مضطرب، مصحف اور محرف
متضاد روایتیں اور پڑھنے کی غلطی مضطرب، مصحف اور محرف کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں
کبھی ایک ہی روایت متضاد صورتوں میں نقل ہوتی ہے، اور کبھی پڑھتے وقت لفظ بدل جاتا ہے۔ یہ دو الگ مسئلے ہیں۔ • زکوٰۃ والی مثال سے متضاد روایتوں کا فرق سمجھیں گے۔ • شوال کے روزوں والی مثال میں ایک لفظ کے بدلنے کو دیکھیں گے۔ • پھر ان صورتوں کی تعریف اور روایت یا راوی پر ان کے اثرات پڑھیں گے۔
2. زکوٰۃ والی مثال
دو روایتوں کے یہ مختصر جملے دیکھیے: إِنَّ فِي الْمَالِ لَحَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔ لَيْسَ فِي الْمَالِ حَقٌّ سِوَى الزَّكَاةِ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ کوئی حق نہیں۔ پہلے جملے میں حق ہونے کا بیان ہے، دوسرے میں اس کی نفی ہے۔ یہاں اس فرق سے اضطراب سمجھنا ہے، زکوٰۃ کا فقہی مسئلہ طے کرنا نہیں۔
3. مضطرب کی تعریف
مضطرب وہ حدیث ہے جو متضاد صورتوں میں نقل ہو، اور ان روایتوں میں نہ موافقت پیدا کرنا ممکن ہو نہ کسی ایک کو ترجیح دینا۔ • روایتیں ایک دوسرے کے خلاف ہوں۔ • دونوں کو ایسے معنی پر نہ رکھا جاسکے جس میں اختلاف باقی نہ رہے۔ • کسی ایک روایت کو مضبوط دلیل سے راجح بھی نہ کہا جاسکے۔ 1. جمع و تطبیق: روایتوں کا ایسا مطلب واضح کرنا کہ دونوں میں ٹکراؤ نہ رہے۔ 2. ترجیح: دلیل کی بنا پر ایک روایت کو دوسری سے زیادہ قوی قرار دینا۔
4. اضطراب کا حکم
حدیثِ مضطرب ضعیف اور مردود ہے۔ البتہ اضطراب دور ہوجائے تو وہ استدلال کے قابل ہوسکتی ہے۔ • صرف الفاظ میں فرق دیکھ لینا کافی نہیں؛ تعریف کی دونوں شرطیں دیکھی جاتی ہیں۔ • جمع و تطبیق یا ترجیح ممکن ہوجائے تو اضطراب باقی نہیں رہتا۔ • اضطراب کا دور ہونا اور حدیث کی تمام شرطوں کے ساتھ صحیح ہونا ایک ہی بات نہیں۔ 1. قابلِ استدلال: دلیل کے طور پر پیش کیے جانے کے قابل؛ دوسری ضروری شرطیں بھی ملحوظ رہتی ہیں۔
5. چھ روزے یا کچھ روزے؟
روایت کا مختصر حصہ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے… اس مثال میں سِتًّا کو غلطی سے شَيْئًا پڑھ دیا گیا۔ • سِتًّا: چھ۔ • شَيْئًا: کچھ۔ یوں متعین تعداد بدل گئی۔ غلط پڑھا ہوا لفظ الگ دکھایا گیا ہے، حدیث کے اصل حصے میں نہیں ملایا گیا۔
6. مصحف اور محرف
سند یا متن کی عمومی صورت باقی ہو، مگر ایک یا چند حروف کے بدلنے سے ثقہ راوی کی روایت کے خلاف صورت بن جائے، تو یہاں مصحف و محرف کی بحث آتی ہے۔ • مصحف: نقطوں کی تبدیلی سے لفظ بدل جائے۔ • محرف: حرف کی شکل بدلنے کی صورت۔ • اصل مثال میں سِتًّا کا شَيْئًا پڑھا جانا تصحیف ہے۔ اضافہ یا الفاظ کی ترتیب بدلنے کے بجائے یہاں پڑھنے میں تبدیلی زیرِ بحث ہے۔
7. ایک غلطی اور بار بار غلطی
