سورۃ النبأ — حصہ ۳
آیات ۱۷–۲۴ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ النبأ — حصہ ۳ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ النبأ، آیت ۱۷
إِنَّ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ كَانَ مِيقَـٰتًا جملے کی ترکیب إِنَّ جملۂ اسمیہ میں تاکید پیدا کرتا ہے۔ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ اس کا اسم ہے، جبکہ پورا جملہ كَانَ مِيقَـٰتًا اس کی خبر ہے: فیصلے کا دن پہلے سے مقرر وقت ہے۔ إِنَّ — بے شک گرامر: فعل سے مشابہ حرفِ تاکید ہے۔ اپنے اسم کو منصوب کرتا ہے اور اس کی خبر محلّاً مرفوع ہوتی ہے۔ يَوْمَ — دن گرامر: واحد مذکر اسمِ منصوب، إِنَّ کا اسم اور مضاف ہے۔ ٱلْفَصْلِ — فیصلے کا گرامر: معرفہ واحد مذکر اسمِ مجرور اور يَوْمَ کا مضاف الیہ ہے۔ كَانَ — تھا / مقرر رہا گرامر: فعلِ ماضی ناقص، واحد مذکر غائب ہے۔ اس کا اسم ضمیرِ مستتر هُوَ ہے جو دن کی طرف لوٹتا ہے۔ مِيقَـٰتًۭا — مقرر وقت گرامر: نکرہ واحد مذکر اسمِ منصوب اور كَانَ کی خبر ہے۔ پورا جملۂ كَانَ، إِنَّ کی خبر ہے۔
2. سورۃ النبأ، آیت ۱۸
يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا جملے کی ترکیب یہ يَوْمَ پچھلی آیت کے فیصلے کے دن کی وضاحت کرتا ہے۔ مجہول جملہ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ اس دن سے متعلق ہے، اور فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا نتیجتاً لوگوں کے جھنڈ در جھنڈ آنے کو بیان کرتا ہے۔ يَوْمَ — جس دن گرامر: ظرفِ زمان منصوب اور مضاف ہے۔ یہ پچھلی آیت کے يَوْمَ ٱلْفَصْلِ کا بدل بن کر اس کی وضاحت کرتا ہے۔ يُنفَخُ — پھونکا جائے گا گرامر: فعلِ مضارع مجہول، واحد مذکر غائب اور مرفوع ہے۔ جار و مجرور فِى ٱلصُّورِ نائب فاعل کا تعلق پورا کرتا ہے۔ فِى — میں گرامر: حرفِ جر ہے اور يُنفَخُ سے متعلق ہے۔ ٱلصُّورِ — صور گرامر: معرفہ واحد مذکر اسم اور فِى کی وجہ سے مجرور ہے۔ یہ جار و مجرور مجہول جملے کو مکمل کرتا ہے۔ فَتَأْتُونَ — پھر تم آؤ گے گرامر: فَـ ترتیب و تعقیب کے لیے ہے۔ تَأْتُونَ فعلِ مضارع، جمع مذکر حاضر اور افعالِ خمسہ میں سے ہے۔ ”و“ واوُ الجماعة، ضمیرِ متصل اور محلِ رفع میں فاعل ہے۔ آخر کا ”نَ“ نونِ رفع ہے؛ اس کا ثابت رہنا فعل کے مرفوع ہونے کی علامت ہے۔ أَفْوَاجًۭا — جھنڈ در جھنڈ گرامر: نکرہ جمع اسمِ منصوب ہے اور حال بن کر آنے کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ اس کا واحد فَوْج ہے۔
3. سورۃ النبأ، آیت ۱۹
وَفُتِحَتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَٰبًا جملے کی ترکیب دو واقعات باہم ملائے گئے ہیں۔ ٱلسَّمَآءُ، فُتِحَتْ کا نائب فاعل ہے، پھر كَانَتْ کا اسم ضمیرِ مستتر آسمان کی طرف لوٹتا ہے اور أَبْوَٰبًا اس کی خبر ہے۔ وَفُتِحَتِ — اور کھول دیا جائے گا گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ فُتِحَتْ فعلِ ماضی مجہول، واحد مؤنث غائب ہے؛ آخر کی کسرہ اگلے ٱلـ سے پہلے تلفظ آسان کرتی ہے۔ ٱلسَّمَآءُ — آسمان گرامر: معرفہ مؤنث اسمِ مرفوع اور فُتِحَتْ کا نائب فاعل ہے۔ فَكَانَتْ — پھر وہ ہو جائے گا گرامر: فَـ نتیجے کو ملاتا ہے۔ كَانَتْ فعلِ ماضی ناقص، واحد مؤنث غائب ہے؛ اس کا اسم ضمیرِ مستتر هِيَ ہے۔ أَبْوَٰبًۭا — دروازے گرامر: نکرہ جمع مکسر اسمِ منصوب اور كَانَتْ کی خبر ہے۔ اس کا واحد بَاب ہے۔
