سورۃ المطففین — حصہ ٣

آیات ١٦–٢٢ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ المطففین — حصہ ٣ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ المطففین، آیت ١٦

ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُوا۟ ٱلْجَحِيمِ جملے کی ترکیب ثُمَّ جملے کو معطوف کرتا ہے۔ متصل هُمْ، إِنَّ کا اسم ہے اور لَصَالُوا۟ ٱلْجَحِيمِ اضافی ترکیب میں اس کی مؤکد خبر ہے۔ آیت کا خلاصہ پھر وہ دوزخ میں داخل ہوں گے۔ ثُمَّ — پھر گرامر: حرفِ عطف ہے۔ إِنَّهُمْ — بیشک وہ گرامر: إِنَّ حرفِ نصب و تاکید اور متصل هُمْ اس کا اسمِ منصوب ہے۔ لَصَالُوا۟ — البتہ داخل ہونے والے ہیں گرامر: لَ لامِ تاکید ہے۔ یہاں صَالُوا۟ فعلِ ماضی نہیں بلکہ جمع مذکر اسمِ فاعل، خبرِ إن اور مرفوع ہے؛ ٱلْجَحِيمِ کی طرف اضافت کے سبب اس کی نون حذف ہوئی ہے۔ ٱلْجَحِيمِ — جہنم میں گرامر: معرفہ اسمِ مجرور اور صَالُوا۟ کا مضاف الیہ ہے۔

2. سورۃ المطففین، آیت ١٧

ثُمَّ يُقَالُ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ جملے کی ترکیب فعلِ مجہول يُقَالُ مقولِ قول لاتا ہے اور پورا اسمیہ مقول اس کے نائب فاعل کے محل میں ہے۔ اس اندرونی جملے میں هَـٰذَا مبتدا ہے؛ ایک نحوی توجیہ میں ٱلَّذِى اس کی خبر اور كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ صلۂ موصول ہے۔ آیت کا خلاصہ ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی عذاب ہے جسے تم جھٹلاتے تھے۔ ثُمَّ — پھر گرامر: حرفِ عطف ہے۔ يُقَالُ — کہا جائے گا گرامر: واحد مذکر غائب کا فعلِ مضارع مجہول ہے؛ بعد کا مقولِ قول اس کے نائب فاعل کی جگہ آتا ہے۔ هَـٰذَا — یہ ہے گرامر: واحد مذکر اسمِ اشارہ اور اندرونی جملے کا مبتدا ہے؛ پورا مقولِ قول يُقَالُ کے نائب فاعل کے محل میں ہے۔ ٱلَّذِى — وہ چیز گرامر: واحد مذکر اسمِ موصول ہے؛ مبتدی ترکیب میں هَـٰذَا کی خبر ہے اور اس کا صلۂ موصول آگے آتا ہے۔ كُنتُم — تھے تم گرامر: فعلِ ماضی ناقص، جمع مذکر حاضر ہے؛ متصل تُم اس کا اسمِ مرفوع ہے۔ بِهِۦ — جس کو گرامر: بِ حرفِ جر اور متصل هِۦ ضمیرِ مجرور ہے؛ جار و مجرور تُكَذِّبُونَ سے متعلق ہے۔ تُكَذِّبُونَ — تم جھٹلایا کرتے گرامر: بابِ تفعیل کا فعلِ مضارع، جمع مذکر حاضر اور كُنتُم کی فعلیہ خبر ہے۔ متصل و فاعل اور آخری ن علامتِ رفع ہے۔

3. سورۃ المطففین، آیت ١٨

كَلَّآ إِنَّ كِتَـٰبَ ٱلْأَبْرَارِ لَفِى عِلِّيِّينَ جملے کی ترکیب یہ ترکیب آیت ۷ کے موافق ہے: كِتَـٰبَ اسمِ إن، ٱلْأَبْرَارِ اس کا مضاف الیہ اور لَفِى عِلِّيِّينَ مؤکد خبر ہے۔ آیت کا خلاصہ بدکاروں اور نیک لوگوں کا انجام یکساں نہیں؛ نیکوں کا اعمال نامہ علیین میں ہے۔ كَلَّآ — ہرگز نہیں گرامر: حرفِ ردع ہے۔ إِنَّ — بیشک گرامر: حرفِ نصب و تاکید ہے۔ كِتَـٰبَ اس کا اسمِ منصوب اور لَفِى عِلِّيِّينَ اس کی مؤکد خبر ہے۔ كِتَـٰبَ — کتاب گرامر: اسمِ منصوب، إِنَّ کا اسم اور ٱلْأَبْرَارِ کی طرف مضاف ہے۔ ٱلْأَبْرَارِ — نیک لوگوں کی گرامر: معرفہ جمع اسمِ مجرور اور كِتَـٰبَ کا مضاف الیہ ہے۔ لَفِى — البتہ میں گرامر: لَ لامِ مزحلقہ برائے تاکید اور فِى حرفِ جر ہے؛ پورا جار و مجرور خبرِ إن ہے۔ عِلِّيِّينَ — علییین میں ہوگی گرامر: مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت اسمِ مجرور ہے۔

