سورۃ النازعات — حصہ ٤

آیات ٢٩–٣٧ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ النازعات — حصہ ٤ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ النازعات، آیت ٢٩

وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا آیت کا خلاصہ اللہ نے رات کو تاریک اور دن کی روشنی کو ظاہر کیا۔ جملے کی ترکیب دو معطوف افعالِ ماضی بیان کو آگے بڑھاتے ہیں: اللہ نے اس کی رات تاریک کی اور اس کی روشنی ظاہر کی۔ دونوں ضمیریں آسمان کی طرف لوٹتی ہیں۔ وَأَغْطَشَ — اور ڈھانک دیا گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ بابِ افعال، فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب اور پہلے فعل پر معطوف ہے۔ لَيْلَهَا — اس کی رات کو گرامر: منصوب، اسم اور نحوی طور پر مفعول بہ ہے۔ ساتھ لگا هَا واحد مؤنث غائب کی ضمیرِ متصل اور مضاف الیہ ہے۔ وَأَخْرَجَ — اور نکالا گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ بابِ افعال، فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب اور پہلے فعل پر معطوف ہے۔ ضُحَىٰهَا — اس کی دھوپ کو/ اس کے دن کو/ اگلا پہر گرامر: منصوب، اسم اور نحوی طور پر مفعول بہ ہے۔ ساتھ لگا هَا واحد مؤنث غائب کی ضمیرِ متصل اور مضاف الیہ ہے۔

2. سورۃ النازعات، آیت ٣٠

وَٱلْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ آیت کا خلاصہ اس کے بعد اللہ نے زمین کو بچھایا۔ جملے کی ترکیب وَٱلْأَرْضَ منصوب علی الاشتغال ہے؛ ایک محذوف فعل اسے نصب دیتا ہے جس کی تفسیر دَحَىٰهَآ کرتا ہے۔ بَعْدَ ذَٰلِكَ ظرف ہے۔ مذکور فعل کا فاعل مستتر هُوَ اور هَآ اس کا مفعول بہ ہے جو زمین کی طرف لوٹتا ہے۔ وَٱلْأَرْضَ — اور زمین کو گرامر: وَ حرفِ عطف اور ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ ٱلْأَرْضَ منصوب علی الاشتغال ہے؛ ایک محذوف فعل اسے نصب دیتا ہے جس کی تفسیر دَحَىٰهَآ کرتا ہے، جبکہ مذکور فعل کی هَآ اس کا مفعول بہ ہے۔ بَعْدَ — بعد گرامر: بَعْدَ ظرفِ زمان ہے؛ نحوی طور پر متعلق ہے۔ ذَٰلِكَ — اس کے گرامر: ذَٰلِكَ اسمِ اشارہ ہے؛ نحوی طور پر مضاف الیہ ہے۔ دَحَىٰهَآ — اس نے بچھا دیا گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب۔ ساتھ لگا هَآ واحد مؤنث غائب کی ضمیرِ متصل اور مفعول بہ ہے۔

3. سورۃ النازعات، آیت ٣١

أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا آیت کا خلاصہ اللہ نے زمین سے پانی جاری کیا اور اس کے ذریعے نباتات اور چارہ پیدا کیا۔ جملے کی ترکیب أَخْرَجَ کا فاعل مستتر هُوَ ہے۔ مِنْهَا فعل سے متعلق، مَآءَهَا مفعول بہ اور وَمَرْعَىٰهَا اس مفعول پر معطوف ہے۔ أَخْرَجَ — اس نے نکالا گرامر: بابِ افعال، فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب۔ مِنْهَا — اس سے گرامر: مِنْ حرفِ جر ہے؛ اس سے بننے والا جار و مجرور اپنے متعلق سے وابستہ ہے۔ ساتھ لگا هَا واحد مؤنث غائب کی ضمیرِ متصل اور اسمِ مجرور ہے۔ مَآءَهَا — اس کا پانی گرامر: منصوب، اسم اور نحوی طور پر مفعول بہ ہے۔ ساتھ لگا هَا واحد مؤنث غائب کی ضمیرِ متصل اور مضاف الیہ ہے۔ وَمَرْعَىٰهَا — اور اس کا چارہ گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ منصوب، اسم اور نحوی طور پر معطوف ہے۔ ساتھ لگا هَا واحد مؤنث غائب کی ضمیرِ متصل اور مضاف الیہ ہے۔

