سورۃ التکویر — حصہ ٤
آیات ٢٤–٢٩ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ التکویر — حصہ ٤ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ التکویر، آیت ٢٤
وَمَا هُوَ عَلَى ٱلْغَيْبِ بِضَنِينٍ جملے کی ترکیب مَا اسمیہ جملے کی نفی کرتا ہے۔ هُوَ مبتدا، عَلَى ٱلْغَيْبِ، ضَنِينٍ سے متعلق، اور تاکیدی بِ کی وجہ سے خبر لفظاً مجرور ہے۔ آیت کا خلاصہ نبی کریم ﷺ وحی اور غیب کی دی ہوئی خبروں کو لوگوں تک پہنچانے میں بخیل نہیں ہیں۔ وَمَا — اور نہیں گرامر: وَ حرفِ استئناف ہے۔ مَا حرفِ نفی ہے؛ یہاں بنیادی حجازی تجزیے میں لَيْسَ کی طرح عمل کرتا ہے۔ هُوَ — وہ گرامر: هُوَ ضمیر؛ نحوی حیثیت اسم ما ہے۔ عَلَى — پر گرامر: عَلَى حرفِ جر؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ ٱلْغَيْبِ — غیب گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت اسمِ مجرور۔ بِضَنِينٍۢ — ہرگز بخیل گرامر: تاکیدی بِ کی وجہ سے خبر ضَنِينٍ لفظاً مجرور ہے۔
2. سورۃ التکویر، آیت ٢٥
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَـٰنٍ رَّجِيمٍ جملے کی ترکیب منفی اسمیہ جملے میں هُوَ مبتدا ہے۔ قَوْلِ تاکیدی بِ کے بعد لفظاً مجرور خبر، شَيْطَـٰنٍ مضاف الیہ اور رَّجِيمٍ اس کی صفت ہے۔ آیت کا خلاصہ قرآن کسی مردود شیطان کا لایا ہوا کلام نہیں ہے۔ وَمَا — اور نہیں ہے گرامر: وَ اس جملے کو پچھلی نفی سے ملاتا ہے۔ مَا حرفِ نفی ہے؛ یہ کسی فعل کو مجزوم نہیں کرتا۔ هُوَ — وہ گرامر: هُوَ ضمیر؛ نحوی حیثیت اسم ما ہے۔ بِقَوْلِ — قول گرامر: تاکیدی بِ کی وجہ سے خبر قَوْلِ لفظاً مجرور ہے، اور یہ مضاف بھی ہے۔ شَيْطَـٰنٍۢ — شیطان گرامر: مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت مضاف الیہ۔ رَّجِيمٍۢ — مردود گرامر: مجرور، صفت؛ نحوی حیثیت صفت۔
3. سورۃ التکویر، آیت ٢٦
فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ جملے کی ترکیب أَيْنَ استفہامی ظرفِ مکان ہے۔ تَذْهَبُونَ افعالِ خمسہ کا جمع مذکر حاضر فعلِ مضارع ہے؛ آخر سے پہلے و واوُ الجماعة اور فاعل، جبکہ آخری ن حالتِ رفع کی علامت ہے۔ آیت کا خلاصہ ان روشن دلائل کے بعد حق سے ہٹ کر تم کدھر چلے جا رہے ہو۔ فَأَيْنَ — پھر کدھر گرامر: فَ استئناف یا نتیجے کے لیے ہے؛ أَيْنَ منصوب استفہامی ظرفِ مکان ہے۔ تَذْهَبُونَ — تم جارہے ہو گرامر: افعالِ خمسہ کا فعلِ مضارع، جمع مذکر حاضر ہے۔ آخر سے پہلے آنے والی و، واوُ الجماعة اور فاعل ہے، جبکہ آخری ن افعالِ خمسہ میں حالتِ رفع کی علامت ہے۔
4. سورۃ التکویر، آیت ٢٧
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَـٰلَمِينَ جملے کی ترکیب یہاں إِنْ غیر عامل حرفِ نفی ہے، شرطیہ نہیں۔ هُوَ مبتدا، إِلَّا حصر کے لیے اور ذِكْرٌ خبر مرفوع ہے۔ آیت کا خلاصہ قرآن تمام جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ إِنْ — نہیں گرامر: ”نہیں“ کے معنی میں غیر عامل حرفِ نفی ہے؛ یہاں شرطیہ نہیں۔ هُوَ — وہ گرامر: هُوَ واحد مذکر غائب ضمیرِ منفصل اور مبتدا ہے۔ إِلَّا — مگر گرامر: حرفِ حصر ہے جو نفی و استثناء کی ترکیب بناتا ہے۔ ذِكْرٌۭ — ایک نصیحت ہے گرامر: مرفوع، اسم؛ نحوی حیثیت خبر۔ لِّلْعَـٰلَمِينَ — جہان والوں کے لئے گرامر: لِّ حرفِ جر ہے۔ لْ حرفِ تعریف ہے۔ مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت اسمِ مجرور۔
5. سورۃ التکویر، آیت ٢٨
