سورۃ الانفطار — حصہ ٣
آیات ١٤–١٩ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ الانفطار — حصہ ٣ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ الانفطار، آیت ١٤
وَإِنَّ ٱلْفُجَّارَ لَفِى جَحِيمٍۢ جملے کی ترکیب یہ معطوف تاکیدی جملہ پچھلی آیت کے مقابل ہے: ٱلْفُجَّارَ اسمِ إن اور لَفِى جَحِيمٍ اس کی خبر ہے۔ آیت کا خلاصہ گناہ گار دوزخ میں ہوں گے۔ وَإِنَّ — اور بیشک گرامر: وَ حرفِ عطف ہے جو اس جملے کو پچھلے جملے سے ملاتا ہے، اور إِنَّ حرفِ نصب و تاکید ہے۔ ٱلْفُجَّارَ — بدکار لوگ گرامر: معرفہ اسمِ منصوب اور إِنَّ کا اسم ہے۔ لَفِى — ضرور ... میں گرامر: لَ لامِ مزحلقہ برائے تاکید اور فِى حرفِ جر ہے؛ پورا جار و مجرور خبرِ إن ہے۔ جَحِيمٍۢ — جہنم میں ہوں گے گرامر: نکرہ اسمِ مجرور ہے جسے فِى نے جر دیا ہے۔
2. سورۃ الانفطار، آیت ١٥
يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ ٱلدِّينِ جملے کی ترکیب یہ فعلیہ جملہ ٱلْفُجَّارَ سے حال ہے۔ يَصْلَوْنَهَا کی واو فاعل اور هَا مفعول بہ ہے؛ يَوْمَ ٱلدِّينِ فعل سے متعلق ظرفِ زمان ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ روزِ جزا دوزخ میں داخل ہوں گے۔ يَصْلَوْنَهَا — وہ اس میں داخل ہوں گے گرامر: افعالِ خمسہ کا فعلِ مضارع، جمع مذکر غائب ہے۔ و واوُ الجماعة اور فاعل، آخری ن علامتِ رفع، جبکہ هَا مفعول بہ ہے۔ يَوْمَ — دن گرامر: منصوب ظرفِ زمان ہے، يَصْلَوْنَهَا سے متعلق اور ٱلدِّينِ کی طرف مضاف ہے۔ ٱلدِّينِ — جزا سزا کے (دن) گرامر: معرفہ اسمِ مجرور اور يَوْمَ کا مضاف الیہ ہے۔
3. سورۃ الانفطار، آیت ١٦
وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِينَ جملے کی ترکیب واوِ حالیہ کے بعد منفی اسمیہ جملہ ہے۔ یہاں حجازی ترکیب میں مَا، لَيْسَ کی طرح عمل کرتا ہے: هُمْ اس کا اسم اور بِغَآئِبِينَ مؤکد خبر ہے؛ غیر عامل ترکیب بھی معتبر ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ دوزخ سے نہ بچ سکیں گے اور نہ داخل ہونے کے بعد اس سے نکل سکیں گے۔ وَمَا — اور نہیں گرامر: وَ واوِ حالیہ ہے۔ مَا حرفِ نفی ہے: حجازی ترکیب میں لَيْسَ کی طرح عامل اور تمیمی ترکیب میں غیر عامل ہے۔ هُمْ — وہ گرامر: جمع مذکر غائب کی ضمیرِ منفصل ہے: حجازی ترکیب میں مَا کا اسم اور غیر عامل ترکیب میں مبتدا ہے۔ عَنْهَا — اس سے گرامر: عَنْ حرفِ جر اور متصل هَا ضمیرِ مجرور ہے؛ جار و مجرور بِغَآئِبِينَ سے متعلق ہے۔ بِغَآئِبِينَ — ہرگز دور نہ ہوں گے گرامر: بِ باءِ زائدہ مؤکدہ ہے، اس لیے جمع مذکر سالم اسمِ فاعل یاء کے ساتھ لفظاً مجرور ہے۔ حجازی ترکیب میں مَا کی خبر اور محلاً منصوب، جبکہ غیر عامل ترکیب میں هُمْ کی خبر اور محلاً مرفوع ہے۔ آخری نون اسمی جمع کا حصہ ہے۔