4. سورۃ النبأ، آیت ۲۰
وَسُيِّرَتِ ٱلْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا جملے کی ترکیب یہ بیان پچھلی آیت کی ساخت کے ہم وزن ہے۔ ٱلْجِبَالُ، سُيِّرَتْ کا نائب فاعل ہے، اور فَكَانَتْ سَرَابًا بتاتا ہے کہ پہاڑ پھر سراب بن جائیں گے۔ وَسُيِّرَتِ — اور چلا دیے جائیں گے گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ سُيِّرَتْ بابِ تفعیل کا فعلِ ماضی مجہول، واحد مؤنث غائب ہے؛ غیر عاقل جمع کے ساتھ واحد مؤنث آیا ہے۔ ٱلْجِبَالُ — پہاڑ گرامر: معرفہ جمع مکسر اسمِ مرفوع اور سُيِّرَتْ کا نائب فاعل ہے۔ فَكَانَتْ — پھر وہ ہو جائیں گے گرامر: فَـ نتیجے کی حالت بیان کرتا ہے۔ كَانَتْ فعلِ ماضی ناقص، واحد مؤنث ہے اور اس کا مستتر اسم هِيَ پہاڑوں کی جمع کی طرف لوٹتا ہے۔ سَرَابًا — سراب گرامر: نکرہ واحد مذکر اسمِ منصوب اور كَانَتْ کی خبر ہے۔
5. سورۃ النبأ، آیت ۲۱
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا جملے کی ترکیب إِنَّ بیان میں تاکید پیدا کرتا ہے۔ جَهَنَّمَ اس کا اسم ہے اور كَانَتْ مِرْصَادًا اس کی خبر کا جملہ ہے، یعنی جہنم گھات کی جگہ ہے۔ إِنَّ — بے شک گرامر: فعل سے مشابہ حرفِ تاکید ہے، جو جَهَنَّمَ کو منصوب کرتا ہے۔ جَهَنَّمَ — جہنم گرامر: علم اور اسمِ منصوب ہے، إِنَّ کا اسم ہے اور ممنوع من الصرف ہے۔ كَانَتْ — ہے / رہی ہے گرامر: فعلِ ماضی ناقص، واحد مؤنث غائب ہے۔ اس کا اسم ضمیرِ مستتر هِيَ ہے جو جہنم کی طرف لوٹتا ہے۔ مِرْصَادًۭا — گھات کی جگہ گرامر: نکرہ واحد مذکر اسمِ منصوب اور كَانَتْ کی خبر ہے۔ پورا جملۂ كَانَتْ، إِنَّ کی خبر ہے۔
6. سورۃ النبأ، آیت ۲۲
لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابًا جملے کی ترکیب یہ آیت جہنم کی پچھلی وضاحت کو مکمل کرتی ہے۔ لِّلطَّـٰغِينَ بتاتا ہے کہ وہ کن کے لیے گھات ہے، جبکہ مَـَٔابًا پچھلی كَانَتْ کی ایک اور خبر ہے: سرکشوں کے لوٹنے کا ٹھکانہ۔ لِّلطَّـٰغِينَ — سرکشوں کے لیے گرامر: لِـ حرفِ جر ہے۔ ٱلطَّـٰغِينَ معرفہ جمع مذکر سالم ہے اور یاء کے ساتھ مجرور ہے؛ یہ جار و مجرور پچھلی كَانَتْ سے متعلق ہے۔ مَـَٔابًۭا — لوٹنے کا ٹھکانہ گرامر: نکرہ واحد مذکر اسمِ منصوب اور پچھلی كَانَتْ کی ایک اور خبر ہے۔ یہ مادّہ أ و ب سے اسمِ مکان ہے۔
7. سورۃ النبأ، آیت ۲۳