لِمَن شَآءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ جملے کی ترکیب لِمَن جار و مجرور اسمِ موصول، شَآءَ اس کا صلۂ موصول، اور أَن يَسْتَقِيمَ چاہنے کا مصدری مفعول ہے؛ يَسْتَقِيمَ، أَن کی وجہ سے منصوب ہے۔ آیت کا خلاصہ اس نصیحت سے وہی فائدہ اٹھاتا ہے جو سیدھی راہ چلنا چاہتا ہے۔ لِمَن — واسطے اس کو گرامر: لِ حرفِ جر اور مَن اسمِ موصول مجرور ہے؛ پورا جار و مجرور سابقہ مستحقین کا بدل ہے۔ شَآءَ — جو چاہے گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت صلۂ موصول۔ مِنكُمْ — تم میں سے گرامر: مِنْ حرفِ جر اور كُمْ اس کی ضمیرِ مجرور ہے؛ جار و مجرور مَن کی وضاحت کرتا ہے۔ أَن — کہ گرامر: أَن حرفِ مصدری و نصب ہے؛ پورا مصدری جملہ أَن يَسْتَقِيمَ، شَآءَ کا مفعول بہ بنتا ہے۔ يَسْتَقِيمَ — راہ راست پر چلے گرامر: بابِ استفعال کا فعلِ مضارع معروف، واحد مذکر غائب ہے اور أَن کی وجہ سے منصوب ہے۔
6. سورۃ التکویر، آیت ٢٩
وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ جملے کی ترکیب نفی اور استثناء کی ترکیب انسانی چاہت کو اللہ کی مشیت پر موقوف کرتی ہے۔ تَشَآءُونَ افعالِ خمسہ کا مرفوع فعل ہے؛ آخر سے پہلے و واوُ الجماعة اور فاعل، جبکہ آخری ن حالتِ رفع کی علامت ہے۔ يَشَآءَ، أَن کے بعد منصوب، اور ٱللَّهُ اس کا ظاہر فاعل ہے۔ آیت کا خلاصہ انسان کا ارادہ بھی اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب اللہ رب العالمین چاہے۔ وَمَا — اور نہیں گرامر: وَ حرفِ استئناف ہے۔ مَا غیر جازم حرفِ نفی ہے۔ تَشَآءُونَ — تم چاہ سکتے گرامر: افعالِ خمسہ کا فعلِ مضارع، جمع مذکر حاضر ہے۔ آخر سے پہلے آنے والی و، واوُ الجماعة اور فاعل ہے، جبکہ آخری ن افعالِ خمسہ میں حالتِ رفع کی علامت ہے۔ إِلَّآ — مگر گرامر: إِلَّآ أداة حصر؛ نحوی حیثیت حصر ہے۔ أَن — یہ کہ گرامر: أَن حرفِ مصدری و نصب ہے۔ يَشَآءَ — چاہے گرامر: فعلِ مضارع معروف، واحد مذکر غائب ہے اور أَن کی وجہ سے منصوب ہے۔ ٱللَّهُ — اللہ گرامر: لفظِ جلالہ، مرفوع اور يَشَآءَ کا ظاہر فاعل ہے۔ رَبُّ — جو رب ہے گرامر: ٱللَّهُ کی مرفوع صفت یا بدل ہے، اور مضاف ہے۔ ٱلْعَـٰلَمِينَ — سارے جہان والوں کا گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ مجرور، اسم؛ نحوی حیثیت مضاف الیہ۔
مشق کے سوالات
سوال 1
وَمَا هُوَ عَلَى ٱلْغَيْبِ بِضَنِينٍ ٢٤ ضَنِينٍ صورتاً مجرور کیوں ہے؟
- صفت ہونے کی وجہ سے
- باء زائدہ مؤکدہ کی وجہ سے
- فاعل ہونے کی وجہ سے
- اضافت کی وجہ سے
سوال 2
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَـٰنٍ رَّجِيمٍ ٢٥ قَوْلِ کے بعد شَيْطَـٰنٍ کیا ہے؟
- مضاف الیہ مجرور
- فاعل
- مفعول بہ
- خبر
سوال 3
فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ ٢٦ أَيْنَ کی نحوی حیثیت کیا ہے؟
- مفعول بہ
- فاعل
- حرفِ نفی
- اسمِ استفہام، ظرفِ مکان
سوال 4
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَـٰلَمِينَ ٢٧ اس آیت میں إِنْ کیا ہے؟
- حرفِ تاکید
- حرفِ جر
- حرفِ نفی
- حرفِ شرط
سوال 5
لِمَن شَآءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ ٢٨ يَسْتَقِيمَ کو نصب کس نے دیا؟
- فعل شَاءَ نے
- پہلے آنے والے حرف أَنْ نے
- حرفِ جر مِنْ نے
- حرفِ نفی إِنْ نے
سوال 6
وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٢٩ يَشَآءَ کا فاعل کون ہے؟
- ٱللَّهُ
- ٱلْعَـٰلَمِينَ
- ضمیر تم
- سیدھا راستہ
تعاملی کوئز کھولیں