2
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْجُنُودِ ١٧ أَتَىٰكَ کے ساتھ حَدِيثُ کیا ہے؟
- فاعلِ مرفوع
- مفعول بہ
- خبر
- صفت
سوال 3
فِرْعَوْنَ وَثَمُودَ ١٨ فِرْعَوْنَ مجرور ہونے کے باوجود فتحہ کے ساتھ کیوں ہے؟
- یہ جمع ہے
- یہ ممنوع من الصرف ہے
- یہ مثنیٰ ہے
- یہ مفعول بہ ہے
سوال 4
بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى تَكْذِيبٍۢ ١٩ فِى تَكْذِيبٍۢ کا نحوی کردار کیا ہے؟
- مفعول بہ
- فاعل
- ٱلَّذِينَ کی خبر
- صفت
سوال 5
وَٱللَّهُ مِن وَرَآئِهِم مُّحِيطٌۢ ٢٠ مُّحِيطٌۢ کیا ہے؟
- مفعول بہ
- صفت
- مضاف الیہ
- ٱللَّهُ کی خبرِ مرفوع
سوال 6
بَلْ هُوَ قُرْءَانٌۭ مَّجِيدٌۭ ٢١ هُوَ کے بعد قُرْءَانٌۭ کیا ہے؟
- خبرِ مرفوع
- مفعول بہ
- مضاف الیہ
- حال
سوال 7
فِى لَوْحٍۢ مَّحْفُوظٍۭ ٢٢ مَّحْفُوظٍۭ کیا ہے؟
- فاعل
- لَوْحٍۢ کی صفتِ مجرور
- مفعول بہ
- خبر
تعاملی کوئز کھولیں