لَّـٰبِثِينَ فِيهَآ أَحْقَابًا جملے کی ترکیب لَّـٰبِثِينَ سرکشوں کی حالت بیان کرتا ہے کہ وہ جہنم میں ٹھہرے رہیں گے۔ فِيهَآ اس اسمِ فاعل سے متعلق ہے اور أَحْقَابًا مدت، یعنی زمانوں پر زمانوں، کو بیان کرتا ہے۔ لَّـٰبِثِينَ — ٹھہرے رہنے والے گرامر: جمع مذکر سالم اسمِ فاعل، یاء کے ساتھ منصوب اور سرکشوں سے حال ہے۔ اس کا واحد لَابِث ہے۔ فِيهَآ — اس میں گرامر: فِى حرفِ جر ہے اور هَا واحد مؤنث غائب کی ضمیر، محلِ جر میں، جہنم کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ جار و مجرور لَّـٰبِثِينَ سے متعلق ہے۔ أَحْقَابًۭا — زمانوں تک گرامر: نکرہ جمع مکسر اسمِ منصوب اور ظرفِ زمان ہے۔ اس کا واحد حُقُب ہے۔
8. سورۃ النبأ، آیت ۲۴
لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا جملے کی ترکیب یہ منفی جملۂ فعلیہ پچھلی آیت کے زمانوں کی صفت ہے: ان تمام مدتوں میں اہلِ جہنم نہ ٹھنڈک چکھیں گے نہ کوئی مشروب۔ بَرْدًا، يَذُوقُونَ کا مفعول بہ ہے اور شَرَابًا اس پر معطوف ہے۔ لَّا — نہیں گرامر: حرفِ نفی ہے، جو اگلے فعلِ مضارع کے رفع کو تبدیل نہیں کرتا۔ يَذُوقُونَ — وہ چکھیں گے گرامر: فعلِ مضارع، جمع مذکر غائب اور افعالِ خمسہ میں سے ہے۔ ”و“ واوُ الجماعة، ضمیرِ متصل اور محلِ رفع میں فاعل ہے۔ آخر کا ”نَ“ نونِ رفع ہے؛ اس کا ثابت رہنا فعل کے مرفوع ہونے کی علامت ہے۔ فِيهَا — اس میں گرامر: فِى حرفِ جر اور هَا واحد مؤنث غائب کی ضمیر محلِ جر میں ہے، جو جہنم کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ جار و مجرور يَذُوقُونَ سے متعلق ہے۔ بَرْدًۭا — ٹھنڈک گرامر: نکرہ واحد مذکر اسمِ منصوب اور يَذُوقُونَ کا مفعول بہ ہے۔ وَلَا — اور نہ گرامر: وَ حرفِ عطف ہے اور لَا نفی کو دہراتا اور مضبوط کرتا ہے۔ شَرَابًا — پینے کی چیز گرامر: نکرہ واحد مذکر اسمِ منصوب اور بَرْدًا پر معطوف ہے، اس لیے وہی مفعول بہ کی حیثیت اور اعراب رکھتا ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
إِنَّ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ كَانَ مِيقَـٰتًا ١٧ يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا ١٨ دوسری آیت کے يَوْمَ کا يَوْمَ ٱلْفَصْلِ سے کیا تعلق ہے؟
- یہ بدل بن کر اس کی وضاحت کرتا ہے
- یہ اس کی خبر ہے
- یہ حرفِ جر ہے
- یہ اس کی مجرور صفت ہے
سوال 2
وَفُتِحَتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَٰبًا ١٩ وَسُيِّرَتِ ٱلْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا ٢٠ کون سا جوڑا نائب فاعل پر مشتمل ہے؟
- أَبْوَٰبًا اور سَرَابًا
- ٱلسَّمَآءُ اور ٱلْجِبَالُ
- فُتِحَتْ اور سُيِّرَتْ
- دونوں كَانَتْ
سوال 3
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا ٢١ لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابًا ٢٢ مَـَٔابًا کی درست نحوی وضاحت کیا ہے؟
- لِـ کے بعد اسمِ مجرور
- كَانَتْ کا اسم
- پچھلی كَانَتْ کی منصوب خبر
- ٱلطَّـٰغِينَ کی صفت
سوال 4
لَّـٰبِثِينَ فِيهَآ أَحْقَابًا ٢٣ أَحْقَابًا کی نحوی حیثیت کیا ہے؟
- ظرفِ زمان
- نائب فاعل
- اسمِ مجرور
- إِنَّ کی خبر
سوال 5
لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا ٢٤ شَرَابًا منصوب کیوں ہے؟
- یہ يَذُوقُونَ کا فاعل ہے
- یہ فِى کے بعد آیا ہے
- یہ منصوب مفعول بَرْدًا پر معطوف ہے
- یہ لَا کی خبر ہے
تعاملی کوئز کھولیں