سورۃ الانفطار — حصہ ٢

آیات ٨–١٣ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ الانفطار — حصہ ٢ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ الانفطار، آیت ٨

فِىٓ أَىِّ صُورَةٍۢ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ جملے کی ترکیب فِىٓ أَىِّ صُورَةٍ، رَكَّبَكَ سے متعلق ہے اور أَىِّ، صُورَةٍ کی طرف مضاف ہے۔ یہاں اختیار کی گئی ترکیب میں مَا غیر عامل زائدہ برائے ربط ہے اور شَآءَ کا جملہ صُورَةٍ کی صفت ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے اپنی مشیت سے ہر انسان کو الگ صورت دی اور اسے انسانی ساخت عطا فرمائی۔ فِىٓ — میں گرامر: حرفِ جر ہے جو أَىِّ کو مجرور کرتا ہے؛ جار و مجرور رَكَّبَكَ سے متعلق ہے۔ أَىِّ — جس گرامر: فِى کی وجہ سے مجرور عام اسم ہے اور صُورَةٍ کی طرف مضاف ہے۔ صُورَةٍۢ — شکل (میں) گرامر: اسمِ مجرور اور أَىِّ کا مضاف الیہ ہے۔ مَّا — جو بھی گرامر: یہاں اختیار کی گئی ترکیب میں أَىِّ کے بعد غیر عامل زائدہ برائے ربط ہے۔ شَآءَ — اس نے چاہا گرامر: واحد مذکر غائب کا فعلِ ماضی ہے اور فاعل مستتر هُوَ ہے۔ رَكَّبَكَ — جوڑ دیا تجھ کو گرامر: بابِ تفعیل، واحد مذکر غائب کا فعلِ ماضی ہے؛ فاعل مستتر هُوَ اور كَ مفعول بہ ہے۔

2. سورۃ الانفطار، آیت ٩

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِٱلدِّينِ جملے کی ترکیب كَلَّا پچھلے رویے کی تردید اور بَلْ اصل خرابی کی طرف انتقال کے لیے ہے۔ تُكَذِّبُونَ فعل، اس کی واو فاعل، اور بِٱلدِّينِ فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ اصل خرابی یہ ہے کہ لوگ جزا و حساب کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ كَلَّا — ہرگز نہیں گرامر: حرفِ ردع و زجر ہے۔ بَلْ — بلکہ گرامر: حرفِ اضراب ہے جو اصل خرابی کی طرف انتقال کرتا ہے۔ تُكَذِّبُونَ — تم جھٹلاتے ہو گرامر: بابِ تفعیل اور افعالِ خمسہ کا فعلِ مضارع، جمع مذکر حاضر ہے۔ آخر سے پہلے و واوُ الجماعة اور فاعل، جبکہ آخری ن حالتِ رفع کی علامت ہے۔ بِٱلدِّينِ — جزا وسزا کو گرامر: بِ حرفِ جر، ٱلْ حرفِ تعریف اور دِّينِ اسمِ مجرور ہے؛ جار و مجرور تُكَذِّبُونَ سے متعلق ہے۔

3. سورۃ الانفطار، آیت ١٠

وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَـٰفِظِينَ جملے کی ترکیب تاکیدی جملے میں عَلَيْكُمْ خبرِ إن مقدم اور لَحَـٰفِظِينَ اسمِ إن مؤخر و منصوب ہے؛ لام تاکید کے لیے ہے۔ آیت کا خلاصہ تم پر تمہارے اعمال کی نگرانی کرنے والے فرشتے مقرر ہیں۔ وَإِنَّ — اور بیشک گرامر: وَ حرفِ استئناف اور إِنَّ حرفِ نصب و تاکید ہے۔ عَلَيْكُمْ — تم پر گرامر: جار و مجرور اور خبرِ إن مقدم ہے؛ متصل كُمْ ضمیرِ مجرور ہے۔ لَحَـٰفِظِينَ — ضرور نگہبان ہیں گرامر: لَ لامِ مزحلقہ برائے تاکید ہے۔ حَـٰفِظِينَ جمع مذکر سالم اسمِ فاعل اور اسمِ إن مؤخر ہے، یاء کے ساتھ منصوب ہے؛ آخری نون اسمی جمع کا حصہ ہے، فعل کی علامتِ رفع نہیں۔

