سورۃ الفجر — حصہ ٣
آیات ٢١–٣٠ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ الفجر — حصہ ٣ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ الفجر، آیت ٢١
كَلَّآ إِذَا دُكَّتِ ٱلْأَرْضُ دَكًّۭا دَكًّۭا جملے کی ترکیب كَلَّآ ردع اور إِذَا ظرفِ زمان ہے۔ دُكَّتِ فعلِ ماضی مجہول، ٱلْأَرْضُ نائب فاعل اور دونوں دَكًّۭا فعل کے عمل کو مؤکد کرتے ہیں۔ آیت کا خلاصہ ہرگز نہیں؛ جب زمین کو بار بار کوٹ کر ہموار کردیا جائے گا۔ كَلَّآ — ہرگز نہیں گرامر: حرفِ ردع و زجر ہے اور نحوی عمل نہیں کرتا۔ إِذَا — جب گرامر: غیر جازم ظرفِ زمان و شرط ہے جو مجہول جملہ شروع کرتا ہے؛ اس کا جواب آگے يَقُولُ سے آتا ہے۔ دُكَّتِ — ریزہ ریزہ کر دی جائے گی گرامر: واحد مؤنث غائب فعلِ ماضی مجہول ہے؛ آخری تِ تائے تانیث ہے جسے اگلے ساکن سے پہلے کسرہ دیا گیا ہے۔ ٱلْأَرْضُ — زمین گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور أَرْضُ واحد مؤنث نائب فاعلِ مرفوع ہے۔ دَكًّۭا — خوب ریزہ گرامر: نکرہ مذکر مفعول مطلق ہے جو دُكَّتِ کے عمل کی تاکید کرتا ہے۔ دَكًّۭا — ریزہ کرکے گرامر: دوسرا نکرہ مذکر مفعول مطلق ہے جو تکرار و تاکید کے لیے آیا ہے۔
2. سورۃ الفجر، آیت ٢٢
وَجَآءَ رَبُّكَ وَٱلْمَلَكُ صَفًّۭا صَفًّۭا جملے کی ترکیب جَآءَ فعلِ ماضی اور رَبُّكَ اس کا فاعل ہے۔ وَٱلْمَلَكُ فاعل پر معطوف اور دونوں صَفًّۭا حالِ منصوب ہیں۔ آیت کا خلاصہ اور رب کی قہری تجلی اس کی شان کے شایان ظاہر ہوگی اور فرشتے صف در صف آئیں گے۔ وَجَآءَ — اور آئے گا گرامر: وَ حرفِ عطف اور جَآءَ واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے جو آئندہ منظر کے لیے آیا ہے۔ رَبُّكَ — رب تیرا گرامر: رَبُّ، جَآءَ کا فاعلِ مرفوع اور متصل كَ مضاف الیہ ہے۔ وَٱلْمَلَكُ — اور فرشتے گرامر: وَ حرفِ عطف اور ٱلْمَلَكُ معرفہ اسمِ مرفوع ہے جو فاعل پر معطوف ہے۔ صَفًّۭا — صف گرامر: نکرہ مذکر حالِ منصوب ہے جو آنے کی حالت بیان کرتا ہے۔ صَفًّۭا — در صف گرامر: دوسرا نکرہ مذکر حالِ منصوب ہے جو پہلے حال کے ساتھ تکرار و ترتیب بیان کرتا ہے۔
3. سورۃ الفجر، آیت ٢٣
وَجِا۟ىٓءَ يَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍۢ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ وَأَنَّىٰ لَهُ ٱلذِّكْرَىٰ جملے کی ترکیب وَجِا۟ىٓءَ فعلِ ماضی مجہول ہے اور بِجَهَنَّمَ اس سے متعلق ہے۔ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ میں انسان فاعل ہے، اور وَأَنَّىٰ لَهُ ٱلذِّكْرَىٰ میں استفہام ہے کہ اب نصیحت کہاں مفید ہوگی۔ آیت کا خلاصہ اور جہنم سامنے لائی جائے گی تو انسان سمجھے گا، مگر اس وقت سمجھنا بے فائدہ ہوگا۔ وَجِا۟ىٓءَ — اور لائی جائے گی گرامر: وَ حرفِ عطف اور جِا۟ىٓءَ واحد مذکر غائب فعلِ ماضی مجہول ہے۔ يَوْمَئِذٍۭ — اس دن گرامر: يَوْمَ ظرفِ زمان منصوب اور إِذٍ اس کا مضاف الیہ ہے؛ تنوین محذوف جملے کے عوض ہے۔ یہ ترکیب «جِا۟ىٓءَ» سے متعلق ہے۔ بِجَهَنَّمَ ۚ — جہنم گرامر: بِ حرفِ جر اور جَهَنَّمَ اسمِ علم غیر منصرف ہے، اس لیے جر میں فتحہ آیا ہے۔ يَوْمَئِذٍۢ — اس دن گرامر: يَوْمَ ظرفِ زمان منصوب ہے جو يَتَذَكَّرُ سے متعلق اور إِذٍ اس کا مضاف الیہ ہے۔ يَتَذَكَّرُ — یاد کرے گا گرامر: بابِ تفعل کا واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مرفوع ہے۔ ٱلْإِنسَـٰنُ — انسان گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور إِنسَانُ، يَتَذَكَّرُ کا فاعلِ مرفوع ہے۔ وَأَنَّىٰ — اور کہاں سے ہے گرامر: وَ استئناف اور أَنَّىٰ اسمِ استفہام ہے جو کیسے/کہاں سے کا سوال کرتا ہے۔ یہ ترکیب ایک جزِ محذوف کے ذریعے متعلق ہے۔ لَهُ — اس کے لئے گرامر: لِ حرفِ جر اور متصل هُ واحد مذکر ضمیرِ مجرور ہے۔ یہ ترکیب ایک جزِ محذوف کے ذریعے متعلق ہے۔ ٱلذِّكْرَىٰ — نصیحت گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور ذِّكْرَىٰ استفہامی اسمیہ جملے کا اسمِ مرفوع ہے، جس کی حرکت مقدر ہے۔ «ٱلذِّكْرَىٰ» کے ساتھ خبر محذوف مانی گئی ہے۔
4. سورۃ الفجر، آیت ٢٤
يَقُولُ يَـٰلَيْتَنِى قَدَّمْتُ لِحَيَاتِى جملے کی ترکیب يَقُولُ پچھلے ظرفی جملے کا جواب ہے اور اس کا فاعل هُوَ مستتر ہے۔ يَـٰلَيْتَنِى تمنی کی ترکیب ہے؛ متصل نِى، لَيْتَ کا اسم اور قَدَّمْتُ اس کی خبر کا جملہ ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ حسرت سے کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اصل زندگی کے لیے نیکیاں آگے بھیجی ہوتیں۔ يَقُولُ — کہے گا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مرفوع ہے، فاعل هُوَ مستتر اور یہ پہلے ظرفی جملے کا جواب ہے۔ يَـٰلَيْتَنِى — اے کاش کہ میں گرامر: يَا تنبیہ، لَيْتَ حرفِ تمنی و نصب، نِ نونِ وقایہ اور متصل ى اس کا اسم ہے۔ قَدَّمْتُ — آگے بھیجتا گرامر: بابِ تفعیل کا واحد متکلم فعلِ ماضی ہے، متصل تُ فاعل اور پورا جملہ لَيْتَ کی خبر ہے۔ لِحَيَاتِى — اپنی زندگی کے لئے گرامر: لِ حرفِ جر، حَيَاتِ مؤنث اسمِ مجرور اور متصل ى مضاف الیہ ہے۔ یہ ترکیب «قَدَّمْتُ» سے متعلق ہے۔
5. سورۃ الفجر، آیت ٢٥
فَيَوْمَئِذٍۢ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُۥٓ أَحَدٌۭ جملے کی ترکیب فَيَوْمَئِذٍۢ ظرفِ زمان ہے۔ لَّا يُعَذِّبُ منفی فعلیہ جملہ، عَذَابَهُۥٓ مفعول بہ اور أَحَدٌۭ فاعلِ مؤخر ہے۔ آیت کا خلاصہ اس دن اللہ جیسا عذاب کوئی نہیں دے سکے گا۔ فَيَوْمَئِذٍۢ — تو اس دن گرامر: فَ استئناف و نتیجہ، يَوْمَ ظرفِ زمان منصوب اور إِذٍ اس کا مضاف الیہ ہے۔ یہ ترکیب «يُعَذِّبُ» سے متعلق ہے۔ لَّا — نہ گرامر: حرفِ نفی غیر عامل ہے جو مضارع مرفوع پر آیا ہے۔ يُعَذِّبُ — عذاب دے گا گرامر: بابِ تفعیل کا واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مرفوع ہے۔ عَذَابَهُۥٓ — عذاب اس کا گرامر: عَذَابَ، يُعَذِّبُ کا مفعول بہ منصوب اور متصل هُۥ مضاف الیہ ہے۔ أَحَدٌۭ — کوئی ایک گرامر: نکرہ واحد مذکر فاعلِ مؤخر مرفوع ہے۔
