سورۃ القدر — حصہ ١
آیات ١–٥ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ القدر — حصہ ١ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ القدر، آیت ١
إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ ١ جملے کی ترکیب إِنَّآ مؤکد اسمیہ جملہ شروع کرتا ہے۔ أَنزَلْنَـٰهُ جملۂ فعلیہ خبر ہے؛ نَا فاعل اور هُ مفعول ہے۔ فِى لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ نے قرآن کو شبِ قدر میں نازل فرمایا۔ إِنَّآ — بے شک ہم گرامر: إِنَّ حرفِ تاکید و نصب اور متصل نَا اس کا اسم ہے۔ أَنزَلْنَـٰهُ — ہم نے اسے نازل کیا گرامر: بابِ افعال کا فعلِ ماضی ہے؛ نَا فاعل اور واحد مذکر هُ مفعول ہے۔ جملۂ فعلیہ إِنَّ کی خبر ہے۔ فِى — میں گرامر: حرفِ جر ہے۔ یہ ترکیب «أَنزَلْ» سے متعلق ہے۔ لَيْلَةِ — رات گرامر: فِى کے بعد مؤنث اسم مجرور اور آگے مضاف ہے۔ ٱلْقَدْرِ — قدر کی گرامر: معرفہ مذکر مضاف الیہ مجرور ہے۔
2. سورۃ القدر، آیت ٢
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ ٢ جملے کی ترکیب وَ استئناف اور پہلی مَآ استفہام کے لیے ہے۔ أَدْرَىٰكَ میں كَ مفعول ہے۔ دوسری مَا سوال شروع کرتی ہے اور لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ اس کی خبر ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ سوال شبِ قدر کی عظمت واضح کرتا ہے۔ وَمَآ — اور کیا گرامر: وَ استئناف اور مَآ اسمِ استفہام ہے۔ أَدْرَىٰكَ — آپ کو کیا معلوم کرائے گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ فاعل مستتر اور كَ مفعول ہے۔ مَا — کیا گرامر: اسمِ استفہام ہے جو اگلا اسمیہ جملہ شروع کرتا ہے۔ لَيْلَةُ — رات گرامر: مؤنث اسم مرفوع، ٱلْقَدْرِ کی طرف مضاف اور اس ترکیب میں خبر ہے۔ ٱلْقَدْرِ — قدر کی گرامر: معرفہ مذکر مضاف الیہ مجرور ہے۔
3. سورۃ القدر، آیت ٣
لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ٣ جملے کی ترکیب لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ مبتدا مرفوع اور اضافی ترکیب ہے۔ خَيْرٌ خبر مرفوع ہے اور مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ تقابل کی جار و مجرور ترکیب ہے۔ آیت کا خلاصہ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ لَيْلَةُ — رات گرامر: مؤنث مبتدا مرفوع اور آگے مضاف ہے۔ ٱلْقَدْرِ — قدر کی گرامر: معرفہ مذکر مضاف الیہ مجرور ہے۔ خَيْرٌۭ — بہتر گرامر: نکرہ مذکر خبر مرفوع ہے جو لَيْلَةُ کی خبر ہے۔ مِّنْ — سے گرامر: حرفِ جر ہے جو تقابل کی ترکیب شروع کرتا ہے۔ یہ ترکیب «خَيْرٌ» سے متعلق ہے۔ أَلْفِ — ایک ہزار گرامر: مِنْ کے بعد مذکر اسم مجرور اور آگے مضاف ہے۔ شَهْرٍۢ — مہینوں گرامر: نکرہ مذکر مضاف الیہ مجرور ہے۔
4. سورۃ القدر، آیت ٤
تَنَزَّلُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ٤ جملے کی ترکیب تَنَزَّلُ بابِ تفعل کا فعلِ مضارع ہے؛ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ فاعل مرفوع اور وَٱلرُّوحُ اس پر معطوف ہے۔ باقی جار و مجرور ترکیبیں نزول سے متعلق ہیں۔ آیت کا خلاصہ اس رات فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں۔ تَنَزَّلُ — اترتے ہیں گرامر: بابِ تفعل کا واحد مؤنث غائب فعلِ مضارع ہے؛ اگلا جمع مکسر فاعل ہونے کی وجہ سے فعل واحد مؤنث آیا ہے۔ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ — فرشتے گرامر: معرفہ جمع مکسر فاعل مرفوع ہے۔ وَٱلرُّوحُ — اور روح گرامر: وَ حرفِ عطف؛ معرفہ مذکر اسم مرفوع ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ پر معطوف ہے۔ فِيهَا — اس میں گرامر: فِى حرفِ جر اور واحد مؤنث هَا ضمیر مجرور ہے۔ یہ ترکیب «تَنَزَّلُ» سے متعلق ہے۔ بِإِذْنِ — اجازت سے گرامر: بِ حرفِ جر؛ إِذْنِ مذکر اسم مجرور اور آگے مضاف ہے۔ یہ ترکیب «تَنَزَّلُ» کے ساتھ حالیہ جزِ محذوف کے ذریعے متعلق ہے۔ رَبِّهِم — ان کے رب گرامر: مذکر مضاف الیہ مجرور ہے؛ جمع هِم ضمیر مضاف الیہ ہے۔ مِّن — سے گرامر: حرفِ جر ہے جو اگلی مجرور ترکیب شروع کرتا ہے۔ یہ ترکیب «تَنَزَّلُ» سے متعلق ہے۔ كُلِّ — ہر گرامر: مِن کے بعد مذکر اسم مجرور اور آگے مضاف ہے۔ أَمْرٍۢ — معاملے گرامر: نکرہ مذکر مضاف الیہ مجرور ہے۔
5. سورۃ القدر، آیت ٥
سَلَـٰمٌ هِىَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ ٱلْفَجْرِ ٥ جملے کی ترکیب هِىَ واحد مؤنث مبتدا اور سَلَـٰمٌ اس کی خبر مقدم مرفوع ہے۔ حَتَّىٰ مَطْلَعِ ٱلْفَجْرِ انتہا بتانے والی مجرور اضافی ترکیب ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ رات طلوعِ فجر تک سلامتی والی ہے۔ سَلَـٰمٌ — سلامتی گرامر: نکرہ مذکر خبر مقدم مرفوع ہے۔ هِىَ — وہ رات ہے گرامر: واحد مؤنث غائب ضمیر منفصل ہے جو مبتدا ہے۔ حَتَّىٰ — یہاں تک کہ گرامر: حرفِ جر ہے جو انتہا بتاتا اور اگلے اسم کو مجرور کرتا ہے۔ یہ ترکیب آیت کی حد کے پار «تَنَزَّلُ» سے متعلق ہے۔ مَطْلَعِ — طلوع ہونے گرامر: حَتَّىٰ کے بعد مذکر اسم مجرور اور آگے مضاف ہے۔ ٱلْفَجْرِ — فجر کے گرامر: معرفہ مذکر مضاف الیہ مجرور ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ ١ أَنزَلْنَـٰهُ میں متصل هُ کیا ہے؟
سوال 2
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ ٢ أَدْرَىٰكَ میں متصل كَ کیا ہے؟
سوال 3
لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ٣ اسمیہ جملے میں خَيْرٌۭ کیا ہے؟
- مفعول
- مبتدا
- خبر مرفوع
- صفت مجرور
سوال 4
تَنَزَّلُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ٤ تَنَزَّلُ کے ساتھ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ کیا ہے؟
- مفعول
- خبر
- اسم مجرور
- فاعل مرفوع
سوال 5
سَلَـٰمٌ هِىَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ ٱلْفَجْرِ ٥ هِىَ کے ساتھ سَلَـٰمٌ کیا ہے؟
- خبر مقدم مرفوع
- مفعول منصوب
- مضاف الیہ مجرور
- فعلِ امر
تعاملی کوئز کھولیں