سورۃ التکاثر — حصہ ١
آیات ١–٨ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ التکاثر — حصہ ١ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ التکاثر، آیت ١
أَلْهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ ١ جملے کی ترکیب أَلْهَىٰ بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے۔ متصل كُم مفعول اور ٱلتَّكَاثُرُ اس کا فاعل مرفوع ہے۔ آیت کا خلاصہ زیادہ سے زیادہ دنیاوی چیزیں حاصل کرنے کی حرص نے تمہیں غافل کردیا۔ أَلْهَىٰكُمُ — تمہیں غافل رکھا گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی؛ متصل كُم جمع مذکر مخاطب مفعول ہے۔ ٱلتَّكَاثُرُ — زیادہ کی باہمی حرص گرامر: معرفہ مذکر مصدر، فاعل مرفوع ہے۔
2. سورۃ التکاثر، آیت ٢
حَتَّىٰ زُرْتُمُ ٱلْمَقَابِرَ ٢ جملے کی ترکیب حَتَّىٰ حدِ غایت بتاتا ہے۔ زُرْتُمُ جمع مذکر مخاطب فعلِ ماضی ہے، متصل تُم فاعل اور ٱلْمَقَابِرَ مفعول بہ منصوب ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ غفلت موت آنے اور قبروں تک پہنچنے تک جاری رہی۔ حَتَّىٰ — یہاں تک کہ گرامر: حرفِ غایت ہے جو پہلے عمل کی حد بتاتا ہے۔ زُرْتُمُ — تم نے زیارت کی گرامر: جمع مذکر مخاطب فعلِ ماضی؛ متصل تُم فاعل ہے۔ ٱلْمَقَابِرَ — قبروں کی گرامر: جمع مکسر معرفہ، زُرْتُمُ کا مفعول بہ منصوب ہے۔
3. سورۃ التکاثر، آیت ٣
كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ٣ جملے کی ترکیب كَلَّا حرفِ ردع ہے۔ سَوْفَ مستقبل بتاتا ہے اور تَعْلَمُونَ جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع ہے جس کی جمع والی علامت فاعل کو ظاہر کرتی ہے۔ آیت کا خلاصہ ہرگز نہیں، تمہیں بہت جلد اپنی غلط روش کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ كَلَّا — ہرگز نہیں گرامر: حرفِ ردع و زجر ہے۔ سَوْفَ — عنقریب گرامر: حرفِ استقبال ہے جو اگلے فعلِ مضارع کا زمانہ مستقبل بناتا ہے۔ تَعْلَمُونَ — تم جان لو گے گرامر: جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع ہے؛ واو الجماعة فاعل، آخری نَ افعالِ خمسہ کے مرفوع ہونے کی علامت، اور اس کا مفعول محذوف ہے۔
4. سورۃ التکاثر، آیت ٤
ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ٤ جملے کی ترکیب ثُمَّ ترتیب کے ساتھ عطف کرتا ہے۔ كَلَّا حرفِ ردع، سَوْفَ حرفِ استقبال اور تَعْلَمُونَ جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع ہے۔ آیت کا خلاصہ پھر ہرگز نہیں، تمہیں بہت جلد حقیقت معلوم ہوجائے گی۔ ثُمَّ — پھر گرامر: حرفِ عطف ہے جو تراخی کے ساتھ ترتیب بتاتا ہے۔ كَلَّا — ہرگز نہیں گرامر: حرفِ ردع و زجر ہے۔ سَوْفَ — عنقریب گرامر: فعلِ مضارع سے پہلے آنے والا حرفِ استقبال ہے۔ تَعْلَمُونَ — تم جان لو گے گرامر: جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع ہے؛ واو الجماعة فاعل، آخری نَ رفع کی علامت، اور اس کا مفعول محذوف ہے۔
5. سورۃ التکاثر، آیت ٥
كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ ٱلْيَقِينِ ٥ جملے کی ترکیب كَلَّا حرفِ ردع اور لَوْ غیر جازم حرفِ شرط ہے۔ تَعْلَمُونَ جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع ہے۔ عِلْمَ مفعول مطلق منصوب اور ٱلْيَقِينِ مضاف الیہ مجرور ہے۔ آیت کا خلاصہ ہرگز نہیں، اگر تم آخرت کو یقینی علم سے جانتے تو اس غفلت میں نہ رہتے۔ كَلَّا — ہرگز نہیں گرامر: حرفِ ردع و زجر ہے۔ لَوْ — اگر گرامر: حرفِ شرط غیر جازم ہے۔ تَعْلَمُونَ — تم جانتے گرامر: جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع، فعلِ شرط ہے؛ واو الجماعة فاعل ہے۔ عِلْمَ — یقینی علم کے ساتھ گرامر: مذکر مفعول مطلق منصوب جو تَعْلَمُونَ کی تاکید کرتا ہے؛ اگلے اسم کی طرف مضاف ہے۔ ٱلْيَقِينِ — یقین کا گرامر: معرفہ مذکر، عِلْمَ کا مضاف الیہ مجرور ہے۔
6. سورۃ التکاثر، آیت ٦
