سورۃ الشمس — حصہ ٢

آیات ٩–١٥ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ الشمس — حصہ ٢ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ الشمس، آیت ٩

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّىٰهَا جملے کی ترکیب قَدْ، فعلِ ماضی أَفْلَحَ کی تحقیق کرتا ہے۔ مَن اس کا فاعل ہے؛ زَكَّىٰهَا صلۂ موصول، فاعل هُوَ مستتر اور هَا مفعول بہ ہے۔ آیت کا خلاصہ یقیناً کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔ قَدْ — یقیناً گرامر: فعلِ ماضی سے پہلے حرفِ تحقیق ہے۔ أَفْلَحَ — فلاح پا گیا گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے جس کا صریح فاعل مَن ہے۔ مَن — جس نے گرامر: اسمِ موصول ہے جو أَفْلَحَ کا فاعلِ مرفوع ہے۔ زَكَّىٰهَا — پاک کیا اس کو گرامر: صلۂ موصول میں بابِ تفعیل کا واحد مذکر فعلِ ماضی ہے؛ فاعل هُوَ مستتر اور هَا مفعول ہے۔

2. سورۃ الشمس، آیت ١٠

وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا جملے کی ترکیب وَقَدْ عطف اور تحقیق کے ساتھ خَابَ سے متعلق ہے۔ مَن اس کا فاعل اور دَسَّىٰهَا صلۂ موصول ہے جس کا فاعل مستتر اور هَا مفعول بہ ہے۔ آیت کا خلاصہ اور نامراد ہوا جس نے اپنے نفس کو خواہشات میں دبا دیا۔ وَقَدْ — اور یقیناً گرامر: وَ حرفِ عطف اور قَدْ اگلے فعلِ ماضی کی تحقیق کرتا ہے۔ خَابَ — ناکام ہوا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے جس کا صریح فاعل مَن ہے۔ مَن — جس نے گرامر: اسمِ موصول ہے جو خَابَ کا فاعلِ مرفوع ہے۔ دَسَّىٰهَا — دبا دیا اس کو گرامر: صلۂ موصول میں بابِ تفعیل کا واحد مذکر فعلِ ماضی ہے؛ فاعل مستتر اور متصل هَا مفعول ہے۔

3. سورۃ الشمس، آیت ١١

كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَىٰهَآ جملے کی ترکیب كَذَّبَتْ بابِ تفعیل کا واحد مؤنث فعلِ ماضی اور ثَمُودُ اس کا فاعلِ مرفوع ہے۔ بِطَغْوَىٰهَا فعل سے متعلق اور متصل هَا، طَغْوَىٰ کا مضاف الیہ ہے۔ آیت کا خلاصہ قومِ ثمود نے اپنی سرکشی کے سبب حق کو جھٹلایا۔ كَذَّبَتْ — جھٹلایا گرامر: بابِ تفعیل کا واحد مؤنث غائب فعلِ ماضی ہے جس کا صریح فاعل آگے ہے۔ ثَمُودُ — ثمود نے گرامر: اسمِ علم ہے جو كَذَّبَتْ کا فاعلِ مرفوع ہے۔ بِطَغْوَىٰهَآ — اپنی سرکشی کے ساتھ گرامر: بِ حرفِ جر؛ طَغْوَىٰ محلّاً مجرور اور متصل هَا مضاف الیہ ہے۔ یہ ترکیب «كَذَّبَتْ» سے متعلق ہے۔

4. سورۃ الشمس، آیت ١٢

إِذِ ٱنۢبَعَثَ أَشْقَىٰهَا جملے کی ترکیب إِذِ ظرفِ زمانِ ماضی ہے جو پچھلے بیان سے متعلق ہے۔ ٱنۢبَعَثَ بابِ انفعال کا فعلِ ماضی اور أَشْقَىٰهَا اس کا فاعلِ مرفوع ہے؛ هَا مضاف الیہ ہے۔ آیت کا خلاصہ ان کا سب سے بڑا بدبخت اس کام کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ إِذِ — جب گرامر: ظرفِ زمانِ ماضی ہے جو پچھلے بیان سے متعلق اور اگلا جملہ شروع کرتا ہے۔ اس ظرفی ترکیب کا تعلق «كَذَّبَتْ» سے ہے۔ ٱنۢبَعَثَ — اٹھا گرامر: بابِ انفعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے جس کا صریح فاعل آگے ہے۔ أَشْقَىٰهَا — سب سے بڑا بدبخت اس کا گرامر: مذکر اسمِ تفضیل مرفوع ہے جو فاعل ہے؛ متصل هَا مضاف الیہ ہے۔

