سورۃ المطففین — حصہ ٢

آیات ٩–١٥ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ المطففین — حصہ ٢ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ المطففین، آیت ٩

كِتَـٰبٌۭ مَّرْقُومٌۭ جملے کی ترکیب كِتَـٰبٌ محذوف مبتدا کی خبرِ مرفوع اور مَّرْقُومٌ اس کی صفتِ مرفوع ہے۔ آیت کا خلاصہ سجین ایک لکھا ہوا دفتر ہے جس میں دوزخیوں کے نام اور اعمال درج ہیں۔ كِتَـٰبٌۭ — ایک کتاب ہے گرامر: نکرہ اسمِ مرفوع اور محذوف مبتدا کی خبر ہے۔ مَّرْقُومٌۭ — لکھی ہوئی گرامر: نکرہ اسمِ مفعول اور صفتِ مرفوع ہے جو كِتَـٰبٌ کو بیان کرتی ہے۔

2. سورۃ المطففین، آیت ١٠

وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ جملے کی ترکیب وَيْلٌ مبتدا مرفوع ہے جس کی خبر محذوف ہے۔ يَوْمَئِذٍ ظرفِ زمان اور لِّلْمُكَذِّبِينَ محذوف خبر سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ اس دن حق کو جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے۔ وَيْلٌۭ — ہلاکت ہے گرامر: نکرہ اسمِ مرفوع اور مبتدا ہے؛ اس کی خبر محذوف ہے۔ يَوْمَئِذٍۢ — اس دن گرامر: منصوب ظرفِ زمان ہے جو بیان کو اس دن میں واقع بتاتا ہے؛ اس کے عامل کی زائد تعیین نہیں کی گئی۔ لِّلْمُكَذِّبِينَ — جھٹلانے والوں کے لئے گرامر: لِ حرفِ جر، ال حرفِ تعریف اور مُكَذِّبِينَ بابِ تفعیل کا جمع مذکر اسمِ فاعل، یاء کے ساتھ مجرور ہے؛ جار و مجرور محذوف خبر سے متعلق ہے۔

3. سورۃ المطففین، آیت ١١

ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ جملے کی ترکیب ٱلَّذِينَ، ٱلْمُكَذِّبِينَ کی صفت ہے۔ يُكَذِّبُونَ اس کا صلۂ موصول اور بِيَوْمِ ٱلدِّينِ اسی فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزِ جزا کو جھٹلاتے ہیں۔ ٱلَّذِينَ — وہ لوگ گرامر: جمع مذکر اسمِ موصول ہے اور ٱلْمُكَذِّبِينَ کی صفت ہونے کی وجہ سے محلِ جر میں ہے۔ يُكَذِّبُونَ — جو جھٹلاتے ہیں گرامر: بابِ تفعیل کا فعلِ مضارع، جمع مذکر غائب اور صلۂ موصول ہے۔ متصل و فاعل اور آخری ن علامتِ رفع ہے۔ بِيَوْمِ — ساتھ دن گرامر: بِ حرفِ جر اور يَوْمِ اسمِ مجرور ہے جو ٱلدِّينِ کی طرف مضاف ہے؛ جار و مجرور يُكَذِّبُونَ سے متعلق ہے۔ ٱلدِّينِ — بدلے کے (دن کو) گرامر: حرفِ تعریف ہے۔ مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت مضاف الیہ ہے۔

