سورۃ الانشقاق — حصہ ٣
آیات ١٤–١٩ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ الانشقاق — حصہ ٣ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ الانشقاق، آیت ١٤
إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ جملے کی ترکیب متصل هُۥ، إِنَّ کا اسم اور ظَنَّ سے شروع ہونے والا جملہ اس کی خبر ہے۔ ظَنَّ کا فاعل مستتر ہے؛ یہاں أَن، أَنَّ مخففہ ہے اور اس کا جملہ فعلِ گمان کے دونوں مفعولوں کی جگہ آتا ہے۔ آیت کا خلاصہ اس نے سمجھ رکھا تھا کہ اسے اللہ کی طرف لوٹ کر حساب نہیں دینا ہوگا۔ إِنَّهُۥ — بیشک وہ گرامر: إِنَّ حرفِ نصب و تاکید اور متصل هُۥ اس کا اسمِ منصوب ہے۔ ظَنَّ — سمجھتا تھا گرامر: واحد مذکر غائب کا فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل مستتر ہے؛ اس کا جملہ خبرِ إن اور بعد کا أَن والا جملہ گمان کے مفعولوں کی جگہ آتا ہے۔ أَن — کہ گرامر: أَنَّ مخففہ ہے جس کا ضمیرِ شان اسم مستتر اور لَّن يَحُورَ اس کی خبر ہے۔ لَّن — ہرگز نہیں گرامر: حرفِ نفی، استقبال و نصب ہے جو يَحُورَ کو منصوب کرتا ہے۔ يَحُورَ — وہ لوٹے گا گرامر: واحد مذکر غائب کا فعلِ مضارع ہے جو لَّن کی وجہ سے منصوب اور جس کا فاعل مستتر ہے۔
2. سورۃ الانشقاق، آیت ١٥
بَلَىٰٓ إِنَّ رَبَّهُۥ كَانَ بِهِۦ بَصِيرًۭا جملے کی ترکیب بَلَىٰٓ پچھلی نفی کا اثباتی جواب ہے۔ رَبَّهُۥ اسمِ إن اور ناقص جملہ كَانَ بِهِۦ بَصِيرًا اس کی خبر ہے؛ بَصِيرًا، كَانَ کی خبرِ منصوب ہے۔ آیت کا خلاصہ اس کا رب اس کے ہر حال اور عمل کو دیکھ رہا تھا اور اسے بے حساب نہیں چھوڑے گا۔ بَلَىٰٓ — کیوں نہیں گرامر: غیر عامل حرفِ جواب ہے جو پچھلی نفی کا اثبات کرتا ہے۔ إِنَّ — بیشک گرامر: حرفِ نصب و تاکید ہے؛ رَبَّهُۥ اس کا اسم اور بعد کا ناقص جملہ اس کی خبر ہے۔ رَبَّهُۥ — اس کا رب گرامر: رَبَّ اسمِ إن منصوب اور متصل هُۥ اس کا مضاف الیہ ہے۔ كَانَ — تھا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ناقص ہے؛ اس کا اسم مستتر هُوَ اور بَصِيرًا اس کی خبر ہے۔ پورا جملہ خبرِ إن ہے۔ بِهِۦ — اس کو گرامر: بِ حرفِ جر اور متصل هِۦ ضمیرِ مجرور ہے؛ جار و مجرور بَصِيرًا سے متعلق ہے۔ بَصِيرًۭا — دیکھنے والا گرامر: نکرہ صفتِ منصوب اور كَانَ کی خبر ہے۔
3. سورۃ الانشقاق، آیت ١٦
فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلشَّفَقِ جملے کی ترکیب فَ کلام کو آگے بڑھاتا اور لَآ غیر عامل حرفِ نفی ہے جس کی دقیق بلاغی توجیہ کی ایک سے زیادہ معتبر صورتیں ہیں۔ أُقْسِمُ واحد متکلم فعلِ مضارع اور بِٱلشَّفَقِ اسی سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ شام کی سرخی کی قسم بیان ہوئی ہے۔ فَلَآ — پس نہیں گرامر: فَ حرفِ استئناف اور لَآ غیر عامل حرفِ نفی ہے؛ اس کی دقیق بلاغی توجیہ میں کسی ایک مختلف فیہ قول کو قطعی نہیں کیا گیا۔ أُقْسِمُ — میں قسم کھاتا ہوں گرامر: بابِ افعال کا واحد متکلم فعلِ مضارع ہے جس کا فاعل مستتر أَنَا ہے؛ بِٱلشَّفَقِ اس سے متعلق ہے۔ بِٱلشَّفَقِ — شفق کی گرامر: بِ حرفِ جر، ٱل حرفِ تعریف اور شَّفَقِ اسمِ مجرور ہے؛ جار و مجرور أُقْسِمُ سے متعلق ہے۔
4. سورۃ الانشقاق، آیت ١٧