کبھی اتفاقاً تصحیف ہوجائے تو صرف اسی ایک غلطی سے راوی مجروح نہیں ہوجاتا۔ لیکن تصحیف بکثرت ہو تو راوی کے ضبط پر اثر پڑتا ہے، اور اس کی روایت غیر معتبر ہوجاتی ہے۔ • اتفاقی غلطی: کبھی پیش آنے والی غلطی۔ • کثرتِ غلطی: بار بار الفاظ غلط پڑھنا۔ ایک غلط پڑھا ہوا لفظ درست کرنا ضروری ہے، مگر اس سے راوی کی مجموعی حیثیت پر فوراً حکم نہیں لگایا جاتا۔ 1. ضبط: روایت کو درست محفوظ رکھنا اور درست نقل کرنا۔ 2. مجروح: یہاں راوی کی قابلِ اعتماد ہونے کی حیثیت پر علمی اعتراض ہونا۔
8. اصطلاحوں کے لفظی معنی
مضطرب کا تعلق اضطراب سے ہے، جس میں حرکت، تردد اور بے قراری کا معنی آتا ہے۔ حدیث کی اصطلاح میں اس کی خاص تعریف وہی ہے جو پہلے پڑھی ہے۔ مصحف کا تعلق تصحیف، یعنی پڑھنے کی غلطی سے ہے۔ 1. اسمِ فاعل: کام کرنے والے کو بتانے والی لفظی صورت؛ مضطرب اسی قسم کا لفظ ہے۔ اضطراب الموج میں موجوں کی حرکت مراد ہوتی ہے۔ 2. صحفی: اس اصطلاحی استعمال میں پڑھنے میں غلطی کرنے والا؛ یہاں اخباری صحافی مراد نہیں۔
9. شاذ اور منکر کا تعلق
شاذ اور منکر بھی مخالفتِ ثقات کی بحث میں شامل ہیں۔ ان کی تعریفیں پہلے آچکی ہیں، اس لیے یہاں دوبارہ پوری بحث نہیں دہرائی جارہی۔ اس سبق میں نیا فرق یہ ہے: • مضطرب: ایسی متضاد صورتیں جن میں تطبیق اور ترجیح ممکن نہ ہو۔ • تصحیف و تحریف: پڑھنے میں تبدیلی سے روایت کی صورت بدلنا۔
10. خلاصہ
• مضطرب: متضاد روایتیں؛ نہ تطبیق ممکن ہو نہ ترجیح۔ اضطراب دور ہونے سے حکم پر فرق پڑتا ہے۔ • مصحف: نقطوں کی تبدیلی؛ اصل مثال میں سِتًّا کی جگہ شَيْئًا پڑھا گیا۔ • محرف: حرف کی شکل بدلنے کی صورت۔ • راوی کا حکم: اتفاقی غلطی اور کثرتِ تصحیف ایک درجے کی بات نہیں۔ • روایت کا اختلاف اور راوی کی مجموعی قابلِ اعتماد حیثیت الگ الگ سمجھنی ہیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1
زکوٰۃ والی مثال کے دو جملوں میں کیا فرق ہے؟
- ایک حق ہونے کو کہتا ہے، دوسرا اس کی نفی کرتا ہے۔
- دونوں میں صرف راوی کے نام بدلتے ہیں۔
- دونوں میں چھ روزوں کا ذکر ہے۔
سوال 2
مضطرب میں اختلاف کے علاوہ کیا شرط ہے؟
- صرف روایت کا مختصر ہونا۔
- نہ تطبیق ممکن ہو نہ ترجیح۔
- صرف دو کتابوں میں ہونا۔
سوال 3
اضطراب دور ہوجائے تو کیا بات درست ہے؟
- ہر دوسری شرط بھی خود بخود پوری ہوگئی۔
- روایت ہمیشہ مردود ہی رہے گی۔
- وہ دوسری ضروری شرطوں کے لحاظ سے دلیل بن سکتی ہے۔
سوال 4
شوال والی مثال میں درست لفظ کون سا ہے؟
- سِتًّا
- شَيْئًا
- دونوں کو ایک معنی میں بدل سکتے ہیں۔
سوال 5
کسی راوی سے کبھی ایک تصحیف ہوجائے تو کیا وہ اسی سے مجروح ہوجاتا ہے؟
- ہاں، ہر ایک غلطی سے۔
- نہیں، اتفاقی غلطی اور کثرتِ غلطی میں فرق ہے۔
- اس غلط لفظ کو درست کرنا بھی ضروری نہیں۔
سوال 6
کثرتِ تصحیف راوی کی کس بات کو متاثر کرتی ہے؟
- صرف اس کے شہر کو۔
- صرف اس کی عمر کو۔
- اس کے ضبط اور روایت کی قابلِ اعتماد حیثیت کو۔
تعاملی کوئز کھولیں