سورۃ النازعات — حصہ ٥
آیات ٣٨–٤٦ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ النازعات — حصہ ٥ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ النازعات، آیت ٣٨
وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا آیت کا خلاصہ اس نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی۔ جملے کی ترکیب وَءَاثَرَ، طَغَىٰ پر معطوف ہے۔ ٱلْحَيَوٰةَ اس کا مفعول بہ اور ٱلدُّنْيَا مفعول کی صفت ہے۔ وَءَاثَرَ — اور ترجیح دی گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ بابِ افعال، فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب اور پہلے فعل پر معطوف ہے۔ ٱلْحَيَوٰةَ — زندگی کو گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ منصوب، اسم اور نحوی طور پر مفعول بہ ہے۔ ٱلدُّنْيَا — دنیا کی گرامر: ٱل حرفِ تعریف ہے۔ منصوب صفت ہے۔
2. سورۃ النازعات، آیت ٣٩
فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ آیت کا خلاصہ ایسے شخص کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ جملے کی ترکیب فَإِنَّ پہلی أَمَّا والی شق کا جواب شروع کرتا ہے۔ ٱلْجَحِيمَ اسمِ إِنَّ اور منصوب ہے۔ بنیادی ترکیب میں هِىَ مبتدا اور ٱلْمَأْوَىٰ اس کی خبر ہے، اور پورا جملہ اسمیہ خبرِ إِنَّ ہے۔ ایک معروف دوسری ترکیب میں هِىَ ضمیرِ فصل ہے۔ فَإِنَّ — تو بیشک گرامر: فَ پہلی أَمَّا والی شق کا جواب شروع کرتا ہے، اور إِنَّ حرفِ مشبہ بالفعل ہے جو اپنے اسم کو نصب دیتا ہے۔ ٱلْجَحِيمَ — جہنم ہی گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ معرفہ اسمِ منصوب اور نحوی طور پر اسمِ إِنَّ ہے۔ هِىَ — وہ گرامر: بنیادی ترکیب میں واحد مؤنث غائب کی ضمیرِ منفصل اور مبتدا ہے، جبکہ ٱلْمَأْوَىٰ اس کی خبر ہے۔ ایک معروف دوسری ترکیب میں اسے ضمیرِ فصل مانا جاتا ہے۔ ٱلْمَأْوَىٰ — ٹھکانہ ہوگی گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ مرفوع، اسم اور نحوی طور پر خبر ہے۔
3. سورۃ النازعات، آیت ٤٠
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ آیت کا خلاصہ وہ اللہ کے سامنے حساب کے لیے کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو ناجائز خواہش سے روکا۔ جملے کی ترکیب وَأَمَّا دوسری شق کھولتا ہے۔ مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ اس شخص کو بیان کرتا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا، اور وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ اس کے نفس کو خواہش سے روکنے کا دوسرا وصف ہے۔ اس شق کا جواب آیت ۴۱ میں آتا ہے۔ وَأَمَّا — اور رہا گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ أَمَّا حرفِ تفصیل ہے۔ مَنْ — وہ جو گرامر: مبنی لفظ ہے جو ”وہ شخص جس نے“ کا معنی دیتا ہے؛ دوسری أَمَّا والی شق میں خَافَ اس کی وضاحت شروع کرتا ہے۔ خَافَ — ڈرا گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب ہے اور مَنْ کی وضاحت مکمل کرتا ہے۔ مَقَامَ — کھڑے ہونے سے گرامر: منصوب، اسم اور نحوی طور پر مفعول بہ ہے۔ رَبِّهِۦ — اپنے رب کے سامنے گرامر: مجرور، اسم اور نحوی طور پر مضاف الیہ ہے۔ ساتھ لگا هِۦ واحد مذکر غائب کی ضمیرِ متصل اور مضاف الیہ ہے۔ وَنَهَى — اور روکا اس نے گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب اور پہلے فعل پر معطوف ہے۔ ٱلنَّفْسَ — نفس کو گرامر: ٱل حرفِ تعریف ہے۔ منصوب، اسم اور نحوی طور پر مفعول بہ ہے۔ عَنِ — سے گرامر: عَنِ حرفِ جر ہے؛ اس سے بننے والا جار و مجرور اپنے متعلق سے وابستہ ہے۔ ٱلْهَوَىٰ — خواہشات (سے) گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ اسمِ مجرور ہے۔