4. سورۃ المطففین، آیت ١٩

وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا عِلِّيُّونَ جملے کی ترکیب پہلا استفہامیہ مَآ مبتدا اور أَدْرَىٰكَ کا جملہ اس کی خبر ہے۔ اندرونی اسمیہ سوال مَا عِلِّيُّونَ اس چیز کو بیان کرتا ہے جس کی خبر دی جائے۔ آیت کا خلاصہ انسان خود نہیں جان سکتا کہ علیین کیا ہے۔ وَمَآ — اور کیا چیز گرامر: وَ حرفِ عطف/استئناف ہے؛ استفہامیہ مَآ مبتدا ہے۔ أَدْرَىٰكَ — بتائے تجھ کو گرامر: بابِ افعال کا فعلِ ماضی ہے، فاعل مستتر ہے؛ متصل كَ مفعولِ اول اور بعد کا سوال مفعولِ ثانی کی جگہ آتا ہے۔ مَا — کیا ہے گرامر: اسمِ استفہام اور اندرونی اسمیہ سوال کا مبتدا ہے۔ عِلِّيُّونَ — علیین گرامر: جمع اسمِ مرفوع اور اندرونی استفہامیہ مَا کی خبر ہے۔

5. سورۃ المطففین، آیت ٢٠

كِتَـٰبٌۭ مَّرْقُومٌۭ جملے کی ترکیب كِتَـٰبٌ محذوف مبتدا کی خبرِ مرفوع اور مَّرْقُومٌ اس کی صفتِ مرفوع ہے۔ آیت کا خلاصہ علیین ایک لکھا ہوا دفتر ہے جس میں اہلِ جنت کے نام اور اعمال درج ہیں۔ كِتَـٰبٌۭ — ایک کتاب ہے گرامر: نکرہ اسمِ مرفوع اور محذوف مبتدا کی خبر ہے۔ مَّرْقُومٌۭ — رقم کی ہوئی گرامر: نکرہ اسمِ مفعول اور صفتِ مرفوع ہے جو كِتَـٰبٌ کو بیان کرتی ہے۔

6. سورۃ المطففین، آیت ٢١

يَشْهَدُهُ ٱلْمُقَرَّبُونَ جملے کی ترکیب فعلیہ جملہ كِتَـٰبٌ کی دوسری صفت ہے۔ يَشْهَدُ کی متصل هُ مفعول بہ اور ٱلْمُقَرَّبُونَ فاعل ہے۔ آیت کا خلاصہ مقربین اس اعمال نامے کو دیکھتے اور اس مقام پر حاضر ہوتے ہیں۔ يَشْهَدُهُ — حاضر ہوتے ہیں اس پر گرامر: واحد مذکر غائب کا فعلِ مضارع ہے اور اس کا جملہ كِتَـٰبٌ کی صفت ہے؛ متصل هُ مفعول بہ ہے۔ ٱلْمُقَرَّبُونَ — مقرب فرشتے گرامر: بابِ تفعیل کا معرفہ جمع مذکر اسمِ مفعول، يَشْهَدُ کا فاعل اور واو کے ساتھ مرفوع ہے؛ آخری نون اسمی ہے۔

7. سورۃ المطففین، آیت ٢٢

إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍ جملے کی ترکیب إِنَّ کی وجہ سے ٱلْأَبْرَارَ اسمِ إن اور منصوب ہے۔ تاکیدی جار و مجرور لَفِى نَعِيمٍ اس کی خبر ہے۔ آیت کا خلاصہ نیک لوگ جنت کی نعمتوں اور راحتوں میں ہوں گے۔ إِنَّ — بیشک گرامر: حرفِ نصب و تاکید ہے۔ ٱلْأَبْرَارَ — نیک لوگ گرامر: معرفہ جمع اسمِ منصوب اور إِنَّ کا اسم ہے۔ لَفِى — البتہ میں گرامر: لَ لامِ مزحلقہ برائے تاکید اور فِى حرفِ جر ہے؛ پورا جار و مجرور خبرِ إن ہے۔ نَعِيمٍ — نعمتوں میں ہوں گے گرامر: مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت اسمِ مجرور ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُوا۟ ٱلْجَحِيمِ ۝١٦ یہاں صَالُوا۟ سے نون کیوں حذف ہے؟

  • جزم کی وجہ سے
  • نصب کی وجہ سے
  • فعلِ ماضی ہونے کی وجہ سے
  • جمع اسمِ فاعل کی اضافت کی وجہ سے

سوال 2

ثُمَّ يُقَالُ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ۝١٧ يُقَالُ کس صیغۂ فعل میں ہے؟

  • فعلِ ماضی معروف
  • فعلِ مضارع مجہول
  • فعلِ امر معروف
  • فعلِ ماضی ناقص

سوال 3

كَلَّآ إِنَّ كِتَـٰبَ ٱلْأَبْرَارِ لَفِى عِلِّيِّينَ ۝١٨ إِنَّ کے بعد كِتَـٰبَ کیا ہے؟

  • خبر
  • فاعل
  • اسمِ إن منصوب
  • صفت

سوال 4

وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا عِلِّيُّونَ ۝١٩ اندرونی سوال میں عِلِّيُّونَ کیا ہے؟

  • مَا کی خبرِ مرفوع
  • مفعول بہ
  • اسمِ مجرور
  • فعل

سوال 5

كِتَـٰبٌۭ مَّرْقُومٌۭ ۝٢٠ مَرْقُومٌ، كِتَـٰبٌ کے اعتبار سے کیا ہے؟

  • مفعول بہ
  • صفتِ مرفوع
  • مضاف الیہ
  • حال

سوال 6

يَشْهَدُهُ ٱلْمُقَرَّبُونَ ۝٢١ يَشْهَدُهُ میں متصل هُ کیا ہے؟

  • فاعل
  • خبر
  • مفعول بہ
  • مضاف الیہ

سوال 7

إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍ ۝٢٢ إِنَّ کے بعد ٱلْأَبْرَارَ کیا ہے؟

  • خبر
  • فاعل
  • صفت
  • اسمِ إن منصوب

تعاملی کوئز کھولیں