6. سورۃ الفجر، آیت ٢٦
وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُۥٓ أَحَدٌۭ جملے کی ترکیب وَلَا يُوثِقُ پچھلے منفی جملے پر معطوف ہے۔ وَثَاقَهُۥٓ بابِ افعال کے فعل کا مفعول بہ اور أَحَدٌۭ فاعلِ مؤخر ہے۔ آیت کا خلاصہ اور اس جیسی سخت گرفت کوئی نہیں کرسکے گا۔ وَلَا — اور نہ گرامر: وَ حرفِ عطف اور لَا حرفِ نفی غیر عامل ہے۔ يُوثِقُ — باندھے گا گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مرفوع ہے۔ وَثَاقَهُۥٓ — باندھنا اس کا گرامر: وَثَاقَ، يُوثِقُ کا مفعول بہ منصوب اور متصل هُۥ مضاف الیہ ہے۔ أَحَدٌۭ — کوئی ایک گرامر: نکرہ واحد مذکر فاعلِ مؤخر مرفوع ہے۔
7. سورۃ الفجر، آیت ٢٧
يَـٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفْسُ ٱلْمُطْمَئِنَّةُ جملے کی ترکیب يَـٰٓأَيَّتُهَا ندائی ترکیب ہے؛ يَا حرفِ ندا اور أَيَّتُهَا منادا کی ترکیب ہے۔ ٱلنَّفْسُ مخاطب کی وضاحت اور ٱلْمُطْمَئِنَّةُ اس کی صفت ہے۔ آیت کا خلاصہ اے وہ جان جس نے اللہ کی یاد و اطاعت سے اطمینان پایا۔ يَـٰٓأَيَّتُهَا — اے گرامر: يَا حرفِ ندا، أَيَّةُ منادا کی مددگار مبنی ترکیب ہے جو لفظاً مرفوع ہے، اور هَا حرفِ تنبیہ ہے۔ ٱلنَّفْسُ — نفس گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور نَفْسُ واحد مؤنث مرفوع ہے جو أَيَّةُ کی وضاحت کرتا ہے۔ ٱلْمُطْمَئِنَّةُ — مطمئنہ گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور مُطْمَئِنَّةُ، ٱلنَّفْسُ کی واحد مؤنث صفتِ مرفوع ہے۔
8. سورۃ الفجر، آیت ٢٨
ٱرْجِعِىٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةًۭ مَّرْضِيَّةًۭ جملے کی ترکیب ٱرْجِعِىٓ واحد مؤنث فعلِ امر ہے اور متصل ى اس کا فاعل ہے۔ إِلَىٰ رَبِّكِ فعل سے متعلق، جبکہ رَاضِيَةًۭ اور مَّرْضِيَّةًۭ دو حالِ منصوب ہیں۔ آیت کا خلاصہ اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ہے۔ ٱرْجِعِىٓ — واپس چلو گرامر: واحد مؤنث مخاطب فعلِ امر ہے اور متصل ى اس کا فاعل ہے۔ إِلَىٰ — طرف گرامر: حرفِ جر ہے جو اگلے اسم کو مجرور کرتا ہے۔ یہ ترکیب «ٱرْجِعِىٓ» سے متعلق ہے۔ رَبِّكِ — اپنے رب کی گرامر: رَبِّ مذکر اسمِ مجرور ہے جسے إِلَىٰ نے جر دیا، اور متصل مؤنث كِ مضاف الیہ ہے۔ رَاضِيَةًۭ — راضی گرامر: نکرہ واحد مؤنث حالِ منصوب ہے جو مخاطب نفس کی حالت بیان کرتا ہے۔ مَّرْضِيَّةًۭ — پسندیدہ گرامر: اسمِ مفعول نکرہ واحد مؤنث حالِ منصوب ہے جو رَاضِيَةًۭ کے ساتھ دوسرا حال ہے۔
9. سورۃ الفجر، آیت ٢٩