5. سورۃ الشمس، آیت ١٣

فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ نَاقَةَ ٱللَّهِ وَسُقْيَـٰهَا جملے کی ترکیب فَقَالَ فعلِ ماضی ہے؛ رَسُولُ ٱللَّهِ اضافت کے ساتھ اس کا فاعل اور لَهُمْ فعل سے متعلق ہے۔ نَاقَةَ ٱللَّهِ وَسُقْيَـٰهَا فعلِ محذوف کے دو معطوف مفعول بہ منصوب ہیں جو تنبیہ بیان کرتے ہیں۔ آیت کا خلاصہ اللہ کے رسول صالحؑ نے انہیں اللہ کی اونٹنی اور اس کی پانی کی باری سے خبردار کیا۔ فَقَالَ — تو کہا گرامر: فَ حرفِ استئناف اور قَالَ واحد مذکر فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل آگے ہے۔ «قَالَ» کے ساتھ مفعولی جز محذوف مانا گیا ہے۔ لَهُمْ — ان کو گرامر: لِ حرفِ جر اور متصل هُمْ جمع مذکر ضمیرِ مجرور ہے؛ جار و مجرور قَالَ سے متعلق ہے۔ رَسُولُ — رسول نے گرامر: مذکر اسمِ مرفوع ہے جو قَالَ کا فاعل اور اگلے اسم کی طرف مضاف ہے۔ ٱللَّهِ — اللہ کے گرامر: اسمِ علم ہے جو رَسُولُ کا مضاف الیہ مجرور ہے۔ نَاقَةَ — اونٹنی ہے گرامر: مؤنث مفعول بہ منصوب ہے جو فعلِ محذوف سے متعلق اور اگلے اسم کی طرف مضاف ہے۔ ٱللَّهِ — اللہ کی گرامر: اسمِ علم ہے جو نَاقَةَ کا مضاف الیہ مجرور ہے۔ وَسُقْيَـٰهَا — اور پانی پلانا اس کو گرامر: وَ حرفِ عطف؛ سُقْيَا محلّاً منصوب اور نَاقَةَ پر معطوف ہے، جبکہ هَا مضاف الیہ ہے۔

6. سورۃ الشمس، آیت ١٤

فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنۢبِهِمْ فَسَوَّىٰهَا جملے کی ترکیب فَكَذَّبُوهُ اور فَعَقَرُوهَا میں متصل واو فاعل اور آخری ضمیر مفعول ہے۔ فَدَمْدَمَ کا فاعل رَبُّهُم ہے؛ عَلَيْهِمْ اور بِذَنۢبِهِمْ اس سے متعلق ہیں۔ فَسَوَّىٰهَا معطوف، فاعل مستتر اور هَا مفعول ہے۔ آیت کا خلاصہ پھر انہوں نے رسول کو جھٹلایا اور اونٹنی کو ہلاک کیا، تو رب نے گناہ کے سبب سب کو تباہ کردیا۔ فَكَذَّبُوهُ — تو انہوں نے جھٹلایا اس کو گرامر: فَ استئناف؛ كَذَّبُو بابِ تفعیل کا جمع مذکر فعلِ ماضی، متصل وا فاعل اور هُ مفعول ہے۔ فَعَقَرُوهَا — پھر کاٹ ڈالا اس کو گرامر: فَ حرفِ عطف؛ عَقَرُو جمع مذکر فعلِ ماضی، متصل وا فاعل اور هَا مفعول ہے۔ فَدَمْدَمَ — تو ہلاکت ڈالی گرامر: فَ سببیہ و نتیجہ اور دَمْدَمَ واحد مذکر فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل رَبُّهُم ہے۔ عَلَيْهِمْ — ان پر گرامر: عَلَىٰ حرفِ جر اور متصل هِمْ جمع مذکر ضمیرِ مجرور ہے؛ جار و مجرور دَمْدَمَ سے متعلق ہے۔ رَبُّهُم — ان کے رب نے گرامر: مذکر فاعلِ مرفوع ہے جو دَمْدَمَ کا فاعل ہے؛ متصل هُمْ مضاف الیہ ہے۔ بِذَنۢبِهِمْ — ان کے گناہوں کی وجہ سے گرامر: بِ حرفِ جر، ذَنۢبِ مذکر اسمِ مجرور اور هِمْ مضاف الیہ ہے؛ جار و مجرور دَمْدَمَ سے متعلق ہے۔ فَسَوَّىٰهَا — پھر برابر کردیا اس کو گرامر: فَ حرفِ عطف؛ سَوَّىٰ بابِ تفعیل، فاعل هُوَ مستتر اور متصل هَا مفعول ہے۔