4. سورۃ النازعات، آیت ٤١
فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ آیت کا خلاصہ ایسے شخص کا ٹھکانہ جنت ہوگا۔ جملے کی ترکیب فَإِنَّ دوسری أَمَّا والی شق کا جواب شروع کرتا ہے۔ ٱلْجَنَّةَ اسمِ إِنَّ اور منصوب ہے۔ بنیادی ترکیب میں هِىَ مبتدا اور ٱلْمَأْوَىٰ اس کی خبر ہے، اور پورا جملہ اسمیہ خبرِ إِنَّ ہے۔ ایک معروف دوسری ترکیب میں هِىَ ضمیرِ فصل ہے۔ فَإِنَّ — تو یقیناً گرامر: فَ دوسری أَمَّا والی شق کا جواب شروع کرتا ہے، اور إِنَّ حرفِ مشبہ بالفعل ہے جو اپنے اسم کو نصب دیتا ہے۔ ٱلْجَنَّةَ — جنت ہی گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ معرفہ اسمِ منصوب اور نحوی طور پر اسمِ إِنَّ ہے۔ هِىَ — وہ گرامر: بنیادی ترکیب میں واحد مؤنث غائب کی ضمیرِ منفصل اور مبتدا ہے، جبکہ ٱلْمَأْوَىٰ اس کی خبر ہے۔ ایک معروف دوسری ترکیب میں اسے ضمیرِ فصل مانا جاتا ہے۔ ٱلْمَأْوَىٰ — ٹھکانہ ہوگی گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ مرفوع، اسم اور نحوی طور پر خبر ہے۔
5. سورۃ النازعات، آیت ٤٢
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا آیت کا خلاصہ منکرین پوچھتے تھے کہ قیامت آخر کب قائم ہوگی۔ جملے کی ترکیب فعلیہ جملہ بتاتا ہے کہ وہ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا مقولۂ سوال ہے: اس کے قائم ہونے کا وقت کب ہے؟ يَسْـَٔلُونَكَ — وہ سوال کرتے ہیں آپ سے گرامر: فعلِ مضارع، جمع مذکر غائب۔ آخری حصے ونَ میں ”و“ واوُ الجماعة، ضمیرِ متصل اور محلِ رفع میں فاعل ہے، جبکہ ”نَ“ نونِ رفع ہے۔ ساتھ لگا كَ واحد مذکر حاضر کی ضمیرِ متصل اور مفعول بہ ہے۔ عَنِ — بارے میں گرامر: عَنِ حرفِ جر ہے؛ اس سے بننے والا جار و مجرور اپنے متعلق سے وابستہ ہے۔ ٱلسَّاعَةِ — قیامت کے گرامر: ٱل حرفِ تعریف ہے۔ اسمِ مجرور ہے۔ أَيَّانَ — کب ہے گرامر: ”کب“ کے معنی میں اسمِ استفہام اور ظرفِ زمان ہے جو محذوف خبرِ مقدم سے متعلق ہے؛ مُرْسَىٰهَا مبتدا مؤخر ہے۔ مُرْسَىٰهَا — اس کے قائم ہونے کا وقت گرامر: مُرْسَىٰ قیامت کے قائم ہونے کے معنی میں اسمِ مرفوع اور مبتدا مؤخر ہے؛ ساتھ لگی هَا مضاف الیہ کی ضمیر ہے جو قیامت کی طرف لوٹتی ہے۔
6. سورۃ النازعات، آیت ٤٣
فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ آیت کا خلاصہ قیامت کا وقت متعین کرکے بتانا رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری نہیں۔ جملے کی ترکیب فِيمَ، فِى اور استفہامی مَا سے بنا ہے؛ حرفِ جر کے بعد مَا کا الف حذف ہوگیا۔ معروف ترکیب میں فِيمَ محذوف خبرِ مقدم سے متعلق، أَنتَ مبتدا مؤخر، اور مِن ذِكْرَىٰهَا اسی خبر سے متعلق ہے۔ فِيمَ — کس (فکر) میں ہیں گرامر: حرفِ جر فِى اور استفہامی مَا سے بنا ہے؛ حرفِ جر کے بعد مَا کا الف حذف ہے، اور یہ ترکیب محذوف خبرِ مقدم سے متعلق ہے۔ أَنتَ — تو گرامر: أَنتَ ضمیر ہے۔ مِن — سے گرامر: مِن حرفِ جر ہے؛ اس سے بننے والا جار و مجرور اپنے متعلق سے وابستہ ہے۔ ذِكْرَىٰهَآ — اس کے ذکر سے گرامر: اسمِ مجرور ہے۔ ساتھ لگا هَآ واحد مؤنث غائب کی ضمیرِ متصل اور مضاف الیہ ہے۔