4. سورۃ الانفطار، آیت ١٧
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ جملے کی ترکیب پہلا استفہامیہ مَا مبتدا اور أَدْرَىٰكَ کا جملہ اس کی خبر ہے۔ اندرونی اسمیہ جملہ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ اس چیز کو بیان کرتا ہے جس کی خبر دی جائے۔ آیت کا خلاصہ روزِ جزا کی پوری ہولناکی انسان کے ادراک سے باہر ہے۔ وَمَآ — اور کیا چیز گرامر: وَ حرفِ استئناف ہے؛ استفہامیہ مَا مبتدا ہے۔ أَدْرَىٰكَ — بتائے تجھ کو گرامر: بابِ افعال کا فعلِ ماضی ہے۔ فاعل مستتر استفہام کی طرف لوٹتا، كَ مفعولِ اول اور بعد کا استفہامی جملہ مفعولِ ثانی کی جگہ آتا ہے۔ مَا — کیا ہے ؟ گرامر: اسمِ استفہام اور اندرونی اسمیہ جملے کا مبتدا ہے۔ يَوْمُ — دن گرامر: اسمِ مرفوع، پچھلے استفہامیہ مَا کی خبر اور ٱلدِّينِ کی طرف مضاف ہے۔ ٱلدِّينِ — بدلے کا گرامر: معرفہ اسمِ مجرور اور يَوْمُ کا مضاف الیہ ہے۔
5. سورۃ الانفطار، آیت ١٨
ثُمَّ مَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ جملے کی ترکیب ثُمَّ مزید تاکید کے ساتھ تنبیہ کو دہراتا ہے۔ دونوں استفہامی جملوں کی ترکیب پچھلی آیت جیسی ہے۔ آیت کا خلاصہ دوبارہ متنبہ کیا گیا ہے کہ اس دن کی حقیقت کا پورا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ ثُمَّ — پھر گرامر: حرفِ عطف ہے جو ترتیب مع تراخی کے ساتھ یہاں تاکید بھی بڑھاتا ہے۔ مَآ — کیا چیز گرامر: اسمِ استفہام اور مبتدا ہے۔ أَدْرَىٰكَ — بتائے تجھ کو گرامر: بابِ افعال کا فعلِ ماضی ہے، فاعل مستتر ہے؛ كَ مفعولِ اول اور بعد کا استفہامی جملہ مفعولِ ثانی کی جگہ آتا ہے۔ مَا — کہ کیا ہے ؟ گرامر: اسمِ استفہام اور اندرونی اسمیہ جملے کا مبتدا ہے۔ يَوْمُ — دن گرامر: اسمِ مرفوع، استفہامیہ مَا کی خبر اور ٱلدِّينِ کی طرف مضاف ہے۔ ٱلدِّينِ — بدلے کا گرامر: معرفہ اسمِ مجرور اور يَوْمُ کا مضاف الیہ ہے۔
6. سورۃ الانفطار، آیت ١٩
يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌۭ لِّنَفْسٍۢ شَيْـًۭٔا ۖ وَٱلْأَمْرُ يَوْمَئِذٍۢ لِّلَّهِ جملے کی ترکیب يَوْمَ ایک محذوف فعل سے متعلق منصوب ظرف ہے اور بعد کے جملے کی طرف مضاف ہے؛ محذوف عامل کی تعیین یہاں نہیں کی گئی۔ اس جملے میں نَفْسٌ، تَمْلِكُ کا فاعل اور شَيْـًٔا مفعول بہ ہے۔ پھر ٱلْأَمْرُ مبتدا، لِلَّهِ اس کی خبر اور يَوْمَئِذٍ اس اسمیہ جملے کا ظرفِ زمان ہے۔ آیت کا خلاصہ اس دن کوئی شخص اللہ کے اذن کے بغیر دوسرے کے کام نہ آئے گا، اور حکم صرف اللہ کا ہوگا۔ يَوْمَ — جس دن گرامر: محذوف فعل سے متعلق منصوب ظرفِ زمان اور بعد کے جملے کی طرف مضاف ہے؛ محذوف عامل کی تعیین یہاں نہیں کی گئی۔ لَا — نہ گرامر: غیر عامل حرفِ نفی ہے۔ تَمْلِكُ — اختیار رکھے گی گرامر: واحد مؤنث غائب کا فعلِ مضارع ہے؛ نَفْسٌ اس کا ظاہر فاعل ہے۔ نَفْسٌۭ — کوئی نفس گرامر: مرفوع، اسم؛ نحوی حیثیت فاعل ہے۔ لِّنَفْسٍۢ — کسی نفس کے لئے گرامر: لِ حرفِ جر اور نَفْسٍ اسمِ مجرور ہے؛ جار و مجرور تَمْلِكُ سے متعلق ہے۔ شَيْـًۭٔا ۖ — کچھ بھی گرامر: منصوب، اسم؛ نحوی حیثیت مفعول بہ ہے۔ وَٱلْأَمْرُ — اور تمام معاملہ ہوگا گرامر: وَ حرفِ استئناف ہے؛ ٱلْأَمْرُ مبتدا مرفوع ہے۔ يَوْمَئِذٍۢ — اس دن گرامر: منصوب ظرفِ زمان ہے جو ٱلْأَمْرُ ... لِلَّهِ کے اسمیہ جملے کو اس وقت میں واقع بتاتا ہے۔ لِّلَّهِ — اللہ ہی کا ہوگا گرامر: جار و مجرور اور ٱلْأَمْرُ کی خبر ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
وَإِنَّ ٱلْفُجَّارَ لَفِى جَحِيمٍۢ ١٤ لَفِى جَحِيمٍ کی نحوی حیثیت کیا ہے؟
- اسمِ إن
- خبرِ إن
- مفعول بہ
- صلۂ موصول
سوال 2
يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ ٱلدِّينِ ١٥ يَصْلَوْنَهَا میں هَا کی نحوی حیثیت کیا ہے؟
- فاعل
- علامتِ رفع
- مفعول بہ
- مضاف الیہ
سوال 3
وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِينَ ١٦ بِغَآئِبِينَ میں باءِ زائدہ مؤکدہ کا لفظی اثر کیا ہے؟
- لفظ کو مرفوع کرتی ہے
- فعل کو مجزوم کرتی ہے
- لفظ کو منصوب کرتی ہے
- خبر کو لفظاً مجرور کرتی ہے
سوال 4
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ ١٧ آیت کے پہلے مَا کی قسم کیا ہے؟
- اسمِ استفہام
- اسمِ موصول
- حرفِ نفی
- اسمِ شرط
سوال 5
ثُمَّ مَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ ١٨ یہاں ثُمَّ کی نحوی حیثیت کیا ہے؟
- جملے کی نفی کرتا ہے
- عطف کے ساتھ تنبیہ دہراتا ہے
- فعل کو مجزوم کرتا ہے
- حرفِ جر ہے
سوال 6
يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌۭ لِّنَفْسٍۢ شَيْـًۭٔا ۖ وَٱلْأَمْرُ يَوْمَئِذٍۢ لِّلَّهِ ١٩ تَمْلِكُ کے ساتھ نَفْسٌ اور شَيْـًٔا کی حیثیت کیا ہے؟
- دونوں فاعل ہیں
- دونوں مفعول بہ ہیں
- نَفْسٌ فاعل اور شَيْـًٔا مفعول بہ ہے
- نَفْسٌ صفت اور شَيْـًٔا خبر ہے
تعاملی کوئز کھولیں