4. سورۃ النازعات، آیت ٣٢

وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا آیت کا خلاصہ اللہ نے پہاڑوں کو اپنی جگہ مضبوطی سے قائم کیا۔ جملے کی ترکیب وَٱلْجِبَالَ منصوب علی الاشتغال ہے؛ ایک محذوف فعل اسے نصب دیتا ہے جس کی تفسیر أَرْسَىٰهَا کرتا ہے۔ مذکور فعل ماضی، اس کا فاعل مستتر هُوَ اور هَا اس کا مفعول بہ ہے جو پہاڑوں کی جماعت کی طرف لوٹتا ہے۔ وَٱلْجِبَالَ — اور پہاڑوں کو گرامر: وَ حرفِ عطف اور ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ ٱلْجِبَالَ منصوب علی الاشتغال ہے؛ ایک محذوف فعل اسے نصب دیتا ہے جس کی تفسیر أَرْسَىٰهَا کرتا ہے، جبکہ مذکور فعل کی هَا اس کا مفعول بہ ہے۔ أَرْسَىٰهَا — اس نے گاڑ دیا ان کو گرامر: أَرْسَىٰ فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب ہے اور اس کا فاعل مستتر هُوَ ہے۔ ساتھ لگی هَا مفعول بہ کی ضمیر ہے جو پہاڑوں کی جماعت کی طرف لوٹتی ہے۔

5. سورۃ النازعات، آیت ٣٣

مَتَـٰعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ آیت کا خلاصہ یہ تمام انتظام انسانوں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے کیا گیا۔ جملے کی ترکیب مَتَـٰعًا مفعولٌ لہ منصوب ہے۔ لَكُمْ اور وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ دو معطوف جار و مجرور ہیں جو اس سے متعلق ہیں۔ مَتَـٰعًۭا — فائدے کے لیے گرامر: منصوب، اسم اور نحوی طور پر مفعول لہ ہے۔ لَّكُمْ — واسطے تمہارے گرامر: لَّ حرفِ جر ہے۔ كُمْ ضمیر ہے؛ نحوی طور پر اسمِ مجرور ہے۔ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ — اور تمہارے مویشیوں کے لئے گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ لِ حرفِ جر ہے۔ اسمِ مجرور ہے۔ ساتھ لگا كُمْ جمع مذکر حاضر کی ضمیرِ متصل اور مضاف الیہ ہے۔

6. سورۃ النازعات، آیت ٣٤

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ آیت کا خلاصہ پھر قیامت کا سب سے بڑا ہنگامہ آئے گا۔ جملے کی ترکیب إِذَا مستقبل کے شرطیہ ظرفی جملے کو شروع کرتا ہے۔ جَآءَتِ فعل، ٱلطَّآمَّةُ فاعل اور ٱلْكُبْرَىٰ اس کی صفت ہے۔ فَإِذَا — پھر جب گرامر: فَ حرفِ استئناف ہے۔ إِذَا ظرفِ زمان ہے۔ جَآءَتِ — آجائے گی گرامر: فعلِ ماضی، واحد مؤنث غائب؛ نحوی طور پر فعلِ شرط ہے۔ ٱلطَّآمَّةُ — چھا جانے والی آفت گرامر: ٱل حرفِ تعریف ہے۔ مرفوع، اسم اور نحوی طور پر فاعل ہے۔ ٱلْكُبْرَىٰ — بڑی گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ مرفوع صفت ہے۔

7. سورۃ النازعات، آیت ٣٥

يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا سَعَىٰ آیت کا خلاصہ اس دن انسان کو اپنا ہر کیا ہوا کام یاد آجائے گا۔ جملے کی ترکیب يَوْمَ ظرفِ زمان ہے۔ اس کا مضاف الیہ جملہ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ ہے، اور مَا سَعَىٰ مفعول بہ ہے: وہ سب جو انسان نے کیا۔ يَوْمَ — اس دن گرامر: يَوْمَ ظرفِ زمان ہے۔ يَتَذَكَّرُ — یاد کرے گا گرامر: بابِ تفعّل کا فعلِ مضارع، واحد مذکر غائب ہے۔ پورا جملہ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ، يَوْمَ کے بعد مضاف الیہ کے محل میں ہے۔ ٱلْإِنسَـٰنُ — انسان گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ مرفوع، اسم اور نحوی طور پر فاعل ہے۔ مَا — جو گرامر: مَا اسمِ موصول ہے؛ نحوی طور پر مفعول بہ ہے۔ سَعَىٰ — اس نے کوشش کی گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب؛ نحوی طور پر صلۂ موصول ہے۔

8. سورۃ النازعات، آیت ٣٦

وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ آیت کا خلاصہ جہنم کو اس طرح ظاہر کردیا جائے گا کہ ہر دیکھنے والا اسے دیکھ سکے گا۔ جملے کی ترکیب فعلِ مجہول وَبُرِّزَتِ کا نائب فاعل ٱلْجَحِيمُ ہے۔ لِمَن يَرَىٰ میں مَن اسمِ موصول اور يَرَىٰ اس کا صلۂ موصول ہے۔ وَبُرِّزَتِ — اور کھول دی جائے گی/ ظاہر کردی جائے گی گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ بابِ تفعیل، فعلِ ماضی، مجہول، واحد مؤنث غائب۔ ٱلْجَحِيمُ — جہنم گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ مرفوع، اسم اور نحوی طور پر نائب فاعل ہے۔ لِمَن — واسطے اس کے جو گرامر: لِ حرفِ جر ہے۔ مَن اسمِ موصول ہے؛ نحوی طور پر اسمِ مجرور ہے۔ يَرَىٰ — دیکھتا ہو گرامر: فعلِ مضارع، واحد مذکر غائب؛ نحوی طور پر صلۂ موصول ہے۔