لَتَرَوُنَّ ٱلْجَحِيمَ ٦ جملے کی ترکیب لَتَرَوُنَّ میں شروع کا لَ اور آخر کی نونِ تاکید ثقیلہ فعلِ مضارع جمع مذکر مخاطب میں تاکید پیدا کرتے ہیں۔ ٱلْجَحِيمَ مفعول بہ منصوب ہے۔ آیت کا خلاصہ تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے۔ لَتَرَوُنَّ — تم ضرور دیکھو گے گرامر: مؤکد جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع ہے جس کا فاعل ضمیرِ مستتر «أَنْتُمْ» ہے؛ شروع کا لَ اور آخری نونِ تاکید ثقیلہ نَّ تاکید کے لیے ہیں۔ ٱلْجَحِيمَ — جہنم کو گرامر: معرفہ مؤنث، لَتَرَوُنَّ کا مفعول بہ منصوب ہے۔
7. سورۃ التکاثر، آیت ٧
ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ ٱلْيَقِينِ ٧ جملے کی ترکیب ثُمَّ عطف کے لیے ہے۔ لَتَرَوُنَّهَا مؤکد جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع ہے اور متصل هَا مفعول ہے۔ عَيْنَ مفعول مطلق منصوب اور ٱلْيَقِينِ مضاف الیہ مجرور ہے۔ آیت کا خلاصہ پھر تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھو گے۔ ثُمَّ — پھر گرامر: حرفِ عطف ہے جو تراخی کے ساتھ ترتیب بتاتا ہے۔ لَتَرَوُنَّهَا — تم اسے ضرور دیکھو گے گرامر: مؤکد جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع ہے جس کا فاعل ضمیرِ مستتر «أَنْتُمْ» ہے؛ لَ اور نَّ تاکید کے لیے اور متصل هَا اس کا مفعول ہے۔ عَيْنَ — آنکھوں کے یقین سے گرامر: مؤنث مفعول مطلق منصوب جو دیکھنے کی تاکید کرتا ہے؛ اگلے اسم کی طرف مضاف ہے۔ ٱلْيَقِينِ — یقین کا گرامر: معرفہ مذکر، عَيْنَ کا مضاف الیہ مجرور ہے۔
8. سورۃ التکاثر، آیت ٨
ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ ٨ جملے کی ترکیب ثُمَّ عطف کے لیے ہے۔ لَتُسْـَٔلُنَّ جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع مجہول مؤکد ہے۔ يَوْمَئِذٍ ظرفِ زمان اور عَنِ ٱلنَّعِيمِ سوال کیے جانے سے متعلق جار و مجرور ہے۔ آیت کا خلاصہ پھر اس دن تم سے دنیا میں ملی نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔ ثُمَّ — پھر گرامر: حرفِ عطف ہے جو تراخی کے ساتھ ترتیب بتاتا ہے۔ لَتُسْـَٔلُنَّ — تم سے ضرور پوچھا جائے گا گرامر: مؤکد جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع مجہول ہے جس کا نائب فاعل ضمیرِ مستتر «أَنْتُمْ» ہے؛ شروع کا لَ اور آخری نَّ تاکید کے لیے ہیں۔ يَوْمَئِذٍ — اس دن گرامر: مرکب مبنی ظرفِ زمان، محلِ نصب میں لَتُسْـَٔلُنَّ سے متعلق ہے۔ عَنِ — کے بارے میں گرامر: حرفِ جر ہے جو اگلے اسم کو مجرور کرتا ہے؛ عَنِ ٱلنَّعِيمِ کی ترکیب لَتُسْـَٔلُنَّ سے متعلق ہے۔ ٱلنَّعِيمِ — نعمتوں گرامر: معرفہ مذکر اسم، عَنِ کی وجہ سے مجرور ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
أَلْهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ ١ ٱلتَّكَاثُرُ کا نحوی محل کیا ہے؟
- فاعل مرفوع
- مفعول بہ منصوب
- مضاف الیہ مجرور
- ظرفِ زمان
سوال 2
حَتَّىٰ زُرْتُمُ ٱلْمَقَابِرَ ٢ ٱلْمَقَابِرَ کا نحوی محل کیا ہے؟
سوال 3
كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ٣ سَوْفَ کیا ظاہر کرتا ہے؟
سوال 4
ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ٤ یہاں ثُمَّ کیا ہے؟
- مفعول
- حرفِ استقبال
- حرفِ ردع
- حرفِ عطف
سوال 5
كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ ٱلْيَقِينِ ٥ عِلْمَ کا نحوی محل کیا ہے؟
- مفعول مطلق منصوب
- فاعل مرفوع
- صفت مجرور
- حرفِ شرط
سوال 6
لَتَرَوُنَّ ٱلْجَحِيمَ ٦ ٱلْجَحِيمَ کا نحوی محل کیا ہے؟
- فاعل
- مفعول بہ منصوب
- مضاف الیہ مجرور
- حرفِ عطف
سوال 7
ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ ٱلْيَقِينِ ٧ لَتَرَوُنَّهَا میں متصل هَا کیا ہے؟
- فاعل
- ضمیر مضاف الیہ
- ضمیر مفعول
- حرفِ استقبال
سوال 8
ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ ٨ لَتُسْـَٔلُنَّ کا صیغۂ فعل کیا ہے؟
- فعلِ ماضی معروف
- فعلِ امر معروف
- فعلِ مضارع معروف
- فعلِ مضارع مجہول
تعاملی کوئز کھولیں