سورۃ التکویر — حصہ ٣
آیات ١٧–٢٣ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ التکویر — حصہ ٣ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ التکویر، آیت ١٧
وَٱلَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ جملے کی ترکیب وَٱلَّيْلِ معطوف اسمِ قسم ہے۔ إِذَا ظرفِ زمان ہے، اور عَسْعَسَ کا جملہ اس کا مضاف الیہ ہے جس کا فاعل مستتر رات کی طرف لوٹتا ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ رات کی قسم بیان فرماتا ہے جب وہ پھیلتی یا رخصت ہوتی ہے۔ وَٱلَّيْلِ — اور رات کی گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ ٱلَّ حرفِ تعریف ہے۔ مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت معطوف۔ إِذَا — جب گرامر: إِذَا ظرفِ زمان؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ عَسْعَسَ — وہ رخصت ہوتی ہے گرامر: فعلِ ماضی معروف، واحد مذکر غائب ہے؛ فاعل مستتر رات کی طرف لوٹتا ہے۔
2. سورۃ التکویر، آیت ١٨
وَٱلصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ جملے کی ترکیب یہ قسم آیت 17 کے متوازی ہے۔ إِذَا ظرفِ زمان ہے، اور بابِ تفعّل تَنَفَّسَ کا فاعل مستتر صبح کی طرف لوٹتا ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ صبح کی قسم بیان فرماتا ہے جب اس کی روشنی نمودار ہونے لگتی ہے۔ وَٱلصُّبْحِ — اور صبح کی گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ ٱل حرفِ تعریف ہے۔ مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت معطوف۔ إِذَا — جب گرامر: إِذَا ظرفِ زمان؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ تَنَفَّسَ — وہ سانس لیتی ہے گرامر: بابِ تفعّل کا فعلِ ماضی معروف، واحد مذکر غائب ہے؛ فاعل مستتر صبح کی طرف لوٹتا ہے۔
3. سورۃ التکویر، آیت ١٩
إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ جملے کی ترکیب یہ اسمیہ جملہ قسم کا جواب ہے۔ إِنَّهُۥ میں ضمیر اسمِ إن ہے، جبکہ قَوْلُ لامِ تاکید کے ساتھ خبرِ إن مرفوع اور رَسُولٍ کی طرف مضاف ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ قرآن ایک معزز فرستادہ فرشتے کے ذریعے پہنچایا گیا کلام ہے۔ إِنَّهُۥ — بیشک وہ گرامر: إِنَّ حرفِ نصب و تاکید ہے؛ ساتھ لگی هُ اس کا اسم ہے۔ لَقَوْلُ — البتہ قول ہے گرامر: لَ لامِ تاکید ہے؛ قَوْلُ خبرِ إن مرفوع اور مضاف ہے۔ رَسُولٍۢ — ایک پیام بر کا گرامر: مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت مضاف الیہ۔ كَرِيمٍۢ — معزز گرامر: مجرور، صفت؛ نحوی حیثیت صفت۔
4. سورۃ التکویر، آیت ٢٠
ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى ٱلْعَرْشِ مَكِينٍ جملے کی ترکیب دونوں ذِى اسمائے خمسہ میں سے اور حالتِ جر میں ہیں۔ عِندَ ظرفِ مکان ہے، جبکہ مَكِينٍ رسول کی مزید مجرور صفت ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ فرشتہ بڑی قوت والا اور عرش کے مالک کے ہاں بلند مرتبہ رکھتا ہے۔ ذِى — والا ہے گرامر: رَسُولٍ کی مجرور صفت ہے؛ اسمائے خمسہ میں سے، یاء کے ساتھ مجرور اور مضاف ہے۔ قُوَّةٍ — قوت کا گرامر: مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت مضاف الیہ۔ عِندَ — نزدیک گرامر: ”نزدیک“ کے معنی میں منصوب ظرفِ مکان اور مضاف ہے۔ ذِى — والے کے گرامر: عِندَ کا مضاف الیہ ہے؛ اسمائے خمسہ میں سے، یاء کے ساتھ مجرور اور مضاف ہے۔ ٱلْعَرْشِ — عرش کا گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت مضاف الیہ۔ مَكِينٍۢ — بلند مرتبے والا گرامر: مجرور، صفت؛ نحوی حیثیت صفت۔
5. سورۃ التکویر، آیت ٢١
مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ جملے کی ترکیب مُّطَاعٍ اور أَمِينٍ رسول کی مزید مجرور صفات ہیں، جبکہ ثَمَّ ”وہاں“ کے معنی میں ظرفِ مکان ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ رسول وہاں مطاع اور امانت دار ہے۔ مُّطَاعٍۢ — کہا مانا گیا گرامر: بابِ افعال کا اسمِ مفعول اور رَسُولٍ کی مجرور صفت ہے۔ ثَمَّ — وہاں گرامر: ”وہاں“ کے معنی میں ظرفِ مکان ہے۔ أَمِينٍۢ — امانت دار ہے گرامر: مجرور، صفت؛ نحوی حیثیت صفت۔
6. سورۃ التکویر، آیت ٢٢
وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ جملے کی ترکیب مَا اسمیہ جملے کی نفی کرتا ہے۔ صَاحِبُكُم مرفوع ہے اور كُم مضاف الیہ، جبکہ بِمَجْنُونٍ میں بِ نفی کو مؤکد کرتا ہے۔ آیت کا خلاصہ تمہارے معروف ساتھی نبی کریم ﷺ ہرگز دیوانے نہیں ہیں۔ وَمَا — اور نہیں گرامر: وَ حرفِ استئناف اور مَا حرفِ نفی ہے؛ اس کے عمل کی تعیین میں معتبر اختلاف ہے۔ صَاحِبُكُم — ساتھ تمہارا گرامر: اسمِ مرفوع ہے؛ ساتھ لگی كُم جمع مذکر حاضر ضمیر اور مضاف الیہ ہے۔ بِمَجْنُونٍۢ — کوئی مجنون گرامر: تاکیدی بِ نفی کو مضبوط کرتا ہے؛ مَجْنُونٍ لفظاً مجرور اور خبر کے محل میں ہے۔
7. سورۃ التکویر، آیت ٢٣
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِٱلْأُفُقِ ٱلْمُبِينِ جملے کی ترکیب وَلَقَدْ میں استئناف، تاکید اور تحقیق جمع ہیں۔ رَءَاهُ فعلِ ماضی ہے، فاعل مستتر اور هُ مفعول بہ؛ افق کا جار و مجرور منظر کی جگہ بیان کرتا ہے۔ آیت کا خلاصہ نبی کریم ﷺ نے جبریل علیہ السلام کو کھلے افق پر واضح طور پر دیکھا تھا۔ وَلَقَدْ — اور البتہ تحقیق گرامر: وَ استئناف، لَ تاکید اور قَدْ فعلِ ماضی کی تحقیق کے لیے ہے۔ رَءَاهُ — اس نے دیکھا اس کو گرامر: فعلِ ماضی معروف، واحد مذکر غائب ہے؛ فاعل مستتر اور ساتھ لگی هُ مفعول بہ ہے۔ بِٱلْأُفُقِ — آسمان کے کنارے پر گرامر: بِ حرفِ جر ہے۔ ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت اسمِ مجرور۔ ٱلْمُبِينِ — کھلے گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ مجرور، صفت؛ نحوی حیثیت صفت۔
مشق کے سوالات
سوال 1
وَٱلَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ ١٧ عَسْعَسَ کا فاعل کیا ہے؟
- رات کی طرف لوٹنے والا ضمیرِ مستتر هُوَ
- ظاہر اسم ٱلَّيْلِ
- صبح
- ستارے
سوال 2
وَٱلصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ ١٨ تَنَفَّسَ کا فاعل کیا ہے؟
- ظاہر اسم ٱلصُّبْحِ
- رات
- رسول
- صبح کی طرف لوٹنے والا ضمیرِ مستتر هُوَ
سوال 3
إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ١٩ إِنَّهُۥ کے بعد قَوْلُ کیا ہے؟
- مفعول بہ
- صفت
- خبرِ إن
- اسمِ إن
سوال 4
ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى ٱلْعَرْشِ مَكِينٍ ٢٠ عِندَ ذِى ٱلْعَرْشِ والے دوسرے ذِى میں یاء کیوں ہے؟
- یہ مجزوم ہے
- یہ مجرور ہے اور اسمائے خمسہ میں سے ہے
- یہ منصوب ہے
- یہ تثنیہ ہے
سوال 5
مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ ٢١ یہاں ثَمَّ کیا ہے؟
- ظرفِ مکان، معنی: وہاں
- حرفِ عطف، معنی: پھر
- حرفِ نفی
- حرفِ شرط
سوال 6
وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ ٢٢ بِمَجْنُونٍ میں بِ کا کیا کام ہے؟
- سبب کا حرفِ جر
- حرفِ عطف
- حرفِ استفہام
- نفی کو مؤکد کرنے والا زائد حرفِ جر
سوال 7
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِٱلْأُفُقِ ٱلْمُبِينِ ٢٣ رَءَاهُ میں متصل هُ کیا ہے؟
- ضمیرِ مجرور
- خبر
- ضمیرِ مفعول بہ
- ضمیرِ فاعل
تعاملی کوئز کھولیں