7. سورۃ النازعات، آیت ٤٤
إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ آیت کا خلاصہ قیامت کے وقت کا قطعی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ جملے کی ترکیب جار و مجرور إِلَىٰ رَبِّكَ خبر مقدم اور مرفوع مُنتَهَىٰهَآ مبتدا مؤخر ہے۔ إِلَىٰ — طرف گرامر: إِلَىٰ حرفِ جر ہے؛ اس سے بننے والا جار و مجرور اپنے متعلق سے وابستہ ہے۔ رَبِّكَ — تیرے رب کی گرامر: اسمِ مجرور ہے۔ ساتھ لگا كَ واحد مذکر حاضر کی ضمیرِ متصل اور مضاف الیہ ہے۔ مُنتَهَىٰهَآ — اس کی انتہاء ہے گرامر: مرفوع، اسم۔ ساتھ لگا هَآ واحد مؤنث غائب کی ضمیرِ متصل اور مضاف الیہ ہے۔
8. سورۃ النازعات، آیت ٤٥
إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَىٰهَا آیت کا خلاصہ رسول اللہ ﷺ قیامت سے خبردار کرتے ہیں؛ آخرت سے ڈرنے والے اس تنبیہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جملے کی ترکیب إِنَّمَآ حصر پیدا کرتا ہے۔ أَنتَ مبتدا، مُنذِرُ اس کی خبر، اور مَن يَخْشَىٰهَا کی موصولی ترکیب مُنذِرُ کے بعد محلِ جر میں ہے۔ إِنَّمَآ — صرف گرامر: إِنَّ کے ساتھ مَآ کافّہ ہے جو اس کا نحوی عمل روک دیتا ہے؛ دونوں مل کر حصر، یعنی ”صرف“ کا معنی دیتے ہیں۔ أَنتَ — تو گرامر: أَنتَ ضمیر ہے۔ مُنذِرُ — خبردار کرنے والا ہے گرامر: مرفوع، اسم اور نحوی طور پر خبر ہے۔ مَن — اس کو جو گرامر: مَن اسمِ موصول ہے؛ نحوی طور پر مضاف الیہ ہے۔ يَخْشَىٰهَا — ڈرتا ہو اس سے گرامر: فعلِ مضارع، واحد مذکر غائب؛ نحوی طور پر صلۂ موصول ہے۔ ساتھ لگا هَا واحد مؤنث غائب کی ضمیرِ متصل اور مفعول بہ ہے۔
9. سورۃ النازعات، آیت ٤٦
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا آیت کا خلاصہ قیامت دیکھ کر لوگوں کو دنیا میں اپنا قیام صرف ایک شام یا ایک صبح کے برابر محسوس ہوگا۔ جملے کی ترکیب كَأَنَّهُمْ تشبیہ شروع کرتا ہے۔ يَوْمَ يَرَوْنَهَا وقت بتاتا ہے، اور لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا... خبر ہے: انہیں لگے گا کہ وہ صرف ایک شام یا اس کی صبح بھر ٹھہرے تھے۔ كَأَنَّهُمْ — گویا کہ وہ گرامر: كَأَنَّ حرفِ مشبہ بالفعل ہے جو تشبیہ کا معنی دیتا ہے؛ اس کے ساتھ لگی هُمْ اس کا اسم ہے۔ يَوْمَ — جس دن گرامر: يَوْمَ ظرفِ زمان ہے؛ نحوی طور پر متعلق ہے۔ يَرَوْنَهَا — وہ دیکھ لیں گے اس کو ( تو کہیں گے گویا کہ) گرامر: فعلِ مضارع، جمع مذکر غائب۔ آخری حصے وْنَ میں ”و“ واوُ الجماعة، ضمیرِ متصل اور محلِ رفع میں فاعل ہے، جبکہ ”نَ“ نونِ رفع ہے۔ ساتھ لگا هَا واحد مؤنث غائب کی ضمیرِ متصل اور مفعول بہ ہے۔ لَمْ — نہیں گرامر: لَمْ حرفِ نفی و جزم ہے؛ لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا کا پورا فعلیہ جملہ خبرِ کأن ہے۔ يَلْبَثُوٓا۟ — وہ ٹھہرے گرامر: فعلِ مضارع، جمع مذکر غائب اور مجزوم ہے، اور خبرِ کأن بننے والے فعلیہ جملے کا فعل ہے۔ آخری حصے وٓا۟ میں ”و“ واوُ الجماعة اور فاعل کی ضمیر ہے؛ لَمْ کی وجہ سے نونِ رفع حذف ہے، جبکہ آخری الف امتیازی الف ہے۔ إِلَّا — مگر گرامر: إِلَّا حرفِ حصر ہے؛ نحوی طور پر حصر ہے۔ عَشِيَّةً — ایک شام گرامر: نکرہ، واحد مؤنث اسمِ منصوب اور ظرفِ زمان ہے: ایک شام۔ أَوْ — یا گرامر: أَوْ حرفِ عطف ہے۔ ضُحَىٰهَا — یا اس کی صبح گرامر: ضُحَىٰ ظرفِ زمان منصوب اور عَشِيَّةً پر معطوف ہے؛ ساتھ لگی هَا مضاف الیہ کی ضمیر ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ٣٨ فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ٣٩ ٱلدُّنْيَا کا ٱلْحَيَوٰةَ سے کیا تعلق ہے؟
- اس کا فاعل
- حرفِ جر
- اس کی صفت
- فعل
سوال 2
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ ٤٠ فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ٤١ آیات ۴۰–۴۱ مل کر کون سی ترکیب بناتی ہیں؟
- قسم اور اس کا مقسم بہ
- أَمَّا کی دوسری تفصیلی شق اور اس کا جواب
- دو غیر متعلق سوال
- صرف جار و مجرور
سوال 3
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ٤٢ فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ ٤٣ قرآنی لفظ فِيمَ کن دو اجزا سے بنا ہے؟
- فِى + مَنْ
- فَ + مَا
- مِن + مَا
- فِى + مَا
سوال 4
إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ ٤٤ إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَىٰهَا ٤٥ آیت ۴۵ میں إِنَّمَآ کیا معنی پیدا کرتا ہے؟
- حصر: آپ صرف خبردار کرنے والے ہیں
- ماضی کی نفی
- حکم
- قسم
سوال 5
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا ٤٦ يَلْبَثُوٓا۟ سے نون کیوں حذف ہے؟
- کیونکہ یہ فعلِ ماضی ہے
- کیونکہ لَمْ نے فعل کو مجزوم کیا ہے
- کیونکہ یہ واحد ہے
- کیونکہ یہ مجہول ہے
سوال 6
فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ٣٩ إِنَّ کے بعد ٱلْجَحِيمَ کی نحوی حیثیت کیا ہے؟
- إِنَّ کا مفعول بہ
- خبرِ إِنَّ
- حرفِ جر
- اسمِ إِنَّ، منصوب
سوال 7
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ٤٢ مقولۂ سوال میں أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا کی درست ترکیب کیا ہے؟
- دونوں الفاظ مفعول بہ ہیں
- أَيَّانَ حرفِ نفی ہے
- أَيَّانَ اسمِ استفہام اور ظرفِ زمان ہے جو محذوف خبرِ مقدم سے متعلق ہے؛ مُرْسَىٰهَا مبتدا مؤخر ہے۔
- مُرْسَىٰهَا فعلِ امر ہے
سوال 8
إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ ٤٤ إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ کی درست نحوی ترکیب کون سی ہے؟
- إِلَىٰ رَبِّكَ خبر مقدم اور مُنتَهَىٰهَآ مبتدا مؤخر ہے
- رَبِّكَ مفعول بہ ہے
- مُنتَهَىٰهَآ فعلِ ماضی ہے
- پوری آیت جملۂ شرطیہ ہے
سوال 9
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا ٤٦ اس آیت میں كَأَنَّ کی خبر کیا ہے؟
- صرف حرف لَمْ
- صرف يَوْمَ
- متصل هُمْ
- پورا فعلیہ جملہ لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا
سوال 10
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا ٤٦ عَشِيَّةً اور ضُحَىٰهَا کی نحوی حیثیت کیا ہے؟
- دونوں فاعل ہیں
- دونوں منصوب ظروفِ زمان ہیں؛ ضُحَىٰهَا، عَشِيَّةً پر معطوف ہے
- دونوں إِلَّا کے بعد مجرور ہیں
- پہلا فعل اور دوسرا اس کا مفعول ہے
تعاملی کوئز کھولیں