4. سورۃ المطففین، آیت ١٢

وَمَا يُكَذِّبُ بِهِۦٓ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ جملے کی ترکیب مَا، يُكَذِّبُ کی نفی کرتا ہے اور إِلَّا اس کے فاعل کو كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ میں محصور کرتا ہے۔ بِهِۦٓ فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ روزِ جزا کو وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حد سے بڑھنے والا اور گناہ گار ہو۔ وَمَا — اور نہیں گرامر: وَ حرفِ استئناف اور مَا غیر عامل حرفِ نفی ہے۔ يُكَذِّبُ — جھٹلاتا گرامر: بابِ تفعیل کا واحد مذکر غائب فعلِ مضارع ہے جس کی نفی مَا نے کی ہے؛ كُلُّ اس کا ظاہر فاعلِ مرفوع ہے۔ بِهِۦٓ — اس کو گرامر: بِ حرفِ جر اور متصل هِۦٓ ضمیرِ مجرور ہے؛ جار و مجرور يُكَذِّبُ سے متعلق ہے۔ إِلَّا — مگر گرامر: اداةِ حصر ہے جو منفی فعل کے فاعل کو بعد والے اسم میں محصور کرتی ہے۔ كُلُّ — ہر گرامر: اسمِ مرفوع، يُكَذِّبُ کا فاعل اور مُعْتَدٍ کی طرف مضاف ہے۔ مُعْتَدٍ — حد سے بڑھنے والا گرامر: بابِ افتعال کا نکرہ اسمِ فاعل، مجرور اور كُلُّ کا مضاف الیہ ہے۔ أَثِيمٍ — گناہ گار گرامر: مجرور، صفت؛ نحوی حیثیت صفت ہے۔

5. سورۃ المطففین، آیت ١٣

إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَـٰتُنَا قَالَ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ جملے کی ترکیب إِذَا غیر جازم شرط لاتا ہے۔ فعلِ مجہول تُتْلَىٰ کا نائب فاعل ءَايَـٰتُنَا ہے؛ قَالَ جوابِ شرط ہے، اور مقولِ قول میں أَسَـٰطِيرُ سے پہلے مبتدا محذوف ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ کی آیات سن کر وہ انہیں پہلے لوگوں کی کہانیاں کہتا ہے۔ إِذَا — جب گرامر: مستقبل کا غیر جازم شرطیہ ظرفِ زمان ہے۔ تُتْلَىٰ — پڑھی جاتی ہے گرامر: واحد مؤنث غائب کا فعلِ مضارع مجہول ہے؛ ءَايَـٰتُنَا اس کا نائب فاعل ہے۔ عَلَيْهِ — اس پر گرامر: حرفِ جر؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ ضمیر؛ نحوی حیثیت اسمِ مجرور ہے۔ ءَايَـٰتُنَا — ہماری آیات گرامر: جمع مؤنث اسمِ مرفوع اور نائب فاعل ہے؛ متصل نَا اس کا مضاف الیہ ہے۔ قَالَ — کہتا ہے گرامر: واحد مذکر غائب کا فعلِ ماضی ہے، فاعل مستتر هُوَ ہے؛ یہ غیر جازم شرط کا جواب ہے۔ أَسَـٰطِيرُ — کہانیاں ہیں گرامر: جمع اسمِ مرفوع اور مقولِ قول میں محذوف مبتدا کی خبر ہے۔ ٱلْأَوَّلِينَ — پہلوں کی گرامر: حرفِ تعریف ہے۔ مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت مضاف الیہ ہے۔

6. سورۃ المطففین، آیت ١٤

كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ جملے کی ترکیب كَلَّا ردع اور بَلْ انتقال کے لیے ہے۔ اسمِ موصول مَا، رَانَ کا فاعل ہے؛ كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ اس کا صلۂ موصول ہے اور يَكْسِبُونَ کے بعد عائد مفعولی ضمیر محذوف ہے۔ آیت کا خلاصہ مسلسل گناہوں نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے، اس لیے وہ حق کو نہیں پہچانتے۔ كَلَّا ۖ — ہرگز نہیں گرامر: حرفِ ردع و زجر ہے۔ بَلْ ۜ — بلکہ گرامر: حرفِ اضراب و انتقال ہے جو درست بیان کی طرف منتقل کرتا ہے۔ رَانَ — زنگ چڑھ گیا ہے گرامر: واحد مذکر غائب کا فعلِ ماضی ہے۔ اسمِ موصول مَا اس کا ظاہر فاعلِ مرفوع اور عَلَىٰ قُلُوبِهِم اس سے متعلق ہے۔ عَلَىٰ — پر گرامر: حرفِ جر؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ قُلُوبِهِم — ان کے دلوں (پر) گرامر: جمع اسمِ مجرور ہے جسے عَلَىٰ نے جر دیا؛ متصل هِم اس کا مضاف الیہ ہے۔ مَّا — جو کچھ گرامر: اسمِ موصول اور رَانَ کا فاعلِ مرفوع ہے۔ كَانُوا۟ — ہیں وہ گرامر: فعلِ ماضی ناقص، جمع مذکر غائب ہے۔ متصل و اسمِ کان اور آخری الف، الفِ فارقہ ہے۔ يَكْسِبُونَ — کمائی کرتے گرامر: جمع مذکر غائب کا فعلِ مضارع اور كَانُوا۟ کی فعلیہ خبر ہے۔ متصل و فاعل، آخری ن علامتِ رفع، اور اسمِ موصول مَا کا عائد مفعولی ضمیر محذوف ہے۔

