سورۃ اللیل — حصہ ٢
آیات ٨–١٤ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ اللیل — حصہ ٢ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ اللیل، آیت ٨
وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسْتَغْنَىٰ جملے کی ترکیب وَأَمَّا مَن مقابل تفصیلی شاخ شروع کرتا ہے۔ بَخِلَ فعلِ ماضی اور وَٱسْتَغْنَىٰ معطوف بابِ استفعال کا فعلِ ماضی ہے؛ دونوں کا فاعل مستتر ہے۔ آیت کا خلاصہ دوسرا بندہ بخل کرتا اور بے پروائی برتتا ہے۔ وَأَمَّا — اور رہا گرامر: وَ حرفِ عطف اور أَمَّا مقابل تفصیلی شاخ شروع کرتا ہے۔ مَنۢ — وہ جس نے گرامر: اسمِ موصول/شرط ہے جس کے بعد اس کے فعلی جملے آتے ہیں۔ بَخِلَ — بخل کیا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ فاعل هُوَ مستتر ہے۔ وَٱسْتَغْنَىٰ — اور بے نیازی برتی گرامر: وَ حرفِ عطف؛ ٱسْتَغْنَىٰ بابِ استفعال کا فعلِ ماضی اور فاعل مستتر ہے۔
2. سورۃ اللیل، آیت ٩
وَكَذَّبَ بِٱلْحُسْنَىٰ جملے کی ترکیب وَكَذَّبَ معطوف بابِ تفعیل کا فعلِ ماضی اور فاعل مستتر ہے۔ بِٱلْحُسْنَىٰ جار و مجرور اس سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ بھلی بات کو جھٹلاتا ہے۔ وَكَذَّبَ — اور جھٹلایا گرامر: وَ حرفِ عطف؛ كَذَّبَ بابِ تفعیل کا فعلِ ماضی اور فاعل هُوَ مستتر ہے۔ بِٱلْحُسْنَىٰ — بھلائی کو گرامر: بِ حرفِ جر ہے؛ معرفہ مؤنث اسم محلّاً مجرور ہے۔ یہ ترکیب «كَذَّبَ» سے متعلق ہے۔
3. سورۃ اللیل، آیت ١٠
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْعُسْرَىٰ جملے کی ترکیب یہ جوابیہ جملہ آیت 7 کی ساخت پر ہے: فَ جواب، سَ استقبال، نُيَسِّرُ بابِ تفعیل اور هُۥ مفعول بہ ہے۔ آیت کا خلاصہ تو ہم اسے سخت انجام کی راہ پر آسانی سے بڑھا دیں گے۔ فَسَنُيَسِّرُهُۥ — پھر ہم اسے آسانی دیں گے گرامر: فَ جواب، سَ استقبال؛ نُيَسِّرُ بابِ تفعیل کا جمع متکلم مضارع اور هُۥ مفعول ہے۔ اس کا فاعل ضمیرِ مستتر «نَحْنُ» ہے۔ لِلْعُسْرَىٰ — تنگی کی طرف گرامر: لِ حرفِ جر ہے؛ معرفہ مؤنث اسم محلّاً مجرور ہے۔ یہ ترکیب «نُيَسِّرُهُۥ» سے متعلق ہے۔
4. سورۃ اللیل، آیت ١١
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُۥٓ إِذَا تَرَدَّىٰٓ جملے کی ترکیب وَمَا عطف کے ساتھ يُغْنِى کی نفی کرتا ہے۔ مَالُهُۥٓ اس کا فاعل اور عَنْهُ فعل سے متعلق ہے۔ إِذَا تَرَدَّىٰٓ ظرفی جملہ ہے۔ آیت کا خلاصہ جب وہ ہلاکت میں گرے گا تو اس کا مال اسے کچھ فائدہ نہ دے گا۔ وَمَا — اور نہیں گرامر: وَ حرفِ عطف اور مَا غیر عامل حرفِ نفی ہے۔ يُغْنِى — کام آئے گا گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ مضارع ہے جس کا صریح فاعل مَالُهُۥٓ ہے۔ عَنْهُ — اسے گرامر: عَنْ حرفِ جر اور متصل هُ واحد مذکر ضمیرِ مجرور ہے۔ یہ ترکیب «يُغْنِى» سے متعلق ہے۔ مَالُهُۥٓ — اس کا مال گرامر: مذکر فاعلِ مرفوع ہے جو يُغْنِى کا فاعل ہے؛ هُۥ مضاف الیہ ہے۔ إِذَا — جب گرامر: غیر عامل ظرفِ زمان ہے جو اگلا ظرفی جملہ شروع کرتا ہے۔ تَرَدَّىٰٓ — وہ گرے گا گرامر: بابِ تفعّل کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ فاعل هُوَ مستتر ہے۔
5. سورۃ اللیل، آیت ١٢
إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰ جملے کی ترکیب إِنَّ تاکیدی اسمیہ جملہ شروع کرتا ہے۔ عَلَيْنَا خبر کی ترکیب میں جار و مجرور ہے؛ لَلْهُدَىٰ میں لامِ تاکید اور إِنَّ کا اسم منصوب ہے۔ آیت کا خلاصہ یقیناً سیدھی راہ سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ إِنَّ — بے شک گرامر: حرفِ تاکید و نصب ہے جو اپنے اسم کو منصوب اور خبر کو مرفوع کرتا ہے۔ «إِنَّ» سے شروع ہونے والے جملے کی خبر محذوف مانی گئی ہے۔ عَلَيْنَا — ہمارے ذمہ گرامر: عَلَىٰ حرفِ جر اور نَا جمع متکلم ضمیرِ مجرور ہے؛ جار و مجرور خبر کی ترکیب میں ہے۔ یہ ترکیب ایک جزِ محذوف کے ذریعے متعلق ہے۔ لَلْهُدَىٰ — ہدایت ہے گرامر: لَ لامِ تاکید اور ٱلْهُدَىٰ، إِنَّ کا اسمِ منصوب ہے۔
6. سورۃ اللیل، آیت ١٣
وَإِنَّ لَنَا لَلْـَٔاخِرَةَ وَٱلْأُولَىٰ جملے کی ترکیب وَإِنَّ تاکیدی جملہ معطوف کرتا ہے۔ لَنَا خبر کا جار و مجرور، لَلْـَٔاخِرَةَ لامِ تاکید کے ساتھ اسمِ منصوب اور وَٱلْأُولَىٰ اس پر معطوف ہے۔ آیت کا خلاصہ اور دنیا اور آخرت دونوں ہمارے ہی اختیار میں ہیں۔ وَإِنَّ — اور بے شک گرامر: وَ حرفِ عطف اور إِنَّ حرفِ تاکید و نصب ہے۔ لَنَا — ہمارے لیے گرامر: لِ حرفِ جر اور نَا جمع متکلم ضمیرِ مجرور ہے؛ جار و مجرور خبر ہے۔ لَلْـَٔاخِرَةَ — آخرت ہے گرامر: لَ لامِ تاکید؛ ٱل سے معرفہ مؤنث اسم، إِنَّ کا اسم منصوب ہے۔ وَٱلْأُولَىٰ — اور پہلی زندگی گرامر: وَ حرفِ عطف؛ معرفہ مؤنث اسم منصوب اور ٱلْـَٔاخِرَةَ پر معطوف ہے۔
7. سورۃ اللیل، آیت ١٤
فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ جملے کی ترکیب فَأَنذَرْتُكُمْ بابِ افعال ہے؛ متصل تُ فاعل اور كُمْ پہلا مفعول ہے۔ نَارًا دوسرا مفعول اور تَلَظَّىٰ اس کا وصفی جملہ ہے۔ آیت کا خلاصہ پس ہم نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے خبردار کردیا۔ فَأَنذَرْتُكُمْ — پس میں نے تمہیں خبردار کیا گرامر: فَ استئناف؛ أَنذَرْ بابِ افعال، تُ فاعل اور كُمْ پہلا مفعول ہے۔ نَارًۭا — ایک آگ سے گرامر: نکرہ مؤنث مفعول بہ منصوب ہے جو أَنذَرْتُكُمْ کا دوسرا مفعول ہے۔ تَلَظَّىٰ — جو بھڑکتی ہے گرامر: واحد مؤنث غائب فعلِ مضارع اور فاعل هِيَ مستتر ہے؛ اس کا جملہ نَارًا کی صفت ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسْتَغْنَىٰ ٨ ٱسْتَغْنَىٰ کس باب سے ہے؟
- بابِ تفعّل
- بابِ افتعال
- بابِ تفعیل
- بابِ استفعال
سوال 2
وَكَذَّبَ بِٱلْحُسْنَىٰ ٩ كَذَّبَ کس باب سے ہے؟
- بابِ تفعیل
- بابِ افعال
- بابِ تفعّل
- بابِ افتعال
سوال 3
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْعُسْرَىٰ ١٠ فَسَنُيَسِّرُهُۥ میں سَ کیا بتاتا ہے؟
سوال 4
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُۥٓ إِذَا تَرَدَّىٰٓ ١١ يُغْنِى کے ساتھ مَالُهُۥٓ کیا ہے؟
- مفعول
- خبر
- فاعلِ مرفوع
- صفتِ مجرور
سوال 5
إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰ ١٢ عَلَيْنَا میں نَا کیا ہے؟
سوال 6
وَإِنَّ لَنَا لَلْـَٔاخِرَةَ وَٱلْأُولَىٰ ١٣ ٱلْأُولَىٰ کس پر معطوف ہے؟
- ٱلْـَٔاخِرَةَ
- لَنَا
- إِنَّ
- لَ
سوال 7
فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ ١٤ فَأَنذَرْتُكُمْ میں تُ کیا ہے؟
تعاملی کوئز کھولیں