9. سورۃ النازعات، آیت ٣٧

فَأَمَّا مَن طَغَىٰ آیت کا خلاصہ جس شخص نے سرکشی اختیار کی، اس کے انجام کا بیان شروع ہوتا ہے۔ جملے کی ترکیب فَ آیت ۳۴ کے إِذَا والے کلام کا جواب شروع کرتا ہے، اور أَمَّا تفصیل کی پہلی شق کھولتا ہے۔ مَن طَغَىٰ سرکشی کرنے والے شخص کو بیان کرتا ہے؛ اس شق کا جواب آیت ۳۹ میں آتا ہے۔ فَأَمَّا — تو رہا گرامر: فَ آیت ۳۴ کے إِذَا والے کلام کا جواب شروع کرتا ہے۔ أَمَّا حرفِ تفصیل ہے۔ مَن — وہ جس نے گرامر: مبنی لفظ ہے جو ”وہ شخص جس نے“ کا معنی دیتا ہے؛ أَمَّا کی اس شق میں طَغَىٰ اس کی وضاحت مکمل کرتا ہے۔ طَغَىٰ — سرکشی کی گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب ہے اور مَن کی وضاحت مکمل کرتا ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا ۝٢٩ وَٱلْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ ۝٣٠ آیت ۳۰ میں وَٱلْأَرْضَ کی باقاعدہ نحوی ترکیب کیا ہے؟

  • ایک محذوف فعل سے منصوب ہے جس کی تفسیر دَحَىٰهَآ کرتا ہے (اشتغال)
  • دَحَىٰهَآ کا فاعل
  • خبر
  • صفت

سوال 2

أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا ۝٣١ وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا ۝٣٢ آیت ۳۲ کی کون سی ترکیب درست ہے؟

  • ٱلْجِبَالَ فاعل ہے
  • هَا فاعل ہے
  • ٱلْجِبَالَ محذوف فعل سے منصوب اور هَا، أَرْسَىٰ کا مفعول بہ ہے
  • أَرْسَىٰ اسم ہے

سوال 3

مَتَـٰعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ ۝٣٣ فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ ۝٣٤ آیت ۳۴ میں ٱلْكُبْرَىٰ کا ٱلطَّآمَّةُ سے کیا تعلق ہے؟

  • یہ اس کا مفعول ہے
  • یہ اس کی صفت ہے
  • یہ حرفِ جر ہے
  • یہ اس کا فاعل ہے

سوال 4

يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا سَعَىٰ ۝٣٥ وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ ۝٣٦ بُرِّزَتِ کا نائب فاعل کون سا لفظ ہے؟

  • لِمَن
  • يَرَىٰ
  • مَا
  • ٱلْجَحِيمُ

سوال 5

فَأَمَّا مَن طَغَىٰ ۝٣٧ یہاں أَمَّا کیا شروع کرتا ہے؟

  • سادہ نفی
  • تفصیل کی پہلی قسم
  • جار و مجرور
  • قسم

سوال 6

وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا ۝٢٩ لَيْلَهَا اور ضُحَىٰهَا کی نحوی حیثیت کیا ہے؟

  • دونوں مفعول بہ ہیں؛ ہر لفظ کی متصل هَا مضاف الیہ ہے اور آسمان کی طرف لوٹتی ہے
  • دونوں فاعل ہیں
  • دونوں ظرفِ زمان ہیں
  • دونوں خبریں ہیں

سوال 7

أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا ۝٣١ مَآءَهَا اور مَرْعَىٰهَا کا أَخْرَجَ سے کیا نحوی تعلق ہے؟

  • دونوں ظاہر فاعل ہیں
  • پہلا ظرف اور دوسرا خبر ہے
  • دونوں پر مِنْ عمل کرتا ہے
  • مَآءَهَا مفعول بہ ہے اور مَرْعَىٰهَا اسی مفعول پر معطوف ہے

سوال 8

مَتَـٰعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ ۝٣٣ منصوب مَتَـٰعًا کیا معنی اور نحوی کام ادا کرتا ہے؟

  • محذوف فعل کا فاعل
  • مجرور صفت
  • غرض اور فائدہ، بطورِ مفعول لہ
  • منادی

سوال 9

يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا سَعَىٰ ۝٣٥ مَا سَعَىٰ میں مَا کیا ہے اور یہ ترکیب کیا کام کرتی ہے؟

  • مَا اسمِ موصول ہے اور پوری ترکیب يَتَذَكَّرُ کا مفعول بہ ہے
  • مَا حرفِ نفی ہے
  • مَا اسمِ استفہام اور فاعل ہے
  • یہ ترکیب يَوْمَ کی خبر ہے

تعاملی کوئز کھولیں