7. سورۃ المطففین، آیت ١٥

كَلَّآ إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍۢ لَّمَحْجُوبُونَ جملے کی ترکیب حرفِ ردع كَلَّآ کے بعد متصل هُمْ، إِنَّ کا اسم ہے۔ لَّمَحْجُوبُونَ اس کی مؤکد خبر ہے؛ دونوں جار و مجرور اور ظرف اسی خبر سے متعلق ہیں۔ آیت کا خلاصہ اس دن منکر اپنے رب کے دیدار سے محروم رکھے جائیں گے۔ كَلَّآ — ہرگز نہیں گرامر: حرفِ ردع ہے۔ إِنَّهُمْ — بیشک وہ گرامر: إِنَّ حرفِ نصب و تاکید اور متصل هُمْ اس کا اسمِ منصوب ہے۔ عَن — سے گرامر: حرفِ جر؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ رَّبِّهِمْ — اپنے رب (سے) گرامر: عَن کی وجہ سے اسمِ مجرور ہے؛ متصل هِمْ مضاف الیہ ہے۔ جار و مجرور مَحْجُوبُونَ سے متعلق ہے۔ يَوْمَئِذٍۢ — اس دن گرامر: ظرفِ زمان؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ لَّمَحْجُوبُونَ — البتہ حجاب میں رکھے جانے والے ہیں گرامر: لَ لامِ مزحلقہ برائے تاکید ہے۔ مَحْجُوبُونَ جمع مذکر اسمِ مفعول، خبرِ إن اور واو کے ساتھ مرفوع ہے؛ آخری نون اسمی ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

كِتَـٰبٌۭ مَّرْقُومٌۭ ۝٩ مَرْقُومٌ، كِتَـٰبٌ کے اعتبار سے کیا ہے؟

  • مفعول بہ
  • صفتِ مرفوع
  • مضاف الیہ
  • حال

سوال 2

وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ ۝١٠ لِلْمُكَذِّبِينَ محذوف خبر کے ساتھ کیا بناتا ہے؟

  • اس سے متعلق جار و مجرور
  • فاعل
  • مفعول بہ
  • مصدر

سوال 3

ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ ۝١١ ٱلْمُكَذِّبِينَ کے بعد ٱلَّذِينَ کیا ہے؟

  • مفعول بہ
  • خبر
  • صفت
  • ظرف

سوال 4

وَمَا يُكَذِّبُ بِهِۦٓ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ۝١٢ كُلُّ کا نحوی کردار کیا ہے؟

  • مفعول بہ
  • خبر
  • مضاف الیہ
  • فاعل

سوال 5

إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَـٰتُنَا قَالَ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ ۝١٣ فعلِ مجہول تُتْلَىٰ کے ساتھ ءَايَـٰتُنَا کیا ہے؟

  • نائب فاعل
  • مفعول بہ
  • خبر
  • حال

سوال 6

كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ۝١٤ مَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ میں مَا کیا ہے؟

  • حرفِ نفی
  • اسمِ موصول اور ران کا فاعل
  • اسمِ استفہام
  • حرفِ جر

سوال 7

كَلَّآ إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍۢ لَّمَحْجُوبُونَ ۝١٥ إِنَّهُمْ کے بعد مَحْجُوبُونَ کیا ہے؟

  • اسمِ إن
  • مفعول بہ
  • خبرِ إن
  • ظرف

تعاملی کوئز کھولیں