فَٱدْخُلِى فِى عِبَـٰدِى جملے کی ترکیب فَٱدْخُلِى واحد مؤنث فعلِ امر ہے اور متصل ى فاعل ہے۔ فِى عِبَـٰدِى فعل سے متعلق اور عِبَـٰدِى کی متصل ى مضاف الیہ ہے۔ آیت کا خلاصہ پھر میرے خاص بندوں میں شامل ہوجا۔ فَٱدْخُلِى — پھر داخل ہوجاؤ گرامر: فَ عطف و نتیجہ؛ ٱدْخُلِى واحد مؤنث مخاطب فعلِ امر اور متصل ى فاعل ہے۔ فِى — میں گرامر: حرفِ جر ہے جو اگلے اسم کو مجرور کرتا ہے۔ یہ ترکیب «ٱدْخُلِى» سے متعلق ہے۔ عِبَـٰدِى — میرے بندوں (میں) گرامر: عِبَادِ جمع مذکر اسمِ مجرور ہے جسے فِى نے جر دیا، اور متصل ى مضاف الیہ ہے۔
10. سورۃ الفجر، آیت ٣٠
وَٱدْخُلِى جَنَّتِى جملے کی ترکیب وَٱدْخُلِى پچھلے واحد مؤنث امر پر معطوف ہے اور متصل ى اس کا فاعل ہے۔ جَنَّتِى مفعول بہ اور اس کی آخری ى مضاف الیہ ہے۔ آیت کا خلاصہ اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ وَٱدْخُلِى — اور داخل ہوجاؤ گرامر: وَ حرفِ عطف؛ ٱدْخُلِى واحد مؤنث مخاطب فعلِ امر اور متصل ى فاعل ہے۔ جَنَّتِى — میری جنت میں گرامر: جَنَّتَ واحد مؤنث مفعول بہ منصوب اور متصل ى مضاف الیہ ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
كَلَّآ إِذَا دُكَّتِ ٱلْأَرْضُ دَكًّۭا دَكًّۭا ٢١ مجہول دُكَّتِ کے ساتھ ٱلْأَرْضُ کیا ہے؟
سوال 2
وَجَآءَ رَبُّكَ وَٱلْمَلَكُ صَفًّۭا صَفًّۭا ٢٢ پہلا صَفًّۭا کیا ہے؟
- فاعل
- حالِ منصوب
- مفعول بہ
- صفتِ مجرور
سوال 3
وَجِا۟ىٓءَ يَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍۢ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ وَأَنَّىٰ لَهُ ٱلذِّكْرَىٰ ٢٣ يَتَذَكَّرُ کے ساتھ ٱلْإِنسَـٰنُ کیا ہے؟
- مفعول بہ
- خبر
- فاعلِ مرفوع
- اسمِ مجرور
سوال 4
يَقُولُ يَـٰلَيْتَنِى قَدَّمْتُ لِحَيَاتِى ٢٤ قَدَّمْتُ میں متصل تُ کیا ہے؟
سوال 5
فَيَوْمَئِذٍۢ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُۥٓ أَحَدٌۭ ٢٥ يُعَذِّبُ کے ساتھ أَحَدٌۭ کیا ہے؟
- فاعلِ مؤخر مرفوع
- مفعول بہ
- خبر
- صفت
سوال 6
وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُۥٓ أَحَدٌۭ ٢٦ يُوثِقُ کس باب سے ہے؟
- بابِ تفعیل
- بابِ افعال
- بابِ تفعل
- بابِ تفاعل
سوال 7
يَـٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفْسُ ٱلْمُطْمَئِنَّةُ ٢٧ ٱلْمُطْمَئِنَّةُ کیا ہے؟
- مفعول بہ
- خبر
- ٱلنَّفْسُ کی صفتِ مرفوع
- اسمِ مجرور
سوال 8
ٱرْجِعِىٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةًۭ مَّرْضِيَّةًۭ ٢٨ رَاضِيَةًۭ کیا ہے؟
- فاعل
- مفعول بہ
- خبر
- حالِ منصوب
سوال 9
فَٱدْخُلِى فِى عِبَـٰدِى ٢٩ فَٱدْخُلِى میں متصل ى کیا ہے؟
- واحد مؤنث فاعل
- مفعول بہ
- مضاف الیہ
- علامتِ رفع
سوال 10
وَٱدْخُلِى جَنَّتِى ٣٠ وَٱدْخُلِى کے ساتھ جَنَّتِى کیا ہے؟
- فاعل
- مفعول بہ منصوب
- خبر
- اسمِ مجرور
تعاملی کوئز کھولیں