سورۃ الفیل — حصہ ١

آیات ١–٥ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ الفیل — حصہ ١ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ الفیل، آیت ١

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَـٰبِ ٱلْفِيلِ ۝١ جملے کی ترکیب أَ سوال شروع کرتا ہے اور لَمْ، تَرَ کو مجزوم کرتا ہے۔ كَيْفَ سے ٱلْفِيلِ تک جملہ تَرَ کا مفعول ہے۔ اس میں فَعَلَ کا ظاہر فاعل رَبُّكَ اور بِأَصْحَـٰبِ ٱلْفِيلِ فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے اصحابِ فیل کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ ایک معروف واقعہ تھا۔ أَلَمْ — کیا نہیں گرامر: شروع کا أَ ہمزۂ استفہام اور لَمْ حرفِ نفی و جزم ہے۔ تَرَ — تم دیکھتے / غور کرتے گرامر: واحد مذکر حاضر فعلِ مضارع ہے جو لَمْ سے مجزوم ہوا؛ جزم میں اس کا آخری حرفِ علت حذف ہے اور اس کا فاعل ضمیرِ مستتر «أَنْتَ» ہے۔ كَيْفَ — کس طرح گرامر: اسمِ استفہام ہے جو حال کے طور پر فَعَلَ سے متعلق ہے۔ فَعَلَ — کیا / معاملہ کیا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے اور اگلا رَبُّكَ اس کا ظاہر فاعل ہے۔ رَبُّكَ — تمہارا رب گرامر: رَبُّ، فَعَلَ کا فاعل مرفوع اور متصل كَ ضمیر مضاف الیہ ہے۔ بِأَصْحَـٰبِ — ساتھیوں کے ساتھ گرامر: بِ حرفِ جر؛ جمع أَصْحَـٰبِ اسم مجرور اور اگلے اسم کی طرف مضاف ہے؛ یہ جار و مجرور فَعَلَ سے متعلق ہے۔ ٱلْفِيلِ — ہاتھی گرامر: معرفہ واحد مذکر، أَصْحَـٰبِ کا مضاف الیہ مجرور ہے۔

2. سورۃ الفیل، آیت ٢

أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِى تَضْلِيلٍ ۝٢ جملے کی ترکیب أَ اور لَمْ سوال کو جاری رکھتے اور يَجْعَلْ کو مجزوم کرتے ہیں۔ كَيْدَهُمْ اس کا مفعول بہ منصوب اور فِى تَضْلِيلٍۢ فعل سے متعلق جار و مجرور ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے ان کی تدبیر کو بالکل ناکام کردیا۔ أَلَمْ — کیا نہیں گرامر: شروع کا أَ ہمزۂ استفہام اور لَمْ حرفِ نفی و جزم ہے۔ يَجْعَلْ — کرے / ڈالے گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ مضارع ہے جو لَمْ کی وجہ سے مجزوم ہے؛ اس کا فاعل ضمیرِ مستتر «هُوَ» ہے۔ كَيْدَهُمْ — ان کی تدبیر گرامر: كَيْدَ، يَجْعَلْ کا مفعول بہ منصوب اور متصل هُمْ ضمیر مضاف الیہ ہے۔ فِى — میں گرامر: حرفِ جر ہے جو اگلے اسم کو مجرور کرتا ہے؛ فِى تَضْلِيلٍۢ کی ترکیب يَجْعَلْ سے متعلق ہے۔ تَضْلِيلٍۢ — ناکامی گرامر: نکرہ مذکر مصدر، فِى کی وجہ سے مجرور ہے۔

3. سورۃ الفیل، آیت ٣

وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ ۝٣ جملے کی ترکیب وَ حرفِ عطف ہے اور أَرْسَلَ بابِ افعال کا فعلِ ماضی ہے۔ عَلَيْهِمْ اس سے متعلق، طَيْرًا مفعول بہ منصوب اور أَبَابِيلَ، طَيْرًا کی صفت منصوب ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے ان پر پرندوں کے جھنڈ بھیجے۔ وَأَرْسَلَ — اور بھیجا گرامر: وَ حرفِ عطف اور أَرْسَلَ بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ اس کا فاعل ضمیرِ مستتر «هُوَ» ہے۔ عَلَيْهِمْ — ان پر گرامر: عَلَى حرفِ جر اور متصل جمع مذکر هِمْ ضمیر مجرور؛ یہ أَرْسَلَ سے متعلق ہے۔ طَيْرًا — پرندے گرامر: نکرہ اسمِ جمع منصوب، أَرْسَلَ کا مفعول بہ ہے۔ أَبَابِيلَ — جھنڈ در جھنڈ گرامر: طَيْرًا کی صفت منصوب ہے۔