7. سورۃ الشمس، آیت ١٥

وَلَا يَخَافُ عُقْبَـٰهَا جملے کی ترکیب وَ عطف اور لَا، مضارع مرفوع يَخَافُ کی نفی کرتا ہے؛ فاعل هُوَ مستتر ہے۔ عُقْبَـٰهَا مفعول بہ منصوب اور هَا مضاف الیہ ہے۔ آیت کا خلاصہ اور اللہ کو اس کارروائی کے کسی انجام یا انتقام کا اندیشہ نہیں۔ وَلَا — اور نہیں گرامر: وَ حرفِ عطف اور لَا مضارع مرفوع سے پہلے غیر عامل حرفِ نفی ہے۔ يَخَافُ — وہ ڈرتا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مرفوع ہے جس کا فاعل هُوَ مستتر ہے۔ عُقْبَـٰهَا — اس کے انجام سے گرامر: مؤنث مفعول بہ منصوب ہے جو يَخَافُ کا مفعول ہے؛ متصل هَا مضاف الیہ ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّىٰهَا ۝٩ أَفْلَحَ کے ساتھ مَن کیا ہے؟

  • فاعلِ مرفوع
  • مفعول بہ
  • خبر
  • حرفِ جر

سوال 2

وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا ۝١٠ وَقَدْ خَابَ میں قَدْ کیا کرتا ہے؟

  • جزم دیتا ہے
  • فعلِ ماضی کی تحقیق کرتا ہے
  • نصب دیتا ہے
  • استفہام شروع کرتا ہے

سوال 3

كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَىٰهَآ ۝١١ كَذَّبَتْ کے ساتھ ثَمُودُ کیا ہے؟

  • مفعول بہ
  • خبر
  • فاعلِ مرفوع
  • مضاف الیہ

سوال 4

إِذِ ٱنۢبَعَثَ أَشْقَىٰهَا ۝١٢ ٱنۢبَعَثَ کس باب سے ہے؟

  • بابِ تفعیل
  • بابِ افعال
  • ثلاثی مجرد
  • بابِ انفعال

سوال 5

فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ نَاقَةَ ٱللَّهِ وَسُقْيَـٰهَا ۝١٣ رَسُولُ کے بعد ٱللَّهِ کیا ہے؟

  • مضاف الیہ مجرور
  • فاعل
  • مفعول بہ
  • خبر

سوال 6

فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنۢبِهِمْ فَسَوَّىٰهَا ۝١٤ فَعَقَرُوهَا میں متصل وا کیا ہے؟

  • مفعول بہ
  • فاعل
  • مضاف الیہ
  • خبر

سوال 7

وَلَا يَخَافُ عُقْبَـٰهَا ۝١٥ يَخَافُ کے ساتھ عُقْبَـٰهَا کیا ہے؟

  • فاعل
  • خبر
  • مفعول بہ منصوب
  • صفتِ مجرور

تعاملی کوئز کھولیں