حدیثِ معلل
سند یا متن کی پوشیدہ خامی حدیثِ معلل کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں
کبھی سند بظاہر درست ہوتی ہے، مگر تفصیلی تحقیق سے اس میں پوشیدہ خامی سامنے آتی ہے۔ • ایک حدیث کی مثال میں دیکھیں گے کہ راوی کے نام کا فرق کیسے سامنے آیا۔ • پھر معلل کی تعریف سمجھیں گے: ایسی پوشیدہ خامی جو حدیث کی صحت کو متاثر کرے۔ • سند میں خامی اور متن میں خامی کا فرق بھی واضح کریں گے۔
2. حدیث کی مثال
الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ترجمہ: خریدنے اور بیچنے والے کو اختیار ہے، جب تک وہ جدا نہ ہوں۔ یہاں اس حدیث کے تجارتی احکام کی تفصیل نہیں، اسے نقل کرنے والے راوی کے نام کا فرق سمجھنا ہے۔ 1. خیار: خرید و فروخت کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار۔
3. راوی کے نام میں فرق
سفیان ثوری سے یہ حدیث نقل کرنے والے شاگردوں کی روایت میں یہ فرق ہے: • یعلیٰ بن عبید: انہوں نے سند میں عمرو بن دینار کا نام ذکر کیا۔ • دوسرے تمام شاگرد: انہوں نے اسی جگہ عبداللہ بن دینار کا نام ذکر کیا۔ عمرو بن دینار اور عبداللہ بن دینار دو الگ راوی ہیں؛ یہ ایک ہی نام کے دو انداز نہیں۔
4. معلل کی تعریف
معلل وہ حدیث ہے جس کی سند بظاہر درست ہو، لیکن اس کی سند یا متن میں ایسی پوشیدہ خامی ہو جو اس کی صحت کو متاثر کرے۔ تعریف میں تین باتیں ساتھ ہیں: • سند بظاہر درست نظر آتی ہے۔ • خامی پوشیدہ ہوتی ہے؛ شروع میں نمایاں نہیں ہوتی۔ • وہ خامی صحت پر اثر ڈالتی ہے، محض بے اثر فرق نہیں ہوتی۔ 1. علت: یہاں ایسی پوشیدہ خامی مراد ہے جو صحت کو متاثر کرے۔
5. یہ مثال معلل کیوں ہے؟
اس مثال میں یعلیٰ بن عبید کی روایت میں عبداللہ بن دینار کی جگہ عمرو بن دینار کا نام آگیا ہے۔ • صرف ایک سند پڑھنے سے یہ غلطی نمایاں نہیں ہوتی۔ • سفیان ثوری کے دوسرے شاگردوں کی روایات سے مقابلہ کرنے پر نام کا فرق سامنے آتا ہے۔ • اس خاص سند کی خامی راوی کے نام میں ہے؛ خرید و فروخت والے جملے کے الفاظ میں نہیں۔
6. سند کی خامی اور متن
معلل کی تعریف میں سند اور متن دونوں کا ذکر ہے، کیونکہ پوشیدہ خامی ان میں سے کسی میں ہوسکتی ہے۔ اس مثال میں فرق واضح رکھیے: • خاص سند: راوی کا نام غلط آنے کی وجہ سے معلل ہے۔ • حدیث کا متن: اس مثال میں صحیح ہے؛ خاص سند کی غلطی سے متن کو بھی غلط نہیں کہا جائے گا۔ ہر سند کی خامی کا مطلب یہ نہیں کہ حدیث کے یہی الفاظ کہیں سے بھی صحیح ثابت نہیں۔
7. معلل کا لفظ
محدثین اس قسم کی حدیث کے لیے معلل کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یہاں اصل بات اس کا مفہوم ہے: بظاہر درست روایت میں صحت کو متاثر کرنے والی پوشیدہ خامی۔ 1. لفظی وضاحت: أَعَلَّ سے قواعد کے مطابق مُعَلّ بنتا ہے، جبکہ محدثین کے استعمال میں معلل بھی آتا ہے۔ 2. صرفی اصطلاحات: أَعَلَّ عربی فعل کی ایک بناوٹ، بابِ افعال، سے ہے۔ مُعَلّ اس کا اسمِ مفعول ہے، یعنی وہ لفظ جو فعل کا اثر قبول کرنے والی چیز کے لیے آتا ہے۔ یہاں پوری صرف پڑھنا لازم نہیں۔
8. خلاصہ
• معلل: بظاہر درست سند والی حدیث، جس کی سند یا متن میں صحت کو متاثر کرنے والی پوشیدہ خامی ہو۔ • اصل مثال: یعلیٰ بن عبید کی روایت میں عمرو بن دینار، جبکہ سفیان ثوری کے دوسرے شاگردوں کی روایت میں عبداللہ بن دینار کا نام ہے۔ • خامی کی جگہ: اس خاص سند میں راوی کا نام؛ اس مثال کا متن صحیح ہے۔ • اہم فرق: محض کوئی فرق نظر آنا کافی نہیں؛ معلل کی تعریف میں پوشیدہ اور صحت کو متاثر کرنے والی خامی مراد ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
معلل کی تعریف میں کس قسم کی خامی مراد ہے؟
- ایسا فرق جو صحت پر اثر نہ ڈالے۔
- پوشیدہ خامی جو صحت کو متاثر کرے۔
- صرف ترجمے کی مشکل۔
سوال 2
یعلیٰ بن عبید کی روایت میں کس راوی کا نام آیا ہے؟
- عمرو بن دینار
- عبداللہ بن دینار
- دونوں نام ایک ساتھ
سوال 3
اس مثال میں نام کی غلطی کیسے نمایاں ہوئی؟
- صرف ترجمہ پڑھنے سے۔
- متن کے الفاظ گننے سے۔
- دوسرے شاگردوں کی روایات سے مقابلہ کرنے پر۔
سوال 4
اس مثال کی خاص سند معلل ہونے سے کیا اس کا متن بھی غلط ہوجاتا ہے؟
- ہاں، سند کی ہر غلطی سے متن بھی غلط ہوجاتا ہے۔
- نہیں، اس مثال کا متن صحیح ہے۔
- یہاں متن کا کوئی جملہ دیا ہی نہیں گیا۔
سوال 5
معلل میں پوشیدہ خامی کہاں ہوسکتی ہے؟
- سند یا متن میں۔
- صرف ترجمے میں۔
- صرف صفحے کی ترتیب میں۔
سوال 6
اگر کوئی فرق صحت پر اثر ہی نہ ڈالے تو کیا اس فرق سے معلل کی تعریف پوری ہوجاتی ہے؟
- ہاں، ہر فرق کافی ہے۔
- ہاں، صرف الفاظ کی تعداد دیکھی جاتی ہے۔
- نہیں، صحت کو متاثر کرنے والی پوشیدہ خامی ضروری ہے۔
تعاملی کوئز کھولیں