4. سورۃ الانفطار، آیت ١١

كِرَامًۭا كَـٰتِبِينَ جملے کی ترکیب دونوں منصوب الفاظ پچھلی آیت کے حَـٰفِظِينَ کی صفات ہیں: معزز اور لکھنے والے۔ آیت کا خلاصہ وہ معزز فرشتے اعمال لکھتے ہیں۔ كِرَامًۭا — بزرگ گرامر: حَـٰفِظِينَ کی جمع مکسر، منصوب صفت ہے؛ علامتِ نصب فتحہ ہے۔ كَـٰتِبِينَ — لکھنے والے ہیں گرامر: حَـٰفِظِينَ کی دوسری صفت اور اسمِ فاعل ہے؛ جمع مذکر سالم ہونے کی وجہ سے یاء کے ساتھ منصوب ہے، اور آخری نون اسمی جمع کا حصہ ہے۔

5. سورۃ الانفطار، آیت ١٢

يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ جملے کی ترکیب یہ فعلیہ جملہ نگہبانوں کی مزید صفت ہے۔ يَعْلَمُونَ کا مفعول بہ اسمِ موصول مَا ہے؛ تَفْعَلُونَ اس کا صلۂ موصول ہے اور اس کا عائد مفعولی ضمیر محذوف ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ تمہارے اعمال جانتے ہیں؛ کوئی عمل ان سے چھپا یا لکھے بغیر نہیں رہتا۔ يَعْلَمُونَ — جانتے ہیں گرامر: افعالِ خمسہ کا فعلِ مضارع، جمع مذکر غائب ہے۔ و واوُ الجماعة اور فاعل، آخری ن علامتِ رفع ہے؛ جملہ نگہبانوں کی صفت ہے۔ مَا — جو کچھ گرامر: اسمِ موصول اور يَعْلَمُونَ کا مفعول بہ ہے۔ تَفْعَلُونَ — تم کرتے ہو گرامر: افعالِ خمسہ کا فعلِ مضارع، جمع مذکر حاضر ہے۔ و فاعل اور آخری ن علامتِ رفع ہے؛ جملہ مَا کا صلۂ موصول ہے اور اس کا عائد مفعولی ضمیر محذوف ہے۔

6. سورۃ الانفطار، آیت ١٣

إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍۢ جملے کی ترکیب إِنَّ کی وجہ سے ٱلْأَبْرَارَ اسمِ إن اور منصوب ہے۔ تاکید والا جار و مجرور لَفِى نَعِيمٍ اس کی خبر ہے۔ آیت کا خلاصہ نیک لوگ جنت میں ہمیشہ نعمت اور راحت کے ساتھ رہیں گے۔ إِنَّ — بیشک گرامر: حرفِ نصب و تاکید ہے۔ ٱلْأَبْرَارَ — نیک لوگ گرامر: معرفہ اسمِ منصوب اور إِنَّ کا اسم ہے۔ لَفِى — ضرور ... میں گرامر: لَ لامِ مزحلقہ برائے تاکید اور فِى حرفِ جر ہے؛ پورا جار و مجرور خبرِ إن ہے۔ نَعِيمٍۢ — نعمتوں میں ہوں گے گرامر: نکرہ اسمِ مجرور ہے جسے فِى نے جر دیا ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

فِىٓ أَىِّ صُورَةٍۢ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ ۝٨ رَكَّبَكَ کس باب کا فعل ہے؟

  • ثلاثی مجرد
  • بابِ افعال
  • بابِ افتعال
  • بابِ تفعیل

سوال 2

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِٱلدِّينِ ۝٩ تُكَذِّبُونَ میں واوُ الجماعة کی نحوی حیثیت کیا ہے؟

  • فاعل
  • مفعول بہ
  • مضاف الیہ
  • علامتِ رفع

سوال 3

وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَـٰفِظِينَ ۝١٠ إِنَّ والے جملے میں عَلَيْكُمْ کی نحوی حیثیت کیا ہے؟

  • اسمِ إن مؤخر
  • خبرِ إن مقدم
  • مفعول بہ
  • صفت

سوال 4

كِرَامًۭا كَـٰتِبِينَ ۝١١ كِرَامًا اور كَاتِبِينَ کس کی صفات ہیں؟

  • ٱلْأَبْرَارَ
  • ٱلْفُجَّارَ
  • حَافِظِينَ
  • نَفْسٌ

سوال 5

يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ ۝١٢ يَعْلَمُونَ کے بعد مَا کی نحوی حیثیت کیا ہے؟

  • استفہامی مبتدا
  • حرفِ نفی
  • ظرفِ زمان
  • اسمِ موصول بطور مفعول بہ

سوال 6

إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍۢ ۝١٣ إِنَّ کے بعد ٱلْأَبْرَارَ کی حالت کیا ہے؟

  • منصوب، اسمِ إن
  • مرفوع، خبر
  • مجرور بحرفِ جر
  • مجزوم

تعاملی کوئز کھولیں