وَٱلَّيْلِ وَمَا وَسَقَ جملے کی ترکیب وَٱلَّيْلِ پچھلی قسم کے جار و مجرور پر معطوف ہے۔ وَمَا میں اسمِ موصول مَا بھی محلِ جر میں ہے؛ وَسَقَ اس کا صلۂ موصول ہے جس کا فاعل مستتر اور عائد مفعولی ضمیر محذوف ہے۔ آیت کا خلاصہ رات اور ان سب چیزوں کی قسم ہے جنہیں وہ سمیٹ لیتی ہے۔ وَٱلَّيْلِ — اور رات کی گرامر: وَ پچھلی قسم پر عطف کرتا، ٱل حرفِ تعریف اور لَّيْلِ معطوف اسمِ مجرور ہے۔ وَمَا — اور اس کی جو گرامر: وَ حرفِ عطف ہے؛ اسمِ موصول مَا، ٱلَّيْلِ پر عطف کی وجہ سے محلِ جر میں ہے۔ وَسَقَ — وہ اکٹھا کرے گرامر: واحد مذکر غائب کا فعلِ ماضی اور صلۂ موصول ہے؛ اس کا فاعل مستتر اور عائد مفعولی ضمیر محذوف ہے۔
5. سورۃ الانشقاق، آیت ١٨
وَٱلْقَمَرِ إِذَا ٱتَّسَقَ جملے کی ترکیب وَٱلْقَمَرِ قسم کا ایک اور معطوف اسمِ مجرور ہے۔ إِذَا زمانی جملہ ٱتَّسَقَ لاتا ہے؛ یہ بابِ افتعال کا فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل مستتر چاند کی طرف لوٹتا ہے۔ آیت کا خلاصہ چاند کی قسم ہے جب وہ کامل ہو جاتا ہے۔ وَٱلْقَمَرِ — اور چاند کی گرامر: وَ حرفِ عطف، ٱل حرفِ تعریف اور قَمَرِ قسم کا معطوف اسمِ مجرور ہے۔ إِذَا — جب گرامر: ظرفِ زمان ہے جو ٱتَّسَقَ کا جملہ لاتا ہے؛ اس کی وسیع تر وابستگی کو سوال نہیں بنایا گیا۔ ٱتَّسَقَ — وہ پورا ہو جائے گرامر: بابِ افتعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ اس کا فاعل مستتر چاند کی طرف لوٹتا ہے۔
6. سورۃ الانشقاق، آیت ١٩
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍۢ جملے کی ترکیب لَ جوابِ قسم کو شروع کرتا ہے۔ تَرْكَبُ جمع مذکر حاضر فعلِ مضارع ہے؛ اس کی واوِ جماعت نونِ تاکیدِ ثقیلہ نَّ سے پہلے حذف ہوئی ہے۔ طَبَقًا منصوب ہے اور عَن طَبَقٍ کی مقامی وابستگی کی ایک سے زیادہ معتبر صورتیں ہیں۔ آیت کا خلاصہ انسان دنیا سے موت، برزخ اور قیامت تک درجہ بہ درجہ مختلف حالتوں سے گزرے گا۔ لَتَرْكَبُنَّ — البتہ تم ضرور سوار ہوگے گرامر: لَ جوابِ قسم کی لام ہے؛ تَرْكَبُ جمع مذکر حاضر فعلِ مضارع ہے جس کی واوِ جماعت نونِ تاکیدِ ثقیلہ نَّ سے پہلے حذف ہوئی ہے۔ طَبَقًا — ایک حالت پر گرامر: نکرہ اسمِ منصوب ہے؛ یہاں اسے مفعول بہ پڑھایا گیا ہے۔ عَن — سے گرامر: حرفِ جر ہے؛ عَن طَبَقٍ کو طَبَقًا کی صفت یا حال دونوں طرح پڑھا گیا ہے، اس لیے ایک وابستگی قطعی نہیں کی گئی۔ طَبَقٍۢ — دوسری حالت(سے) گرامر: نکرہ اسمِ مجرور ہے جسے عَن نے جر دیا ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ ١٤ يَحُورَ کو کس نے منصوب کیا ہے؟
سوال 2
بَلَىٰٓ إِنَّ رَبَّهُۥ كَانَ بِهِۦ بَصِيرًۭا ١٥ ناقص جملے میں بَصِيرًا کیا ہے؟
- اسمِ کان
- فاعل
- خبرِ کان منصوب
- صفتِ مجرور
سوال 3
فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلشَّفَقِ ١٦ بِٱلشَّفَقِ کی ترکیب کیا ہے؟
- مبتدا مرفوع
- مفعول بہ
- حال
- أُقْسِمُ سے متعلق جار و مجرور
سوال 4
وَٱلَّيْلِ وَمَا وَسَقَ ١٧ وَمَا وَسَقَ میں مَا کیا ہے؟
- اسمِ موصول، محلِ جر میں
- حرفِ نفی
- استفہامیہ مبتدا
- ظاہر مفعول بہ منصوب
سوال 5
وَٱلْقَمَرِ إِذَا ٱتَّسَقَ ١٨ ٱتَّسَقَ کس باب کا فعل ہے؟
- بابِ تفعیل کا امر
- بابِ افتعال کا ماضی
- بابِ افعال کا مضارع
- اسمِ مفعول
سوال 6
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍۢ ١٩ لَتَرْكَبُنَّ میں آخری نَّ کیا ہے؟
- علامتِ تانیث
- اسمی نون
- نونِ تاکیدِ ثقیلہ
- مفعولی ضمیر
تعاملی کوئز کھولیں