4. سورۃ الفیل، آیت ٤

تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ ۝٤ جملے کی ترکیب تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍۢ مِّن سِجِّيلٍۢ کا جملۂ فعلیہ پچھلی آیت کے طَيْرًا کی صفت ہے۔ اس میں متصل هُم، تَرْمِى کا مفعول، بِحِجَارَةٍۢ فعل سے متعلق، اور مِّن سِجِّيلٍۢ پتھروں کا مادہ بیان کرتا ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ پرندے ان پر کنکریوں جیسے پتھر برساتے تھے۔ تَرْمِيهِم — انہیں پتھر مارتے گرامر: واحد مؤنث غائب فعلِ مضارع ہے جس کا فاعل ضمیرِ مستتر «هِيَ» ہے؛ متصل جمع مذکر هُم اس کا مفعول ہے، اور اس کا جملۂ فعلیہ پچھلے طَيْرًا کی صفت ہے۔ بِحِجَارَةٍۢ — پتھروں سے گرامر: بِ حرفِ جر اور نکرہ جمع حِجَارَةٍۢ اسم مجرور ہے؛ یہ جار و مجرور تَرْمِيهِم سے متعلق ہے۔ مِّن — کے / سے گرامر: حرفِ جر ہے؛ مِّن سِجِّيلٍۢ کی ترکیب ایک صفتِ محذوف سے متعلق ہے جو حِجَارَةٍۢ کی وضاحت کرتی ہے۔ سِجِّيلٍۢ — پکی مٹی گرامر: نکرہ مذکر اسم، مِّن کی وجہ سے مجرور ہے؛ یہ ترکیب پتھروں کا مادہ بیان کرتی ہے۔

5. سورۃ الفیل، آیت ٥

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍۭ ۝٥ جملے کی ترکیب فَ نتیجہ ملاتا ہے اور جَعَلَ فعلِ ماضی ہے جس کے ساتھ هُمْ مفعول ہے۔ كَعَصْفٍۢ تشبیہی جار و مجرور اور مَّأْكُولٍۭ، عَصْفٍۢ کی صفت مجرور اور اسمِ مفعول ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح چورا چورا کردیا۔ فَجَعَلَهُمْ — پھر انہیں کر دیا گرامر: فَ نتیجہ ملانے والا حرف ہے؛ جَعَلَ واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل ضمیرِ مستتر «هُوَ» ہے، اور متصل هُمْ اس کا پہلا مفعول ہے۔ كَعَصْفٍۢ — بھوسے کی طرح گرامر: تشبیہ کا حرفِ جر كَ، عَصْفٍۢ کو مجرور کرتا ہے؛ یہ ترکیب جَعَلَ کے دوسرے مفعولِ محذوف سے متعلق ہے۔ مَّأْكُولٍۭ — کھایا ہوا گرامر: نکرہ مذکر مجرور بابِ مجرد کا اسمِ مفعول، عَصْفٍۢ کی صفت ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَـٰبِ ٱلْفِيلِ ۝١ رَبُّكَ کا نحوی محل کیا ہے؟

  • فَعَلَ کا فاعل مرفوع
  • مفعول بہ منصوب
  • صفت مجرور
  • حرفِ جر

سوال 2

أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِى تَضْلِيلٍ ۝٢ كَيْدَهُمْ کا نحوی محل کیا ہے؟

  • يَجْعَلْ کا فاعل
  • يَجْعَلْ کا مفعول بہ منصوب
  • تَضْلِيلٍۢ کی صفت
  • جار و مجرور

سوال 3

وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ ۝٣ أَبَابِيلَ کا طَيْرًا سے کیا نحوی تعلق ہے؟

  • اس کا فاعل
  • اس کا مفعول
  • اس کی صفت منصوب
  • حرفِ عطف

سوال 4

تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ ۝٤ بِحِجَارَةٍۢ میں شروع کا بِ کیا ہے؟

  • حرفِ عطف
  • اسمِ استفہام
  • حرفِ نصب
  • حرفِ جر

سوال 5

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍۭ ۝٥ مَّأْكُولٍۭ کی درست نحوی و صرفی وضاحت کیا ہے؟

  • عَصْفٍۢ کی صفت مجرور اور اسمِ مفعول
  • فاعل مرفوع
  • حرفِ نفی
  • تشبیہ کا حرفِ جر

تعاملی کوئز کھولیں