سورۃ الہمزہ — حصہ ١
آیات ١–٩ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ الہمزہ — حصہ ١ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ الہمزہ، آیت ١
وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ ١ جملے کی ترکیب وَيْلٌ مرفوع ہے۔ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ میں لِ حرفِ جر، كُلِّ اسم مجرور، هُمَزَةٍ اس کا مضاف الیہ اور لُّمَزَةٍ بدل مجرور ہے۔ آیت کا خلاصہ ہر طعنہ دینے اور عیب چننے والے کے لیے خرابی ہے۔ وَيْلٌۭ — ہلاکت گرامر: نکرہ مذکر مبتدا مرفوع ہے جس کی خبر محذوف ہے۔ لِّكُلِّ — ہر ایک کے لیے گرامر: لِ حرفِ جر ہے؛ كُلِّ اسم مجرور اور اگلے اسم کی طرف مضاف ہے؛ یہ ترکیب وَيْلٌۭ کی خبرِ محذوف سے متعلق ہے۔ هُمَزَةٍۢ — طعنہ دینے والے گرامر: نکرہ مذکر، كُلِّ کا مضاف الیہ مجرور ہے؛ اگلا جملۂ اسمیہ، جس کا مبتدا ضمیرِ مستتر «هُوَ» ہے، هُمَزَةٍۢ کی صفت ہے۔ لُّمَزَةٍ — عیب جو گرامر: نکرہ مؤنث، هُمَزَةٍۢ سے بدل مجرور ہے۔
2. سورۃ الہمزہ، آیت ٢
ٱلَّذِى جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُۥ ٢ جملے کی ترکیب ٱلَّذِى واحد مذکر اسمِ موصول ہے۔ اس کے صلہ میں جَمَعَ فعلِ ماضی، مَالًا مفعول بہ منصوب، اور معطوف بابِ تفعیل کا فعلِ ماضی وَعَدَّدَهُۥ ہے جس کی متصل هُۥ مفعول ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ مال سمیٹتا اور اسے بار بار گنتا رہتا ہے۔ ٱلَّذِى — وہ شخص جو گرامر: واحد مذکر اسمِ موصول ہے جو اپنا صلۂ موصول شروع کرتا ہے۔ جَمَعَ — جمع کیا گرامر: صلۂ موصول میں واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ اس کا فاعل ضمیرِ مستتر «هُوَ» ہے۔ مَالًۭا — مال گرامر: نکرہ مذکر، جَمَعَ کا مفعول بہ منصوب ہے۔ وَعَدَّدَهُۥ — اور اسے گنا گرامر: وَ حرفِ عطف؛ بابِ تفعیل کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل ضمیرِ مستتر «هُوَ» اور متصل هُۥ اس کا مفعول ہے۔
3. سورۃ الہمزہ، آیت ٣
يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخْلَدَهُۥ ٣ جملے کی ترکیب يَحْسَبُ واحد مذکر غائب فعلِ مضارع ہے۔ أَنَّ سے شروع ہونے والا جملہ اس کا مفعول ہے: مَالَهُۥٓ، أَنَّ کا اسم منصوب اور أَخْلَدَهُۥ کا جملۂ فعلیہ اس کی خبر ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا۔ يَحْسَبُ — وہ گمان کرتا ہے گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ مضارع ہے جس کا فاعل ضمیرِ مستتر «هُوَ» ہے؛ اگلا أَنَّ والا جملہ اس کا مفعول ہے۔ أَنَّ — کہ گرامر: حرفِ نصب و تاکید ہے جو تابع جملۂ اسمیہ شروع کرتا ہے۔ مَالَهُۥٓ — اس کا مال گرامر: مذکر أَنَّ کا اسم منصوب؛ متصل هُۥٓ ضمیر مضاف الیہ ہے۔ أَخْلَدَهُۥ — اسے ہمیشہ باقی کر دیا گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل ضمیرِ مستتر «هُوَ» اور متصل هُۥ مفعول ہے؛ اس کا جملۂ فعلیہ أَنَّ کی خبر ہے۔
4. سورۃ الہمزہ، آیت ٤
كَلَّا ۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِى ٱلْحُطَمَةِ ٤ جملے کی ترکیب كَلَّا حرفِ ردع ہے۔ لَيُنۢبَذَنَّ مؤکد واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مجہول ہے، اور فِى ٱلْحُطَمَةِ اس سے متعلق جار و مجرور ہے۔ آیت کا خلاصہ ہرگز نہیں، اسے حطمہ میں پھینک دیا جائے گا۔ كَلَّا ۖ — ہرگز نہیں گرامر: پچھلے گمان کو رد کرنے والا حرفِ ردع ہے۔ لَيُنۢبَذَنَّ — اسے ضرور پھینکا جائے گا گرامر: مؤکد واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مجہول ہے جس کا نائب فاعل ضمیرِ مستتر «هُوَ» ہے؛ شروع کا لَ اور آخری نَّ تاکید کے لیے ہیں۔ فِى — میں گرامر: حرفِ جر ہے جو اگلے اسم کو مجرور کرتا ہے؛ فِى ٱلْحُطَمَةِ کی ترکیب يُنۢبَذَ سے متعلق ہے۔ ٱلْحُطَمَةِ — حطمہ گرامر: معرفہ مؤنث اسم، فِى کی وجہ سے مجرور ہے۔
5. سورۃ الہمزہ، آیت ٥
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْحُطَمَةُ ٥ جملے کی ترکیب وَ حرفِ عطف اور پہلی مَآ اسمِ استفہام ہے۔ أَدْرَىٰكَ بابِ افعال کا فعلِ ماضی ہے اور متصل كَ اس کا مفعول ہے۔ مَا ٱلْحُطَمَةُ اس کا دوسرا مفعول بننے والا جملۂ اسمیہ ہے، جس میں مَا اسمِ استفہام اور ٱلْحُطَمَةُ خبر مرفوع ہے۔ آیت کا خلاصہ اور تم کیا جانو کہ حطمہ کیا ہے؟ وَمَآ — اور کیا گرامر: وَ حرفِ عطف اور مَآ سوال شروع کرنے والا اسمِ استفہام ہے۔ أَدْرَىٰكَ — تمہیں معلوم کرایا گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل ضمیرِ مستتر «هُوَ» ہے؛ متصل كَ پہلا مفعول ہے۔ مَا — کیا گرامر: اسمِ استفہام ہے جو أَدْرَىٰكَ کا دوسرا مفعول بننے والا جملۂ اسمیہ شروع کرتا ہے۔ ٱلْحُطَمَةُ — حطمہ گرامر: معرفہ مؤنث، پچھلی مَا کی خبر مرفوع ہے۔
6. سورۃ الہمزہ، آیت ٦
نَارُ ٱللَّهِ ٱلْمُوقَدَةُ ٦ جملے کی ترکیب نَارُ مؤنث اسم مرفوع اور ٱللَّهِ اس کا مضاف الیہ مجرور ہے۔ معرفہ مؤنث مرفوع اسمِ مفعول ٱلْمُوقَدَةُ، نَارُ کی صفت ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے۔ نَارُ — آگ گرامر: نَارُ ٱللَّهِ ضمیرِ مستتر «هِيَ» کی خبر ہے۔ ٱللَّهِ — اللہ کی گرامر: اسمِ علم، نَارُ کا مضاف الیہ مجرور ہے۔ ٱلْمُوقَدَةُ — بھڑکائی ہوئی گرامر: معرفہ مؤنث مرفوع بابِ افعال کا اسمِ مفعول، نَارُ کی صفت ہے۔
7. سورۃ الہمزہ، آیت ٧
ٱلَّتِى تَطَّلِعُ عَلَى ٱلْأَفْـِٔدَةِ ٧ جملے کی ترکیب واحد مؤنث اسمِ موصول ٱلَّتِى پچھلے نَارُ کی صفت ہے۔ اس کے صلہ میں بابِ افتعال کا واحد مؤنث غائب فعلِ مضارع تَطَّلِعُ اور اس سے متعلق عَلَى ٱلْأَفْـِٔدَةِ جار و مجرور ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ آگ دلوں تک جا پہنچے گی۔ ٱلَّتِى — جو گرامر: واحد مؤنث اسمِ موصول، پچھلے نَارُ کی صفت ہے۔ تَطَّلِعُ — چڑھ جاتی ہے گرامر: صلۂ موصول میں بابِ افتعال کا واحد مؤنث غائب فعلِ مضارع ہے؛ اس کا فاعل ضمیرِ مستتر «هِيَ» ہے۔ عَلَى — پر گرامر: تَطَّلِعُ سے متعلق حرفِ جر ہے۔ ٱلْأَفْـِٔدَةِ — دلوں گرامر: معرفہ جمع مذکر اسم، عَلَى کی وجہ سے مجرور ہے۔
8. سورۃ الہمزہ، آیت ٨
إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ ٨ جملے کی ترکیب إِنَّهَا میں إِنَّ حرفِ نصب و تاکید اور متصل هَا اس کا اسم ہے۔ عَلَيْهِم جار و مجرور اور مُّؤْصَدَةٌ خبر مرفوع ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ آگ ان پر بند کردی جائے گی اور نکلنے کا راستہ نہ ہوگا۔ إِنَّهَا — بے شک وہ گرامر: إِنَّ حرفِ نصب و تاکید اور متصل واحد مؤنث غائب هَا اس کا اسم ہے۔ عَلَيْهِم — ان پر گرامر: عَلَى حرفِ جر اور متصل هِم ضمیر مجرور ہے؛ یہ جار و مجرور خبر مُّؤْصَدَةٌ سے متعلق ہے۔ مُّؤْصَدَةٌۭ — بند کر دی گئی گرامر: نکرہ مؤنث، إِنَّ کی خبر مرفوع ہے۔
9. سورۃ الہمزہ، آیت ٩
فِى عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍۭ ٩ جملے کی ترکیب فِى عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍۭ پچھلی خبر کی وضاحت جاری رکھتا ہے۔ فِى حرفِ جر، عَمَدٍ جمع اسم مجرور، اور مؤنث واحد مجرور اسمِ مفعول مُّمَدَّدَةٍۭ اس کی صفت ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ بندش لمبے لمبے ستونوں میں ہوگی۔ فِى — میں گرامر: حرفِ جر ہے جو پچھلی خبر مُّؤْصَدَةٌ سے متعلق جار و مجرور ترکیب شروع کرتا ہے۔ عَمَدٍۢ — ستونوں گرامر: نکرہ جمع مذکر اسم، فِى کی وجہ سے مجرور ہے۔ مُّمَدَّدَةٍۭ — لمبے کیے ہوئے گرامر: نکرہ مؤنث واحد مجرور بابِ تفعیل کا اسمِ مفعول، عَمَدٍۢ کی صفت ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ ١ هُمَزَةٍۢ کا نحوی محل کیا ہے؟
- كُلِّ کا مضاف الیہ مجرور
- فاعل مرفوع
- مفعول بہ منصوب
- ظرفِ زمان
سوال 2
ٱلَّذِى جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُۥ ٢ مَالًۭا کا نحوی محل کیا ہے؟
- فاعل
- مفعول بہ منصوب
- صفت مجرور
- حرفِ عطف
سوال 3
يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخْلَدَهُۥ ٣ مَالَهُۥٓ کا نحوی محل کیا ہے؟
- أَنَّ کی خبر
- مضاف الیہ مجرور
- أَنَّ کا اسم منصوب
- حرفِ عطف
سوال 4
كَلَّا ۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِى ٱلْحُطَمَةِ ٤ لَيُنۢبَذَنَّ کی بنا اور صیغۂ فعل کیا ہے؟
- فعلِ ماضی معروف
- فعلِ امر معروف
- فعلِ مضارع معروف
- فعلِ مضارع مجہول
سوال 5
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْحُطَمَةُ ٥ اسمِ استفہام مَا کے بعد ٱلْحُطَمَةُ کا نحوی محل کیا ہے؟
- خبر مرفوع
- مفعول بہ منصوب
- اسم مجرور
- حرفِ عطف
سوال 6
نَارُ ٱللَّهِ ٱلْمُوقَدَةُ ٦ نَارُ ٱللَّهِ میں ٱللَّهِ کا نحوی محل کیا ہے؟
- فاعل
- مضاف الیہ مجرور
- مفعول بہ منصوب
- اسمِ موصول
سوال 7
ٱلَّتِى تَطَّلِعُ عَلَى ٱلْأَفْـِٔدَةِ ٧ یہاں عَلَى کیا ہے؟
- اسمِ موصول
- حرفِ نصب
- حرفِ جر
- صفت
سوال 8
إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ ٨ إِنَّهَا میں متصل هَا کیا ہے؟
- ضمیر مفعول
- مضاف الیہ
- خبر
- إِنَّ کا اسم
سوال 9
فِى عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍۭ ٩ مُّمَدَّدَةٍۭ کا نحوی محل کیا ہے؟
- عَمَدٍۢ کی صفت مجرور
- فاعل مرفوع
- مفعول بہ منصوب
- حرفِ استقبال
تعاملی کوئز کھولیں